طب کی ایک نئی قسم
ہم غریب اگر پہاڑ بھی کھود لیں اور اس کے اندر سے چوہے کے بجائے ہاتھی بھی برآمد کر لیں تو کچھ نہیں ہوتا
barq@email.com
ہمیں تو اس میں سراسر یورپ امریکا اور دوسرے ممالک کی سازشیں کارفرما دکھائی دیتی ہیں کہ اپنے ہاں کی تو چھوٹی چھوٹی چیزوں کو بانس پر چڑھا کر مشہور کر دیتے ہیں لیکن ہم غریب اگر پہاڑ بھی کھود لیں اور اس کے اندر سے چوہے کے بجائے ہاتھی بھی برآمد کر لیں تو کچھ نہیں ہوتا، ورنہ یہ جو آج کل دنیا بھر میں کچھ ادارے اور ایجنسیاں طرح طرح کے سروے کر کے ملکوں کو نمبر دیتے پھرتے ہیں ان نے تو اس عظیم طبی کارنامے کا غلغلہ کیا ہوتا جو شاید یونانیوں کے بعد پہلا طبی کارنامہ ہے جو پاکستانیوں نے سرانجام دیا ہے اور اس میں اتنا یدطولیٰ حاصل کیا ہے کہ ساری دنیا میں اگر سارے ممالک کوشش کریں تو پاکستان سے نمبر ون کی پوزیشن نہیں چھین سکتے۔
دراصل یہ طب میں ایک بالکل ہی نئی شاخ کا اضافہ ہے جسے اگر کوئی نام دینا ہو تو وہ ''طب پاکستانی'' ہے لیکن اگر اسے عالمی سطح کا کوئی نام دینا مقصود ہو تو سب سے موزون نام طب چنگیز خانی بلکہ طب ہلاکو خانی سے بہتر اور کوئی نام نہیں ہو سکتا اور اگر اس سے بھی بڑا درجہ دینا ہو جو اس کا حق ہے تو وہ ''طب یمراج'' ہو سکتا ہے۔
دراصل یہ ایک باقاعدہ مربوط اور انجینئرڈ طب ہے اس میں مرکزیت زیادہ پائی جاتی ہے تمام ''اسسٹنٹ معالجین'' یہی کوشش کرتے ہیں کہ مریض کو اس قابل بنایا جائے کہ یمراج کو ریفر کیا جا سکے جن کا کام ہر ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ کی طرح صرف دستخط کر کے او کے کرنا ہوتاہے، ویسے تو اس طب کا ظہور مکمل طور پر پاکستان میں ہوا ہے لیکن اس کے لیے بے ترتیب اور غیر رسمی کوششیں بہت پرانے زمانے سے چلتی آ رہی ہیں۔
فائلوں میں تلاش کرنے پر وہ سب سے پہلی عرضی جو اس نے مکمل بیکاری اور بیروزگاری سے تنگ آ کر دی تھی وہ فارسی زبان میں ایک منظوم استدعا تھی، ''یاخدایا تو اس اصیل نامی طیب کو میرے کام میں مداخلت کرنے سے روک دے اور یا مجھے کوئی اور کام تفویض کر دیں'' اس کے بعد تاریخ میں اور کئی مقامات پر یمراج کے کام میں بہت سارے اطبا کی مداخلت کا سراغ ملتا ہے لیکن پاکستان بننے کے بعد اس طبی انتشار کو ایک باقاعدہ کوشش کے ذریعے ایک پورے ڈیپارٹمنٹ میں تبدیل کیا گیا جس میں دیرینہ خدمات کے باعث ہیڈ کا درجہ تو ملک الموت ہی کو حاصل ہے لیکن سارا کام ماتحت عملہ کرتا ہے جس میں اس ماتحت عملے کے ساتھ ساتھ دوا ساز کمپنیوں کو بھی شامل کر دیا گیا ہے، جگہ جگہ اپنے اسپتال اور کلینک بھی سرکاری اسپتالوں کے اردگرد قائم کر دیے لیکن اس میں قباحت یہ تھی کہ ان اسپتالوں اور کلینکوں کے لیے زرکثیر صرف کرنا پڑتا تھا۔
مناسب مقامات پر ''مورچوں''کا حاصل کرنا از حد دشوار ہو گیا تھا اور مالکان جائیداد نے کرائے بھی بے پناہ کر دیے اوپر سے الگ عملہ چوکیدار اور نہ جانے کیا کیا خرچے اٹھانا پڑے تھے، لیکن خدا بھلا کرے سرکار والا تبارکہ کا کہ ہمیشہ ایسے مواقع پر ضرورت مندوں کی دستگیری کو آجاتی ہے اور غورکے حوضوں میں اس وقت تک غوطہ زنی کر کے کوئی نہ کوئی حل نکال لیتی ہے اور اس مرتبہ بھی۔ جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار۔ بلکہ اکثر لوگ تو ''جزو قیس'' کی جگہ ''جز کیش'' بھی بتاتے ہیں اور یہ ترمیم دل کو لگتی بھی ہے کیوں کہ سارا معاملہ قیس کا نہیں کیش کا ہے، چنانچہ ایسا حل نکال کر دیا کہ زمانہ عش عش کر اٹھا، سرکار نے سوچا کہ یہ اتنے بڑے بڑے اسپتال اتنا زرکثیر کر کے جو بنائے گئے ہیں آخراس کا مصرف کیا ہے سوائے دیکھنے دکھانے کے، چلو اس سے کچھ کام ہی لیا جائے۔
سو ڈاکٹروں بلکہ اہلکاروں کو یہاں سے ہانک کر دور دراز کلینکوں اور پرائیویٹ اسپتال تک پہنچانے کے بجائے یہیں اپنے قبضے میں لے لیا کریں، واقفین اسرار کا متفقہ فیصلہ ہے کہ یہ طریقہ کار اچھا خاصا کامیاب اور حوصلہ افزا جارہا ہے کسی کو کچھ بھی نہیں کرنا پڑتا نہ کہیں آنا نہ جانا ۔ ڈاکٹر اسی کرسی پر بیٹھے بیٹھے سرکاری سے ترقی کر کے پرائیویٹ مریض بن جاتا ہے، بلکہ سنا ہے کہ کہیں کہیں پر چھوٹے موٹے جھگڑے بھی ہونے لگے ہیں اکثر مریض شکایت کرتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب اپ نے جب میری نبض پر ہاتھ رکھا تھا اس وقت سرکاری ٹائم چل رہا تھا اور اب آپ پرائیویٹ بل وصول کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر بھی کبھی کبھی شاکی ہو جاتے ہیں کہ مریض کو میں نے پرائیویٹ نگاہوں سے دیکھا اور وہ اب سرکاری بننے کی کوشش کر رہا ہے لیکن فوائد کے مقابلے میں یہ چھوٹے موٹے مسئلے کچھ بھی نہیں ہیں گہرائی سے سوچا جائے تو یہ نیا طریقہ شکار اور شکاری دونوں کے حق میں سودمند ہے شکاری کو الگ سے کوئی اپنا جال اور شکار گاہ کی ضرورت نہیں پڑتی اور شکار کو بھی کہیں دور دراز کی شکار گاہ میں جا کر خود کو شکار نہیں کروانا پڑتا بلکہ اکثر تو اچھا خاصا اطمینان بھی نصیب ہوا ہے اور یہ گنگناتے ہوئے سنا گیا ہے کہ
نہ لٹتا دن کو تو کیوں رات کو یوں بے خبر سوتا
رہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں رہزن کو
دیکھئے تو یہ ایک جادو کا سا معاملہ ہے ادھر پرچے چل رہے ہیں مریض موجود ہیں، اردلی دربان ڈانٹ رہے ہیں، ایک ہنگامہ ہاؤ ہو بپا ہے پھر اچانک گھنٹا بجتے ہی سب کچھ شانت ہوتا ہے جیسے کسی جادوگر نے ڈنڈا گھما کر سارے منظر کو پتھر کا بنا دیا ہو، عمارت کمرے بلڈنگ وغیرہ تو پہلے ہی بھی پتھر کے ہوتے ہیں اب اس کے اندر بیٹھنے والے بھی بیٹھے بیٹھے پتھر کے ہو جاتے ہیں، چہروں سے لے کر اندر کے سارے سامان سمیت
دل سے تری نگاہ جگر تک گزر گئی
دونوں کواک ادا میں رضامند کر گئی
شاید ایسی ہی کسی صورت حال پر رحمان بابا نے کہا تھا کہ میں نہ تو اپنی جگہ ہلتا ہوں نہ کہیں آتا ہوں نہ جاتا ہوں، اوربیٹھے ہی میری زندگی کا فاصلہ بغیر کسی سفر کے طے ہو رہا ہے، ایسے میں بھی اگر یہ بین الاقوامی متعصب پاکستان کو اس نئے طب چنگیز خانی، ہلاکو خانی کو کوئی نمبر نہیں دے رہے تو برا کر رہے ہیں۔
دراصل یہ طب میں ایک بالکل ہی نئی شاخ کا اضافہ ہے جسے اگر کوئی نام دینا ہو تو وہ ''طب پاکستانی'' ہے لیکن اگر اسے عالمی سطح کا کوئی نام دینا مقصود ہو تو سب سے موزون نام طب چنگیز خانی بلکہ طب ہلاکو خانی سے بہتر اور کوئی نام نہیں ہو سکتا اور اگر اس سے بھی بڑا درجہ دینا ہو جو اس کا حق ہے تو وہ ''طب یمراج'' ہو سکتا ہے۔
دراصل یہ ایک باقاعدہ مربوط اور انجینئرڈ طب ہے اس میں مرکزیت زیادہ پائی جاتی ہے تمام ''اسسٹنٹ معالجین'' یہی کوشش کرتے ہیں کہ مریض کو اس قابل بنایا جائے کہ یمراج کو ریفر کیا جا سکے جن کا کام ہر ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ کی طرح صرف دستخط کر کے او کے کرنا ہوتاہے، ویسے تو اس طب کا ظہور مکمل طور پر پاکستان میں ہوا ہے لیکن اس کے لیے بے ترتیب اور غیر رسمی کوششیں بہت پرانے زمانے سے چلتی آ رہی ہیں۔
فائلوں میں تلاش کرنے پر وہ سب سے پہلی عرضی جو اس نے مکمل بیکاری اور بیروزگاری سے تنگ آ کر دی تھی وہ فارسی زبان میں ایک منظوم استدعا تھی، ''یاخدایا تو اس اصیل نامی طیب کو میرے کام میں مداخلت کرنے سے روک دے اور یا مجھے کوئی اور کام تفویض کر دیں'' اس کے بعد تاریخ میں اور کئی مقامات پر یمراج کے کام میں بہت سارے اطبا کی مداخلت کا سراغ ملتا ہے لیکن پاکستان بننے کے بعد اس طبی انتشار کو ایک باقاعدہ کوشش کے ذریعے ایک پورے ڈیپارٹمنٹ میں تبدیل کیا گیا جس میں دیرینہ خدمات کے باعث ہیڈ کا درجہ تو ملک الموت ہی کو حاصل ہے لیکن سارا کام ماتحت عملہ کرتا ہے جس میں اس ماتحت عملے کے ساتھ ساتھ دوا ساز کمپنیوں کو بھی شامل کر دیا گیا ہے، جگہ جگہ اپنے اسپتال اور کلینک بھی سرکاری اسپتالوں کے اردگرد قائم کر دیے لیکن اس میں قباحت یہ تھی کہ ان اسپتالوں اور کلینکوں کے لیے زرکثیر صرف کرنا پڑتا تھا۔
مناسب مقامات پر ''مورچوں''کا حاصل کرنا از حد دشوار ہو گیا تھا اور مالکان جائیداد نے کرائے بھی بے پناہ کر دیے اوپر سے الگ عملہ چوکیدار اور نہ جانے کیا کیا خرچے اٹھانا پڑے تھے، لیکن خدا بھلا کرے سرکار والا تبارکہ کا کہ ہمیشہ ایسے مواقع پر ضرورت مندوں کی دستگیری کو آجاتی ہے اور غورکے حوضوں میں اس وقت تک غوطہ زنی کر کے کوئی نہ کوئی حل نکال لیتی ہے اور اس مرتبہ بھی۔ جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار۔ بلکہ اکثر لوگ تو ''جزو قیس'' کی جگہ ''جز کیش'' بھی بتاتے ہیں اور یہ ترمیم دل کو لگتی بھی ہے کیوں کہ سارا معاملہ قیس کا نہیں کیش کا ہے، چنانچہ ایسا حل نکال کر دیا کہ زمانہ عش عش کر اٹھا، سرکار نے سوچا کہ یہ اتنے بڑے بڑے اسپتال اتنا زرکثیر کر کے جو بنائے گئے ہیں آخراس کا مصرف کیا ہے سوائے دیکھنے دکھانے کے، چلو اس سے کچھ کام ہی لیا جائے۔
سو ڈاکٹروں بلکہ اہلکاروں کو یہاں سے ہانک کر دور دراز کلینکوں اور پرائیویٹ اسپتال تک پہنچانے کے بجائے یہیں اپنے قبضے میں لے لیا کریں، واقفین اسرار کا متفقہ فیصلہ ہے کہ یہ طریقہ کار اچھا خاصا کامیاب اور حوصلہ افزا جارہا ہے کسی کو کچھ بھی نہیں کرنا پڑتا نہ کہیں آنا نہ جانا ۔ ڈاکٹر اسی کرسی پر بیٹھے بیٹھے سرکاری سے ترقی کر کے پرائیویٹ مریض بن جاتا ہے، بلکہ سنا ہے کہ کہیں کہیں پر چھوٹے موٹے جھگڑے بھی ہونے لگے ہیں اکثر مریض شکایت کرتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب اپ نے جب میری نبض پر ہاتھ رکھا تھا اس وقت سرکاری ٹائم چل رہا تھا اور اب آپ پرائیویٹ بل وصول کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر بھی کبھی کبھی شاکی ہو جاتے ہیں کہ مریض کو میں نے پرائیویٹ نگاہوں سے دیکھا اور وہ اب سرکاری بننے کی کوشش کر رہا ہے لیکن فوائد کے مقابلے میں یہ چھوٹے موٹے مسئلے کچھ بھی نہیں ہیں گہرائی سے سوچا جائے تو یہ نیا طریقہ شکار اور شکاری دونوں کے حق میں سودمند ہے شکاری کو الگ سے کوئی اپنا جال اور شکار گاہ کی ضرورت نہیں پڑتی اور شکار کو بھی کہیں دور دراز کی شکار گاہ میں جا کر خود کو شکار نہیں کروانا پڑتا بلکہ اکثر تو اچھا خاصا اطمینان بھی نصیب ہوا ہے اور یہ گنگناتے ہوئے سنا گیا ہے کہ
نہ لٹتا دن کو تو کیوں رات کو یوں بے خبر سوتا
رہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں رہزن کو
دیکھئے تو یہ ایک جادو کا سا معاملہ ہے ادھر پرچے چل رہے ہیں مریض موجود ہیں، اردلی دربان ڈانٹ رہے ہیں، ایک ہنگامہ ہاؤ ہو بپا ہے پھر اچانک گھنٹا بجتے ہی سب کچھ شانت ہوتا ہے جیسے کسی جادوگر نے ڈنڈا گھما کر سارے منظر کو پتھر کا بنا دیا ہو، عمارت کمرے بلڈنگ وغیرہ تو پہلے ہی بھی پتھر کے ہوتے ہیں اب اس کے اندر بیٹھنے والے بھی بیٹھے بیٹھے پتھر کے ہو جاتے ہیں، چہروں سے لے کر اندر کے سارے سامان سمیت
دل سے تری نگاہ جگر تک گزر گئی
دونوں کواک ادا میں رضامند کر گئی
شاید ایسی ہی کسی صورت حال پر رحمان بابا نے کہا تھا کہ میں نہ تو اپنی جگہ ہلتا ہوں نہ کہیں آتا ہوں نہ جاتا ہوں، اوربیٹھے ہی میری زندگی کا فاصلہ بغیر کسی سفر کے طے ہو رہا ہے، ایسے میں بھی اگر یہ بین الاقوامی متعصب پاکستان کو اس نئے طب چنگیز خانی، ہلاکو خانی کو کوئی نمبر نہیں دے رہے تو برا کر رہے ہیں۔