آئندہ مہینوں میں معاشی مشکلات میں اضافہ ہوگاماہرین

پاکستان کوایک بارپھرآئی ایم ایف سے رجوع کرناپڑیگا،برطانوی میڈیاکی جائزہ رپورٹ.

پاکستان کوایک بارپھرآئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑیگا، برطانوی میڈیا کی جائزہ رپورٹ. فوٹو: رائٹرز/فائل

ملکی معیشت خصوصاً زرِمبادلہ کے ذخائر پر جاری دباؤ، روپے کی قدر میں مسلسل کمی اور آنے والے مہینوں میں بھاری بیرونی ادائیگیوں کا بوجھ جیسے مسائل کی وجہ سے پاکستان کا مدد کے لیے عالمی مالیاتی ادارے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ سے ایک مرتبہ پھر رجوع کرنا ناگزیر نظر آنے لگا۔

ملکی زرمبادلہ کے ذخائر تازہ اعدادوشمار کے مطابق 13 ارب 55 کروڑ 88 لاکھ ڈالر ہیں، یہ اعدادوشمار اسٹیٹ بینک نے 10جنوری 2013 کو جاری کیے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ یعنی جولائی تا دسمبر تقریباً 4 فیصد کمی ہو چکی ہے۔ اس وقت بازار میں ڈالرکا لین دین 99روپے کے آس پاس ہو رہا ہے اور کسی بھی وقت 100روپے کی حد پار کر جائے گا۔


اس مدت میں ترسیلات 7 ارب 11 کروڑ ڈالر رہیں۔ اس کے علاوہ امریکا سے 68کروڑ 80 لاکھ ڈالر دسمبر کے آخر میں کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں پاکستان کو ملے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا موقف ہے کو امریکا کی طرف سے یہ رقم ملنے سے بیرونی اکاؤنٹ، زرِمبادلہ کے ذخائر اور روپے کو سہارا ملا مگر آنے والے مہینے معیشت کے لیے بڑی مشکلات لیے ہوئے ہیں۔ڈاکٹر قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف کی شرائط اپنی جگہ مگر پاکستان کے لیے اس کی مدد ہمیشہ امریکی اشارے کی مرہون منًت رہی ہے۔



پاکستان نے آئی ایم ایف سے 8ارب ڈالر کا قرضہ لیا تھا جس کی ادائیگی شروع ہو چکی ہے۔ اس وقت کی صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کو 2013 میں آئی ایم ایف کو تقریباً ڈھائی ارب ڈالر ادا کرنے ہیں۔ 2012میں پاکستان نے عالمی ادارے کو ایک ارب ڈالر ادا کیے تھے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے جو کرنا ہے جلد کرنا ہوگا۔ سب سے بڑھ کر پاکستان کو امریکا سے تعلقات معمول پر رکھنے پر توجہ دینا ہوگی تاکہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کے وقت اسے امریکی حمایت حاصل ہو سکے۔
Load Next Story