سرکاری کالجوں میں لیکچررکی اسامیوں پر پھر جعلی بھرتیوں کاانکشاف
نشاندہی اے جی سندھ کی جانب سے کی گئی، لیکچررز کیخلاف کارروائی سے گریز
نشاندہی اے جی سندھ کی جانب سے کی گئی، لیکچررز کیخلاف کارروائی سے گریز
کراچی کے سرکاری کالجوں میں لیکچررکی اسامیوں پر ایک بارپھر جعلی بھرتیوں کاانکشاف ہواہے، جعلی بھرتیوں کی نشاندہی اے جی سندھ کی جانب سے صوبائی محکمہ تعلیم کوکی گئی ہے جبکہ اس معاملے کی تحقیقات مکمل ہونے اورکیس کے محکمہ اینٹی کرپشن کے حوالے کیے جانے کی سفارش کے باوجود سرکاری کالجوں میں جعلی بھرتی کیے گئے لیکچررزکونکالنے کے لیے صوبائی محکمہ تعلیم کی جانب سے کوئی اقدام سامنے نہیں آیا۔
ان لیکچررزکے خلاف کسی اقدام کے بجائے کارروائی سے گریز کیا جارہاہے، ''ایکسپریس''کومعلوم ہواہے کہ صوبائی محکمہ تعلیم کے دفترسے سال 2011میں اساتذہ کوجاری کیے گئے آفرلیٹراورپوسٹنگ آرڈرمیں دوایسے افراد کو بھی تقرری کے متعلقہ خطوط جاری کردیے گئے جنھوں نے پبلک سروس کمیشن کاامتحان پاس ہی نہیں کیا تھا۔
ان لیکچررزکے خلاف کسی اقدام کے بجائے کارروائی سے گریز کیا جارہاہے، ''ایکسپریس''کومعلوم ہواہے کہ صوبائی محکمہ تعلیم کے دفترسے سال 2011میں اساتذہ کوجاری کیے گئے آفرلیٹراورپوسٹنگ آرڈرمیں دوایسے افراد کو بھی تقرری کے متعلقہ خطوط جاری کردیے گئے جنھوں نے پبلک سروس کمیشن کاامتحان پاس ہی نہیں کیا تھا۔