دورہ پاکستان مصطفی کمال کے بیان پر اپنا ہی ملک بپھر گیا
آئی سی سی سے نائب صدرکی غلط بیانی پر وضاحت طلب کرینگے،بنگلہ بورڈ چیف
پاک سرزمین جانے کا متوقع وقت مارچ کے اختتام سے اپریل کے شروع تک کا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
دورہ پاکستان کے حوالے سے مصطفی کمال کے بیان پر خود ان کا اپنا ہی ملک بپھر گیا۔
بنگلہ دیشی بورڈ کے صدر نظم الحسن کا کہنا ہے کہ آئی سی سی سے اس کے نائب صدرکی غلط بیانی پر وضاحت طلب کریں گے،سابق بورڈ صدر کی جانب سے پاکستان کو ٹور کی یقین دہانی کرانے کی تحریری دستاویزات موجود ہیں، انکے مطابق پاکستان جانے والی نئی سیکیورٹی ٹیم کی تشکیل کے بارے میں حکومت سے چند روز میں بات کرینگے۔ انھوں نے ان خیالات کا اظہار میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا۔
نظم الحسن نے آئی سی سی کے موجودہ نائب اور بی سی بی کے سابق صدر مصطفیٰ کمال کا یہ دعویٰ مسترد کردیا کہ ان کی جانب سے پاکستان کو دورے کی کوئی تحریری یقین دہانی کرائی گئی نہ ہی ایسی کوئی بات کونسل کی دستاویزات میں موجود ہے،نظم الحسن نے میڈیا کو باقاعدہ دستاویزات دکھاتے ہوئے کہا کہ سب چیزیں ریکارڈ پر موجود اور اب ہم آئی سی سی سے اس کے نائب صدر کی غلط بیانی پر وضاحت طلب کرینگے۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے ابھی تک پاکستان ٹور کی تاریخوں کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا مگر پی سی بی کے چیئرمین ذکا اشرف کو اپنی مجبوریاں بتا دی ہیں، ہم نے دستیاب وقت کے بارے میں بھی بات کی جو مارچ کے اختتام سے اپریل کے شروع تک کا ہے، ہمیں پاکستان کے حالات کا جائزہ لیے ہوئے کافی وقت گزر گیااس لیے دوسری سیکیورٹی ٹیم کی تشکیل کے لیے جلد ہی حکومت سے بات کرینگے، واضح رہے کہ سنگاپورسے وطن واپسی پر نظم الحسن نے کہا تھا کہ وہ پاکستان کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے نئی سیکیورٹی ٹیم بھیجیں گے۔
انھوں نے کہا کہ میں نے نئی دہلی میں ذکا اشرف کو بی پی ایل سے قبل ٹیم نہ بھیجنے کی وجوہات بتائیں اور وہ ہماری مجبوریوں کو سمجھ گئے، ان کا رویہ کافی اچھا تھا، البتہ وطن واپسی پر انھوں نے جو بیانات دیے وہ اس سے قطعی مختلف تھے جو مجھ سے کہا تھا، ہم دونوں کے درمیان جو خوشگوار بات چیت ہوئی اس کی وجہ سے مجھے بدستور اس بات کا یقین ہے کہ پاکستانی پلیئرز بی پی ایل میں حصہ لیں گے۔
بنگلہ دیشی بورڈ کے صدر نظم الحسن کا کہنا ہے کہ آئی سی سی سے اس کے نائب صدرکی غلط بیانی پر وضاحت طلب کریں گے،سابق بورڈ صدر کی جانب سے پاکستان کو ٹور کی یقین دہانی کرانے کی تحریری دستاویزات موجود ہیں، انکے مطابق پاکستان جانے والی نئی سیکیورٹی ٹیم کی تشکیل کے بارے میں حکومت سے چند روز میں بات کرینگے۔ انھوں نے ان خیالات کا اظہار میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا۔
نظم الحسن نے آئی سی سی کے موجودہ نائب اور بی سی بی کے سابق صدر مصطفیٰ کمال کا یہ دعویٰ مسترد کردیا کہ ان کی جانب سے پاکستان کو دورے کی کوئی تحریری یقین دہانی کرائی گئی نہ ہی ایسی کوئی بات کونسل کی دستاویزات میں موجود ہے،نظم الحسن نے میڈیا کو باقاعدہ دستاویزات دکھاتے ہوئے کہا کہ سب چیزیں ریکارڈ پر موجود اور اب ہم آئی سی سی سے اس کے نائب صدر کی غلط بیانی پر وضاحت طلب کرینگے۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے ابھی تک پاکستان ٹور کی تاریخوں کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا مگر پی سی بی کے چیئرمین ذکا اشرف کو اپنی مجبوریاں بتا دی ہیں، ہم نے دستیاب وقت کے بارے میں بھی بات کی جو مارچ کے اختتام سے اپریل کے شروع تک کا ہے، ہمیں پاکستان کے حالات کا جائزہ لیے ہوئے کافی وقت گزر گیااس لیے دوسری سیکیورٹی ٹیم کی تشکیل کے لیے جلد ہی حکومت سے بات کرینگے، واضح رہے کہ سنگاپورسے وطن واپسی پر نظم الحسن نے کہا تھا کہ وہ پاکستان کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے نئی سیکیورٹی ٹیم بھیجیں گے۔
انھوں نے کہا کہ میں نے نئی دہلی میں ذکا اشرف کو بی پی ایل سے قبل ٹیم نہ بھیجنے کی وجوہات بتائیں اور وہ ہماری مجبوریوں کو سمجھ گئے، ان کا رویہ کافی اچھا تھا، البتہ وطن واپسی پر انھوں نے جو بیانات دیے وہ اس سے قطعی مختلف تھے جو مجھ سے کہا تھا، ہم دونوں کے درمیان جو خوشگوار بات چیت ہوئی اس کی وجہ سے مجھے بدستور اس بات کا یقین ہے کہ پاکستانی پلیئرز بی پی ایل میں حصہ لیں گے۔