پاک بھارت مذاکرات کی بحالی کی ضرورت

پاک بھارت تعلقات مسلسل کشیدگی کا شکار چلے آ رہے ہیں اور ان میں ابھی تک بہتری کے آثار ہویدا نہیں

۔ فوٹو؛ فائل

لاہور:
بھارت میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے بھارت کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشکل تنازعات اور دو طرفہ مسائل کے حل کے لیے ساز گار ماحول پیدا کیا جائے' باہمی تعاون کا ماحول بنائے بغیر آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔

انڈیا ٹو ڈے کے ٹی وی پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے بھارتی حکومت اور میڈیا کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے دہشت گردی کے الزامات کو بڑی جرأت سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پر الزام تراشی بھارت کی پرانی عادت ہے' دنیا اس بات کی گواہ ہے کہ پاکستان خود دہشت گردی سے متاثر ہونے والا ملک ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لازوال قربانیاں دی ہیں اور پوری دنیا سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے' بھارت خود پاکستان کے اندر دہشت گردی میں ملوث ہے اسے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے' بھارت پاکستان کو افغانستان کے راستے غیرمستحکم کر رہا ہے۔

بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کا ذکر کرتے ہوئے عبدالباسط نے کہا کہ ہمارے پاس بھارت کی مداخلت کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں جن سے دنیا کو بھی آگاہ کیا گیا ہے' سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزموں کو کٹہرے میں لایا جائے' پاکستان بھارت حکومتیں ممبئی حملوں کے ٹرائل پر رابطے میں ہیں' یہ ایک پیچیدہ ٹرائل ہے' ممبئی حملوں سے متعلق حافظ سعید کے خلاف ثبوت ہیں تو پاکستان کو دیے جائیں، تمام مسائل بات چیت سے حل کرنا ہوں گے، تعلقات میں بہتری کے لیے بنیادی فیصلوں کی ضرورت ہے۔

پاک بھارت تعلقات مسلسل کشیدگی کا شکار چلے آ رہے ہیں اور ان میں ابھی تک بہتری کے آثار ہویدا نہیں' پاکستان بارہا بھارتی حکومت کو مذاکرات کی دعوت دے چکا ہے اور اب ایک بار پھر اس نے اس کا اعادہ کیا ہے لیکن بھارت کی طرف سے کوئی مثبت جواب سامنے نہیں آیا بلکہ کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ مسلسل جاری ہے' ہفتے کو بھی بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک پاکستانی خاتون شہید ہو گئی' آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج کی جانب سے شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بیجنگ میں چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کی اردو سروس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی دہشت گردی سے ہماری توجہ ہٹانے کی سازش ہو سکتی ہے' جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا اس وقت تک بھارت سے تعلقات میں کشیدگی رہے گی۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی بڑی وجہ مسئلہ کشمیر ہے جو ابھی تک حل طلب ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے جنگیں بھی لڑی گئیں اور مذاکرات کی میز بھی سجائی گئی مگر ان سب کا نتیجہ صفر برآمد ہوا اور آج بھی کنٹرول لائن پر گولیوں اور گولہ باری کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔


پاکستان جب بھی بھارت سے مذاکرات کی بات کرتا ہے تو بھارت دہشت گردی اور ممبئی حملے کا ہوا کھڑا کر کے مذاکراتی عمل کی راہ میں رکاوٹیں حائل کر دیتا ہے۔ پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے بھارت سے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر ممبئی حملوں سے متعلق اس کے پاس حافظ سعید کے خلاف کوئی ثبوت ہے تو وہ فراہم کیے جائیں لیکن بھارتی حکومت ثبوت فراہم کرنے کے بجائے الزامات کی دیوار کھڑی کر دیتی ہے۔

بھارت چاہتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو نفی کر کے مذاکرات کی میز پر صرف دہشت گردی کے ایجنڈے پر بات چیت کی جائے جب کہ پاکستان یہ واضح کر چکا ہے کہ جب بھی مذاکرات ہوں گے تو مسئلہ کشمیر' سرکریک اور سیاچن سمیت تمام تنازعات کو زیربحث لایا جائے گا۔ بھارت کے پاس پاکستان کے خلاف بلاثبوت الزامات کی طویل فہرست ہے جب کہ پاکستان کلبھوشن یادیو کی صورت میں بھارتی مداخلت کے ٹھوس ثبوت پوری دنیا کے سامنے لا چکا ہے۔

حیرت انگیز امر یہ ہے کہ امریکا اور مغربی طاقتیں بھی پاکستان کے اندر بھارتی مداخلت کے خلاف آواز اٹھانے کے بجائے دہشت گردی کے نام نہاد الزامات پر بھارت کی ہاں میں ہاں ملانا شروع کر دیتی ہیں۔ عالمی قوتوں کا یہ دوغلا اور منافقانہ رویہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔

اگر بڑی طاقتیں جنوبی ایشیا میں امن قائم کرنے کی خواہاں ہوتیں تو وہ بھارتی حکومت پر پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے ضرور دباؤ ڈالتیں مگر انھوں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ بھارت اس حقیقت کو تسلیم کر لے کہ مذاکرات سے راہ فرار سے کچھ حاصل نہیں ہو گا لہٰذا الزامات کی سیاست چھوڑ کر مذاکرات کی میز پر آنا ہی پڑے گا، باہمی اختلافات ختم کرنے کا یہی احسن راستہ ہے۔

 
Load Next Story