عدلیہ سیاست اور نہ ہی کسی ادارے میں دخل اندازی کر رہی ہےچیف جسٹس مشیر عالم

منتخب نمائندے حکومت چلائیں،جب اختیارات سے تجاوز ہوگا تو عدلیہ روکنے کا اختیار رکھتی ہے،چیف جسٹس کا سٹی کورٹ میں خطاب.

ججز کاکام حکومت چلانا نہیں جوڈیشری انتظامیہ ومقننہ میں دخل نہ دے،فاروق نائیک، جوڈیشل پالیسی وکلا کا معاشی قتل ہے،نعیم قریشی۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم نے کہا ہے کہ عدلیہ سیاست اور نہ ہی کسی ادارے میں دخل اندازی کررہی ہے۔

عدلیہ کو آئین نے اختیار دیا ہے کہ کوئی ادارہ اپنے اختیارات سے تجاوز کرے تو عدلیہ اسے قانون کے مطابق روکتی ہے، ان خیالات کا اظہار چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس مشیر عالم نے سٹی کورٹ میں منعقدہ وکلا کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب میں کیا،اس موقع پر وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک، صدر کراچی بار سمیت دیگر عہدیدواروں اور وکلا کی بڑی تعداد موجود تھی،چیف جسٹس مشیر عالم کا کہنا تھا کہ جوڈیشل پالیسی عوام کیلیے بنائی گئی ہے تاکہ انھیں جلد از جلد انصاف فراہم ہوسکے اگر وکلا کو اعتراض ہے تو وہ اپنی سفارشات عدالت عظمیٰ کو ارسال کریں،منتخب نمائندوں کو حکومت چلانے کا حق ہے لیکن جب منتخب نمائندے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہیں تو عدلیہ انھیں روکنے کا اختیار رکھتی ہیں۔

عدالت کو آئین کے آرٹیکل37 کے مطابق عدالتی امور چلانے کے اختیارات دیے گئے ہیں عدلیہ کے پاس وسائل نہیں عدالت کو فنڈ فراہم کرنا حکومت کی ذمے داری ہے،از خود نوٹس پر اپیل کا حق نہیں دیا گیا اپیل کا حق دیا جانا چاہیے،فاروق ایچ نائیک کے اس سوال کے جواب میں چیف جسٹس نے کہا کہ قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے پارلیمنٹ کو چاہیے کہ وہ قانون سازی کرے،وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے اپنے خطاب میں کہا کہ پارلیمنٹ کا کام قانون سازی کرنا ہے حکومت کاکام قانون پر عمل کرنا اور عدلیہ کا کام قانون اور آئین کی تشریخ کرنا ہے ،ججز کاکام حکومت چلانا نہیں جوڈیشری کو چاہیے کہ وہ اپنی حدود میں رہے انتظامیہ اور مقننہ میں دخل اندازی نہ کریں۔


 



انسانی حقوق کی پاسداری کرنا ہم سب پر فرض ہے اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا لیکن عدلیہ اور بار کی ذمے داری ہے کہ وہ انسانی حقوق کی پاسداری کرائیں،انھوں نے وکلا سے اپیل کی کہ وکلا ہر مسئلے کو سپریم کورٹ میں نہ لے جائیں، سول ججز موجود ہیں ماتحت عدالتوں کے ججز بھی اپنی ذمے داری بڑے احسن طریقے سے سر انجام دے رہے ہیں وکلا تحریک میں پیپلز لائر فورم نے اہم کردار ادا کیا،جمہوریت بڑے عرصے بعد نصیب ہوئی ہے جس میں ملک کی بڑی جماعت پیپلز پارٹی کی قربانیاں اور جہدوجہد شامل ہے حکومت نے این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کو قانون کے مطابق جائز حقوق دیے ہیں۔

پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے ہم ہر دہشت گردی کے خلاف ہیں،انھوں نے عدالت عظمٰی سے اپیل کہ کہ وہ ماتحت عدلیہ کو حکم دے کہ وہ قتل جیسے مقدمات جلد از جلد نمٹائے قتل کے مقدمات میں موت کی سزا پانے والے ملزمان کو جیل حکام پھانسی گھاٹ میں رکھتے ہیں جبکہ انکی اپیلیں زیر سماعت اور التواکا شکار ہیں موجودہ صورتحال میں سندھ بھر میں تقریباً 4 ہزار اپیلیں سندھ ہائی کورٹ میں زیر التوا ہیں انھوں نے ان اپیلوں کو فوری نمٹانے اور شام کی عدالتیں قائم کرنے کی اپیل کی،اس موقع پر فاروق ایچ نائیک نے کراچی بار کیلیے 2 کڑور روپے اور 2 بسیں دینے کااعلان کیا، صدر کراچی بار نعیم قریشی نے جوڈیشل پالیسی کو وکلا کا معاشی قتل قرار دیا ہے۔
Load Next Story