شدید مالی بحران بلدیاتی ملازمین کو تاحال جون کی تنخواہ نہیں ملی
ملازمین کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آگئی،ذرائع،بلدیہ اعظمیٰ اپنے وسائل اور ریونیوسے مسائل حل کرلے،حکومت سندھ
ملازمین کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آگئی،ذرائع،بلدیہ اعظمیٰ اپنے وسائل اور ریونیوسے مسائل حل کرلے،حکومت سندھ, فوٹو فائل
PESHAWAR:
بلدیہ عظمیٰ اور ضلعی بلدیاتی اداروں کے افسران وملازمین تاحال تنخواہوں اور پنشن سے محروم ہیں، ماہ جولائی کا اختتام قریب ہونے کے باوجود ان کو جون کی تنخواہیں نہیں ملی ہیں جبکہ بلدیہ عظمیٰ سندھ حکومت سے اپنے حصے کا ماہانہ شیئر لینے میں ناکام ہوگئی ہے، تفصیلات کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کا مالی بحران روز بروز شدید سے شدید تر ہوتا جارہا ہے مگر اس بڑھتے ہوئے مالی بحران کا کسی سطح پر کوئی نوٹس نہیں لیا جارہا ہے جس کا خمیازہ بلدیہ عظمیٰ اور ضلعی بلدیاتی اداروں کے ملازمین کو تنخواہوں کی عدم فراہمی اور شہریوں کو ترقیاتی سرگرمیاں کے جمود کی شکل میں برداشت کرنا پڑرہا ہے۔
جبکہ بلدیہ عظمیٰ کے تحت چلنے والے اسپتال اور ڈسپنسریاں بھی اس صورتحال سے بری طرح متاثر ہورہی ہیں، کم وبیش بلدیہ عظمیٰ کے تمام اسپتالوں اور ڈسپنسریوں میں دوائیں ختم ہوچکی ہیں جبکہ طبی سرگرمیاں بھی رفتہ رفتہ عضو معطل بنتی جارہی ہیں اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ چند میں دن میں ان اسپتالوں اور ڈسپنسریو ںمیں مکمل طور پر طبی سرگرمیاں بند ہوجائیں گی، ذرائع نے بتایا کہ افسران وملازمین کو تنخواہیں اور پنشن نہ ملنے کے باعث ان کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آگئی ہے۔
ان ملازمین کا کہنا ہے کہ دو اداروں کی لڑائی میں ان کو کس بات کی سزا دی جارہی ہے، رمضان المبارک میں جب مہنگائی اپنے پورے عروج پر پہنچ جاتی ہے ان کو تنخواہوں سے محروم رکھنے کے باعث وہ کس طریقے سے اپنے دن گزارنے پر مجبور ہیں اس بات کا کسی سطح پر کسی کو ادارک تک نہیں ہے، ذرائع نے بتایا کہ بلدیہ عظمیٰ اور سندھ حکومت میں ماہانہ قسط کی فراہمی کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں مگر کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکل پارہا ہے۔
سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مالی بحران کے باعث بلدیہ عظمیٰ کو طے شدہ قسط فوری طور پر دینے سے قاصر ہے، فی الحال بلدیہ عظمیٰ اپنے وسائل اور اپنے پیدا کردہ ریونیو سے اپنے مسائل حل کرلے جبکہ بلدیہ عظمیٰ میں ریونیو پیدا کرنے والے محکمے تو پہلے ہی ابتری کا شکار ہیں وہ اپنا ریونیو ٹارگٹ پورا کرنا تو دور کی بات ہے ان کی وصولیابیاں روز بروز کم سے کم ہوتی جارہی ہیں، ان وصولیابیوں کی بنیاد پر بلدیہ عظمیٰ کے تمام ملازمین کو تنخواہوں اور پنشن کی فراہمی کسی طور پر ممکن نہیں ہے۔
بلدیہ عظمیٰ اور ضلعی بلدیاتی اداروں کے افسران وملازمین تاحال تنخواہوں اور پنشن سے محروم ہیں، ماہ جولائی کا اختتام قریب ہونے کے باوجود ان کو جون کی تنخواہیں نہیں ملی ہیں جبکہ بلدیہ عظمیٰ سندھ حکومت سے اپنے حصے کا ماہانہ شیئر لینے میں ناکام ہوگئی ہے، تفصیلات کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کا مالی بحران روز بروز شدید سے شدید تر ہوتا جارہا ہے مگر اس بڑھتے ہوئے مالی بحران کا کسی سطح پر کوئی نوٹس نہیں لیا جارہا ہے جس کا خمیازہ بلدیہ عظمیٰ اور ضلعی بلدیاتی اداروں کے ملازمین کو تنخواہوں کی عدم فراہمی اور شہریوں کو ترقیاتی سرگرمیاں کے جمود کی شکل میں برداشت کرنا پڑرہا ہے۔
جبکہ بلدیہ عظمیٰ کے تحت چلنے والے اسپتال اور ڈسپنسریاں بھی اس صورتحال سے بری طرح متاثر ہورہی ہیں، کم وبیش بلدیہ عظمیٰ کے تمام اسپتالوں اور ڈسپنسریوں میں دوائیں ختم ہوچکی ہیں جبکہ طبی سرگرمیاں بھی رفتہ رفتہ عضو معطل بنتی جارہی ہیں اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ چند میں دن میں ان اسپتالوں اور ڈسپنسریو ںمیں مکمل طور پر طبی سرگرمیاں بند ہوجائیں گی، ذرائع نے بتایا کہ افسران وملازمین کو تنخواہیں اور پنشن نہ ملنے کے باعث ان کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آگئی ہے۔
ان ملازمین کا کہنا ہے کہ دو اداروں کی لڑائی میں ان کو کس بات کی سزا دی جارہی ہے، رمضان المبارک میں جب مہنگائی اپنے پورے عروج پر پہنچ جاتی ہے ان کو تنخواہوں سے محروم رکھنے کے باعث وہ کس طریقے سے اپنے دن گزارنے پر مجبور ہیں اس بات کا کسی سطح پر کسی کو ادارک تک نہیں ہے، ذرائع نے بتایا کہ بلدیہ عظمیٰ اور سندھ حکومت میں ماہانہ قسط کی فراہمی کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں مگر کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکل پارہا ہے۔
سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مالی بحران کے باعث بلدیہ عظمیٰ کو طے شدہ قسط فوری طور پر دینے سے قاصر ہے، فی الحال بلدیہ عظمیٰ اپنے وسائل اور اپنے پیدا کردہ ریونیو سے اپنے مسائل حل کرلے جبکہ بلدیہ عظمیٰ میں ریونیو پیدا کرنے والے محکمے تو پہلے ہی ابتری کا شکار ہیں وہ اپنا ریونیو ٹارگٹ پورا کرنا تو دور کی بات ہے ان کی وصولیابیاں روز بروز کم سے کم ہوتی جارہی ہیں، ان وصولیابیوں کی بنیاد پر بلدیہ عظمیٰ کے تمام ملازمین کو تنخواہوں اور پنشن کی فراہمی کسی طور پر ممکن نہیں ہے۔