عائشہ منزل بم دھماکے میں ملوث4 ملزمان کا جسمانی ریمانڈ

ملزمان کا تعلق تحریک طالبان سے ہے،9جنوری کو مقابلے میںگرفتارکیا تھا، پولیس.

ملزمان کا تعلق تحریک طالبان سے ہے،9جنوری کو مقابلے میںگرفتارکیا تھا، پولیس. فوٹو: محمد نعمان/ ایکسپریس

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے عائشہ منزل پر بم دھماکے کے الزام میں گرفتار4ملزمان کو دو ہفتے کے لیے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیدیا۔

ملزمان توصیف ، ایوب خان ، بلال اور مہتمم خان پر الزام ہے کہ انھوں نے یکم جنوری کو متحدہ قومی موومنٹ کے جلسے میں شرکت کرکے واپس جانے والے شہریوں کی بسوں کے قریب دھماکا کیا تھاجس کے نتیجے میں 4شہری جاں بحق اور تقریباً 73زخمی ہوگئے تھے ،پولیس کے مطابق ملزمان کاتعلق کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے ہے ،ملزمان کو 9جنوری کوفائرنگ کے تبادلے کے بعد اتحاد ٹائون سے گرفتار کیا گیا تھا۔


پولیس نے خصوصی عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے قبضے سے وہی بارودی مواد برآمد ہوا ہے جو عائشہ منزل بم دھماکے میں استعمال ہواتھا ،پولیس کے مطابق بارود کے نمونے میچنگ ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری بھجوادیے گئے ہیں، واضح رہے کہ ملزم بلال پہلے ہی اورنگی ٹائون میں پولیو ورکرز کے مقدمہ قتل میں 21جنوری تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہے۔



اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر مظفر سولنگی نے دو ہفتے کے ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے موقف اختیارکیا کہ ملزمان سے ان کے دیگر ساتھیوں کے بارے میں پوچھ گچھ کرنا ہے اور انکی نشاندہی پر وارداتوں میں استعمال ہونیوالا اسلحہ اور بارودی مواد بازیاب کرانا ہے ،خدشہ ہے ملزمان شہر میں ہونیوالی دہشت گردی کی دیگر وارداتوں میں بھی ملوث ہیں، اس لیے دہشت گردی کے نیٹ ورک کے بارے میں مزید معلومات کے لیے ملزمان کا پولیس کی تحویل میں ہونا ضروری ہے ، فاضل عدالت نے ان کی درخواست منظور کرتے ہوئے ملزمان کو 25جنوری تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا۔
Load Next Story