فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع پر اتفاق

پیپلز پارٹی نے جو 9 مطالبات پیش کیے ان میں سے 4کو تسلیم کیا گیا

فوٹو : فائل

ISLAMABAD:
یہ امر خوش آیند ہے کہ پیپلز پارٹی سمیت تمام پارلیمانی جماعتوں نے فوجی عدالتوں کی مدت میں 2 سال کی توسیع پر اتفاق کر لیا ہے' یوں اس معاملے پر خاصے دنوں سے جاری ابہام دور ہو گیا ہے۔ فوجی عدالتوں میں توسیع کے حوالے سے مشاورتی اجلاس جمعرات کو اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا۔ اس اجلاس میں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں اور وفاقی وزراء نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد اسپیکر نے پارلیمانی رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے 9 میں سے 4 نکات پر اتفاق ہو گیا ہے، فوجی عدالتوں کو دو سال کی مشروط توسیع دینے پر اتفاق ہوا ہے، اس سارے عمل پر پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے ذریعے نظر رکھی جائے گی، فوجی عدالتوں میں توسیع کے حوالے سے بل پیر کو قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد سینیٹ میں پیش کیا کر دیا جائے گا اور منگل کو منظوری ہو جائے گی۔ فوجی عدالتوں میں توسیع کے حوالے سے پارلیمانی سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے مثبت پیش رفت ہے' قرائن یہی نظر آتے تھے کہ اس معاملے پر بہرحال اتفاق ہو جائے گا البتہ ہر اسٹیک ہولڈر اپنی اپنی اہمیت بھی جتانا چاہتا ہے اور جہاں تک ممکن ہو سکے اپنے مطالبات کو بھی منوانا چاہتا ہے۔ پیپلز پارٹی نے جو 9 مطالبات پیش کیے ان میں سے 4کو تسلیم کیا گیا ہے۔ جے یو آئی جماعت اسلامی کے تحفظات برقرار ہیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی کے بقول جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جماعت اسلامی کو لفظ ''مذہب کے استعمال'' پر کچھ تحفظات ہیں لہٰذا بل میں ''مذہب کے غلط استعمال'' کا لفظ شامل کیا جائے گا، تاہم مذہب کے لفظ پر جے یوآئی (ف)، جماعت اسلامی سے مزید بات کرنے کی ضرورت ہے۔ امید یہی ہے کہ ان دونوں جماعتوں کے تحفظات بھی دور کر دیے جائیں گے۔ پیپلز پارٹی کی جو تجاویز منظور ہوئی ہیں' ان کے مطابق ملزم کو 24 گھنٹوں میں ریمانڈ کے لیے پیش کیا جائے گا اور گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ کیا جائے گا، ملزم کو اپنا وکیل کرنے کا اختیار ہوگا جب کہ فوجی عدالتوں کے ٹرائل میں قانون شہادت کا اطلاق ہوگا۔


پیپلز پارٹی سیشن جج کی سربراہی میں فوجی عدالت قائم کرنے کے مطالبے سے دستبردار ہوگئی ہے، آرٹیکل 199 کے تحت جوڈیشل ریویو کی تجویز سے بھی دستبردار ہو گئے ہیں کیونکہ یہ اختیار عدلیہ نے پہلے ہی دے رکھا ہے۔ پارلیمانی سیکیورٹی کمیٹی کا مطالبہ مان لیا گیا ہے، کمیٹی کا مینڈیٹ فوجی عدالتوں کے ساتھ ملکی قومی سلامتی سے متعلق امور پر نظر رکھنا ہوگا۔ یہ ایسے مطالبات ہیں جن پر عملدرآمد سے فوجی عدالتوں کی کارکردگی یا ان کے دائرہ اختیار پر زیادہ اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فوجی عدالتوں کے معاملہ پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے سب نے لچک کا مظاہرہ کیا ہے، ہم توقع کرتے ہیں کہ اس قانون کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ اس بات پراتفاق ہوا کسی خاص مذہبی طبقے کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا، آج پھر ثابت ہوا ہے جمہوریت کے نتائج ہمیشہ اچھے نکلتے ہیں۔

پاکستان کو جس قسم کے حالات کا سامنا ہے' اس سے عہدہ برا ہونے کے لیے غیرمعمولی فیصلے کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا' پارلیمانی پارٹیوں نے دہشت گردی کی سنگینی کو سامنے رکھتے ہوئے جس لچک کا مظاہرہ کیا ہے' اس سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ ہمارے پارلیمنٹیرینز اور سیاسی جماعتیں دہشت گردی کے خطرات کو محسوس کر رہی ہیں۔

جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے جو تحفظات ہیں انھیں بھی خوش دلی سے دور کیا جانا چاہیے' اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کوئی بھی قانون یا ادارہ عوام کے لیے ہوتا ہے' عوام اس کے لیے نہیں ہوتے۔ فوجی عدالتوں کے حوالے سے سوسائٹی کے مختلف طبقوں کو جو تحفظات ہیں وہ دور ہونے چاہئیں اور اس کا ٹارگٹ صرف اور صرف دہشت گرد ہونے چاہئیں' دین اور مذہب کے نام پر جو سیاسی جماعتیں ملک میں کام کر رہی ہیں' اس حوالے سے ان پر بہت زیادہ ذمے داری عائد ہوتی ہے' انھیں کسی ایسے معاملے' ایشو یا خیال کی حمایت نہیں کرنی چاہیے جس کا فائدہ کسی نہ کسی رنگ میں دہشت گردوں یا ان کے سہولت کاروں کو پہنچے' ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان دہشت گردوں کے ہاتھوں بہت زخم کھا چکا ہے۔

عالمی ممالک کا دباؤ بھی وطن عزیز پر مسلسل بڑھ رہا ہے' اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ملک میں سرگرم عمل دہشت گرد گروہ مذہب کی آڑ بھی لیتے ہیں لہٰذا مذہبی جماعتوں کو اس حوالے سے اپنی پالیسی میں موجود اسقام کا بالغ نظری' دور اندیشی اور زیرکی سے جائزہ لینا ہو گا۔فوجی عدالتوں کے قیام سے یقینی طور پر دہشت گردی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
Load Next Story