پاکستان اور افغانستان حقائق کی دنیا میں قدم رکھیں

پاکستان اور افغانستان دہشت گردی کے جس عذاب کا شکار ہیں اس کی ایک وجہ اس سرحد کو کھلا رکھنا بھی ہے

۔ فوٹو؛ فائل

افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کی سرحدی چوکیوں میں دہشت گردوں کے حملے مسلسل جاری ہیں اور افغانستان کی فورسز ان دہشت گردوں کو روکنے میں ناکام چلی آ رہی ہیں۔ گزشتہ روز افغانستان سے دہشت گردوں نے خیبر ایجنسی میں پاک افغان سرحد پر لوئے سلیمان کی ایف سی چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 2 اہلکار شہید اور 4 زخمی ہو گئے۔ جوابی کارروائی میں 8 دہشت گرد مارے گئے۔

ادھر گزشتہ روز ہی خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ کے ایک قصبے شبقدر میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے ٹریننگ سینٹر پر خودکش حملے کی کوشش کی گئی۔ ٹریننگ سینٹر کی حفاظت پر مامور سیکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کر کے ایک خودکش حملہ آور کو ہلاک کر دیا جب کہ دوسرے نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس کے نتیجے میں ایک سپاہی شہید ہو گیا۔

پاک افغان سرحد کو کھلا چھوڑ دینے کا نقصان اب دونوں ملک اٹھا رہے ہیں۔ سرد جنگ کے دور میں سوویت یونین کو شکست دینے کے لیے افغانستان کو میدان جنگ بنایا گیا اور اس جنگ کو کمک پہنچانے کے لیے پاک افغان سرحد کو کھلا چھوڑ دیا گیا تھا۔ سوویت یونین کو شکست دینے کا مقصد تو پورا ہو گیا لیکن پاکستان اور افغانستان ایک نئی طرح کے عذاب میں پھنس گئے۔ ایک جانب افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بھانت بھانت کے مجاہدین قیام پذیر ہو گئے اور دوسری جانب پاک افغان سرحد پر کوئی روک ٹوک نہ ہونے کی بناء پر دہشت گردوں، اسلحہ، منشیات اور انسانی اسمگلروں کی چاندی ہو گئی۔

پاکستان اور افغانستان دہشت گردی کے جس عذاب کا شکار ہیں اس کی ایک وجہ اس سرحد کو کھلا رکھنا بھی ہے۔ پاکستان میں تو اعلیٰ سطح پر اس کا احساس ہو گیا ہے اور حکومت پاکستان پاک افغان بارڈر مینجمنٹ پر خاصی توجہ دے رہی ہے۔ افغانستان سے دہشت گردوں کی مسلسل آمد سے پاکستان کے لیے جو خطرات پیدا ہوئے ہیں اس کی وجہ سے پاک افغان سرحد پر جانچ پڑتال کو سخت کیا گیا ہے اور سرحد کو بند بھی کر دیا جاتا ہے۔ اس اقدام سے واویلا بھی مچایا جاتا ہے لیکن بعض بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جس کی سرجری کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔

بدقسمتی سے افغانستان کی انتظامیہ پاک افغان بارڈر مینجمنٹ کے بارے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔ پاکستان جب سرحد پر باڑ لگانے کی بات کرتا ہے تو اس کی مخالفت کی جاتی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ افغانستان میں جب دہشت گردی کی واردات ہوتی ہے تو افغانستان کے صدر اور چیف ایگزیکٹو پاکستان پر انگلی اٹھانے میں دیر نہیں لگاتے۔ اصولی اور استدلالی نقطہ نظر سے افغانستان کی انتظامیہ کو پاک افغان سرحد کو کھلا چھوڑنے کی مخالفت کرنی چاہیے۔


اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اگر پاک افغان سرحد پر سخت حفاظتی اقدامات ہوں، آمد ورفت کے لیے مسلمہ عالمی ضوابط کی پیروی ہو، سرحد کی پیدل کراسنگ پر پابندی ہو تو دونوں ملک دہشت گردی پر باآسانی قابو پا سکتے ہیں۔ دونوں ملکوں کی سیاسی قیادت، اسٹیبلشمنٹ اور کاروباری اسٹیک ہولڈرز کو روایتی سوچ اور تعصب سے باہر نکل کر حقیقت کی دنیا میں قدم رکھنا چاہیے۔ نسل، قبائلی، لسانی اور علاقائی وثقافتی عصبیتیں اپنی جگہ رہیں لیکن ریاستوں کی سرحدوں کا تعین کرنا اور انھیں محفوظ بنانا سب کے فائدے میں ہوتا ہے۔

سگے بھائی بھی الگ ہو کر اپنے اپنے گھروں کی علیحدہ دیواریں اور دروازے بناتے ہیں اور ایک دوسرے کے ہاں آنے جانے کے لیے وہی ضوابط اختیار کیے جاتے ہیں جو معاشرے نے استوار کر رکھے ہوتے ہیں لہٰذا پاکستان اور افغانستان کو حقائق کی دنیا میں واپس آنا چاہیے اور اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے اپنے اپنے حصے کا پوری سنجیدگی کے ساتھ کردار ادا کرنا چاہیے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ پاک افغان کشیدگی دور کرنے کے لیے برطانیہ اور چین نے بھی سہولت کار کا کردار ادا کرنے کی پیش کش کی ہے۔

لندن میں بھی گزشتہ دنوں پاکستان کے مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز اور افغان مشیر قومی سلامتی حنیف آتمر کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ میڈیا کے مطابق ان مذاکرات میں دہشت گردی کے خلاف دونوں ملکوں کی مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جسے مثبت سمت میں پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ سرحد کی بندش کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان لندن میں یہ پہلا باقاعدہ رابطہ ہے جسے ممکن بنانے میں برطانوی مشیر قومی سلامتی اور پاکستان میں برطانیہ کے سابق ہائی کمشنر سر مارک لائل گرانٹ نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

اگرچہ بدھ کو ہونے والی بات چیت کے بارے میں برطانوی دفتر خارجہ مہر بہ لب ہے لیکن غیرسرکاری ذرائع پرامید ہیں کہ اس کے نتیجے میں باہمی اعتماد کی فضا بحال ہونے اور تلخیاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔ توقع کی جانی چاہیے کہ لندن مذاکرات کے نتیجے میں کابل حکومت بارڈر مینجمنٹ کے لیے پاکستان سے تعاون کرے گی تا کہ دہشت گردوں کے خلاف جو دونوں ملکوں کے مشترکہ دشمن ہیں، فیصلہ کن کارروائی کی جا سکے۔

 
Load Next Story