منتخب نمایندوں کا مکمل اتفاق

ہمیں پکا پکا یقین ہے کہ جب سے یہ دنیا بنی ہے اور انسان اسے بگاڑنے میں لگا ہوا ہے

barq@email.com

ہمیں پکا پکا یقین ہے کہ جب سے یہ دنیا بنی ہے اور انسان اسے بگاڑنے میں لگا ہوا ہے تب سے کوئی بھی ایسے دو انسان پیدا نہیں ہوئے ہوں گے جن کے درمیان مکمل طور پر اتفاق پایا گیا ہو اور یہ یقین ہمارا درجہ حق الیقین کی حد تک پہنچ کر پختہ ہو چکا تھا کہ انسانوں کے درمیان کبھی اتفاق سے بھی ایسا اتفاق نہیں ہوتاکہ مکمل اتفاق کی صورت نکل آئے، حتیٰ کہ میاں بیوی، جڑواں بھائیوں اور تڑواں بہنوں بلکہ بڑھواں والدین میں بھی یہ حادثہ کبھی رونما نہیں ہوا ہو گا اور تو اور کبھی دو ملاؤں کے درمیان بھی محض اتفاقاً ایسا نہیں ہو گا، لیکن اب ہمارا یہ یقین ٹوٹ پھوٹ کر بکھر چکا ہے۔

ہم قطعی غلطی پر تھے کیونکہ کچھ عرصے سے اتفاقاًکچھ ایسے اتفاقی واقعات رونما ہو رہے ہیں کہ جن میں اتفاق سے بلا کا اتفاق بلکہ ''یکجہتی'' پائی جاتی ہے جو اتفاق سے بھی زیادہ اسٹرانگ بتائی جاتی ہے، مثلاً ہماری ساری پارٹیوں اور لیڈروں میں ایک ''خاص'' دشمن کے خلاف مکمل اتفاق اور یکجہتی دیکھنے میں آرہی ہے اور مجال ہے جو ستر سال سے اس مکمل اتفاق اور یکجہتی میں اتفاق سے بھی کوئی نااتفاقی پائی گئی ہو، حالانکہ اکثر ان کے ''مشترکہ دشمن'' کو یہ غلط فہمی ہو جاتی ہے کہ ان کے درمیان اتفاق و یکجہتی کا رشتہ ٹوٹ چکا ہے لیکن جیسے ہی گلی کے سرے پر فقیر کی صدا آتی ہے ہر گلی سے آوازیں سنائی دینے لگتی ہیں، لیکن ہمارے اس یقین میں صرف یہ ہی ایک دراڑ نہیں پڑی ہے بلکہ جب ہم نے حسب عادت اپنے تحقیق کے ٹٹو کو دوڑایا تو پتہ چلا کہ ہمارا یقین ریت کی دیوار کی طرح ڈھے گیا اور بھی ایسی مثالیں سامنے آتی چلی گئیں کہ جن میں مکمل اتفاق اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔

مثال کے طور پر ابھی پچھلے دنوں جب صوبائی اسمبلی کے معزز ارکان اور قوم کے منتخب نمایندوں نے اپنی تنخواہیں اور مراعات مکمل اتفاق و یکجہتی کا مظاہرہ کر کے بڑھائیں تو ہمیں یقین ہو گیا کہ ہمارا یقین مکمل بے یقینی پر مبنی تھا، ظاہر ہے کہ اب مزید تحقیق ضروری ہو گئی تھی اور جب یہ تحقیق ہم نے مکمل کر لی تو بڑی شرمندگی ہوئی کہ اب تک ہم سراسر غلط فہمی میں پڑے ہوئے تھے۔ کسی دور دراز یعنی امریکا و یورپ کی تو ہم بات نہیں کر سکتے لیکن قرب و جوار میں نظر ڈالی تو پتہ چلا کہ سب سے پہلے تو ہم اپنے مسلمانوں کے بارے میں غلط سوچ رہے تھے کہ ان میں اتفاق کسی بات پر نہیں ہوتا ہے، توبہ توبہ اللہ معافی دے ہم کتنا غلط سوچ رہے تھے جب کہ ہمارے سامنے ہی سارے مسلمان اس بات پر مکمل اتفاق رکھتے ہیں کہ چاہے کچھ ہو جائے زمین پھٹ جائے آسمان ٹوٹ پڑے لیکن ہم کبھی آپس میں اتفاق نہیں کریں گے حالانکہ اس متفقہ اتفاق کو ایک عرصہ گزر گیا، حکومتیں آئیں اور مٹ گئیں لوگ آئے اور اپنی اپنی بولیاں بول کر چلے گئے لیکن مجال ہے جو اس اتفاق میں فرق آیا ہو کہ ہم اتفاق بالکل نہیں کریں گے، ایک مرتبہ ''اتفاق نہ کرنے'' پر اتفاق ہو چکا ہے تو ہو چکا ہے اب یہ اتفاق کبھی نہ ٹوٹے

دل ٹٹدا اے تے ٹٹ جائے بندیا چمکے گی

اس اتفاق نہ کرنے پر مکمل اتفاق کا معاہدہ کئی بحرانوں سے گزرا ایسے لوگ آئے ایسی تنظیمیں بنیں اور بگڑیں جو اس اتفاق نہ کرنے پر اتفاق کو توڑنے میں لگے رہے ''جنگ ہفتاد و دوملت'' سے بات سیکڑوں فرقوں تک پہنچی بلکہ تقریباً ہر مسجد و مدرسے اور ایک ایک لاؤڈ اسپیکر کے فرقے بنے لیکن معاہدہ ویسے کا ویسا ہی قائم و دائم ہے جیسا کہ روز اول یعنی سیکڑوں سال پہلے ہوا تھا ۔ اگرچہ اس کے مقابلے میں حکومتوں، وزیروں اور منتخب نمایندوں کا اتفاق اتنا مستقل اتفاق نہیں ہے جو اپنے ''دشمنوں'' کے خلاف ہوتا رہتا ہے لیکن پھر بھی اس میں خاص بات یہ ہے کہ یہ اتفاق بھی مستقل ہے اور کبھی نہیں ٹوٹتا ہے، حالانکہ ان کے درمیان بھی مسلمانوں اور پشتونوں کی طرح اور کسی بھی بات پر اتفاق نہیں ہوتا بلکہ جب بھی دیکھ آپس میں گلی گلی لڑتے رہتے ہیں لیکن جب بھی متفقہ دشمن کے خلاف جنگ کا نقارہ بجتا ہے تو اگر ایک دوسرے کے گلے میں ''منہ'' بھی ہو تو سب چھوڑ چھاڑ کے ''غنیم کی گلی'' کا رخ کر دیتے ہیں


آگیا عین لڑائی میں اگر وقت ''محاذ''

''کوچہ رو'' ہو کے کھڑے ہو گئے اور ہم آواز

نہ کوئی لنگڑا رہا اور نہ کوئی کھجلی باز

کسی بزرگ نے اس لیے تو کہا ہے کہ ''مرغے'' کو کوڑے میں منہ مارتے ہوئے مت دیکھو بلکہ اسے پلیٹ میں دیکھو، چنانچہ ایسے ہی یہ بھی فاضل اوقات میں ہمیشہ کوڑے کے ''ڈھیر'' پر منہ ماری کرتے نظر آئے ایک دوسرے پر منفی تنقید کرتے سنائی دیں گے آپس میں ''ہڈی'' پر طرح طرح کے مقدمات لڑ کر عدالتوں کا وقت برباد کرتے ہوئے ملیں گے ایک دوسرے کے خلاف طرح طرح کے جلسے جلوس، دھرنے پھرنے'' اور پانامے سالنامے کرتے ہوئے مصروف ہوں گے لیکن جب بھی جہاں بھی دشمن کے خلاف بگل بجا اور ''مکمل اتفاق'' کا ترانہ شروع ہو گیا یا اپنی تنخواہیں مراعات کی بات آئی آپس میں یک جان و دو قالب ہو جائے جب ایسا کوئی مسئلہ ایوان میں زیر بحث ہوتا ہے اس وقت سب کے سب نہایت اتفاق اور یکجہتی کے ساتھ اپنی چھینک اپنی کھانسی بلکہ سانس تک روکے رکھتے ہیں کہ کہیں اسے نااتفاقی اور اختلاف پر محمول نہ کیا جائے اور اسے ہمیشہ کے لیے ''برادری'' سے کک آؤٹ نہ کیا جائے بلکہ باقی سب اس پر مکمل اتفاق اور یکجہتی کے ساتھ ہلہ نہ بول دیں۔

ایسے ''مواقع'' (اس مواقع کے لفظ کو پکی سیاہی سے نوٹ کیا جائے) پر نہ صرف اتفاق و یکجہتی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے بلکہ ایوان کی حاضری بھی حیرت انگیز حد تک مکمل ہوتی ہے، ہماری ان باتوں سے کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ ہم ان پرطنز کر رہے ہیں یا کوئی اور اشارہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ ہم تو اس اتفاق اور یکجہتی بلکہ قومی یکجہتی اور سلامتی پر عش عش کر رہے ہیں ۔ صرف خدمات ہی خدمات ۔ ایسے میں ان کا ''دانہ پانی'' تو قوم پر واجب ہوتا ہے کہ یہ لوگ یکسو ہو کر ''خدمات'' میں مصروف رہیں اگر وقت پر ان کے دانے پانی میں کوئی کمی یا رکاوٹ آئے گی تو یقیناً یہ پریشان ہوں گے اور اگر پریشان ہوں گے تو خدمات پر لازماً اثر پڑے گا ۔ آخر میں شاید بلکہ یقیناً آپ یہ سوچیں گے کہ ان کا مشترکہ دشمن کون ہے اورآپ سے یہی توقع کی بھی جا سکتی ہے ورنہ ستر سال میں غبی سے غبی آدمی بھی ایسی باتیں سمجھ لیتا ہے اور کچھ بھی نہ سہی کم از کم آئینہ دیکھنا تو اسے آہی جاتا ہے۔
Load Next Story