میمو گیٹ کا پنڈورا باکس

ایبٹ آباد میں امریکا کا آپریشن غیرمعمولی نوعیت کا واقعہ ہے جس کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے

فوٹو؛ فائل

WUHAN:
میمو گیٹ اسکینڈل ایک بار پھر قومی اسمبلی میں زیربحث آنے سے حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان گرما گرمی کا ماحول پیدا ہو گیا ہے اور اس حوالے سے ایک دوسرے پر الزامات لگائے جا رہے اور اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے بدھ کو قومی اسمبلی میں پالیسی بیان میں امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے بیان کو قومی سلامتی کے منافی قرار دیتے ہوئے اس کی کھلے عام تحقیقات کے لیے تمام جماعتوں کے نمایندوں پر مشتمل پارلیمانی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا جب کہ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کمیشن قیام کے مطالبے کی حمایت کی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے، قائد حزب اختلاف کا صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ وہ غدار ہے اسے زیر بحث نہ لایا جائے۔

انھوں نے کہا کہ پیر کو وہ اس حوالے سے تفصیلی بیان دیں گے۔ اس معاملے کی چھان بین کے لیے پارلیمانی کمیشن بنایا جائے، اس ایوان کو بااختیار بنایا جائے اور اس مسئلے پر کھلے عام میڈیا کے سامنے تفتیش کی جائے، یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ اسامہ بن لادن کے حوالے سے ہونے والے آپریشن کی کس کس کو معلومات تھیں، ہماری قومی سلامتی مجروح ہوئی ہے، میمو گیٹ اسکینڈل میں جو ہمارا موقف تھا وہ ریکارڈ پر لائیں گے، سیکیورٹی اداروں کی کلیئرنس کے بغیر ہزاروں امریکیوں کو اتنے ویزے کیسے جاری کیے گئے۔

قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ حسین حقانی کے بیانات پر کمیشن ضرور بننا چاہیے اس سے پتہ چلے گا کہ کن لوگوں نے ملک میں دہشتگردی کو پروان چڑھایا۔ حسین حقانی کے انکشافات کے بعد غدار کہنا یا نہ کہنا بعد کی بات ہے، حسین حقانی معاملے کی تحقیقات اوپن کریں یا میڈیا کو بٹھائیں ہم حمایت کرتے ہیں۔ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی نے ہدایت کی کہ امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے بیان کے حوالے سے پارلیمانی کمیشن کے قیام کے لیے حکومت اور اپوزیشن مل کر ٹی او آرز طے کر کے تحریک لے آئیں جس کے بعد کمیشن کا اعلان کر دیا جائے گا۔


پاکستان میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اس حوالے سے بہت سے سوالات اٹھے اور یہ معاملہ قومی سلامتی کے حوالے سے اہمیت اختیار کر گیا۔ یقیناً ایبٹ آباد میں امریکا کا آپریشن غیرمعمولی نوعیت کا واقعہ ہے جس کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے۔ اس واقعے کے ساتھ ہی میمو اسکینڈل سامنے آیا جس نے قومی سیاست میں ایک بھونچال پیدا کر دیا' بعدازاں اس پر تحقیقات بھی شروع ہوئیں' حسین حقانی کو پاکستان طلب کر کے ان سے استعفیٰ لے لیا گیا' بعدازاں میمو اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں کیس چلا۔ اس کیس کی تفصیلات ملک کے فہمیدہ حلقے بخوبی جانتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے حسین حقانی کا نام ای سی ایل میں ڈال کر تحقیقات کے لیے 3رکنی عدالتی کمیشن تشکیل دیا۔ اس کمیشن میں کئی لوگوں کو بلا کر ان کے بیانات لیے۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں بہت سے انکشافات بھی کیے۔ بعدازاں حسین حقانی بیرون ملک چلے گئے۔

اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے نجی ٹی وی کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اسامہ پر جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ منظرعام پر آنی چاہیے' اس وقت ملک میں ایک جانب پاناما کیس چل رہا ہے تو دوسری جانب میمو گیٹ اسکینڈل کا پنڈورا بکس ایک بار پھر کھولنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔اس سے پاکستان کی مزید بھد اڑے گی۔ اسامہ بن لادن کے خلاف ہونے والے آپریشن کی تحقیقات کے لیے جو کمیشن تشکیل دیا گیا اس کی رپورٹ بھی منظرعام پر نہیں آئی۔ یوں اس معاملے کو سرد خانے کی نذر کر دیا گیا' اب ایک بار پھر یہ پاکستان کی سیاست میں چھایا ہوا ہے۔

میمو گیٹ کے حوالے سے پارلیمانی کمیشن ضرور تشکیل دیا جانا چاہیے لیکن ماضی کے تلخ تجربات اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ جب بھی کسی معاملے کو دبانا ہوتا ہے تو اس پر کمیشن تشکیل دے دیا جاتا ہے اور پھر اس کمیشن کی رپورٹ بھی منظر عام پر نہیں آتی۔ اگر حسین حقانی کے بیان کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیشن تشکیل دیا جاتا ہے تو اس کی رپورٹ جلد از جلد منظرعام پر آنی چاہیے کیونکہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے' پاکستان میں حساس اور قومی اہمیت کے ایشوز پر ہمیشہ بیان بازی کی جاتی ہے اور اس کو بطور سیاسی ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے' ایک معاملے پر ماضی میں اتنا کچھ ہو چکا ہے لیکن اس کے ذمے داروں کا باقاعدہ تعین نہیںکیا جا سکا' اب ایک بار پھر میمو گیٹ کے کردار میڈیا میں آ گئے ہیں اور گڑے مردے اکھاڑے جا رہے ہیں اور اس سارے کھیل میں بدنام ریاست' سیاستدان اور ادارے ہو رہے ہیں۔
Load Next Story