وزیراعظم کی انقلابی تقریر

مذہبی انتہاپسندوں نے عبادت گاہوں پر خودکش حملے کیے اور مذہبی جلسے جلوسوں کو نشانہ بنایا گیا

tauceeph@gmail.com

کوئی خدا کہتا ہے،کوئی اﷲ،کوئی بھگوان اورکوئی ایشور، تمام مذاہب انسانیت کا درس دیتے ہیں،کسی مذہب کے خلاف برے خیالات گری ہوئی سوچ ہے، ہرمذہب کے لوگ اپنے عقائد کے مطابق عبادت کرتے ہیں۔دنیا میں جنت دوزخ کا فیصلہ کرنے والوں کا ایجنڈا کامیاب نہیں ہونے دیں گے، جبراً مذہب تبدیل کرانا حرام ہے۔

وزیراعظم نوازشریف نے کراچی میں ہندوؤں کے مذہبی تہوار ہولی منانے کی تقریب سے اپنے خطاب میں محمدعلی جناح کی 11 اگست 1947ء کو آئین ساز اسمبلی کے اجلاس کے دوسرے دن کی پالیسی تقریرکی یاد تازہ کردی۔ قائداعظم نے اپنی تقریر میں نئی ریاست کے خدوخال بیان کیے تھے۔ میاں نوازشریف نے اپنی اس تقریرکے ذریعے نہ صرف غیر مسلم پاکستانی شہریوں کے دل جیت لیے بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کا ترقی پسند سیکیولرچہرہ بھی روشن کر دیا۔

میاں نوازشریف کی یہ تقریر ملک کو درپیش مذہبی انتہاپسندی کے خطرے کو چیلنج کرتی ہے مگر مسلم لیگ کی حکومت کے بعض اقدامات وزیراعظم کے بیانیے کو ردکرتے ہیں۔ میاں نوازشریف کی یہ تقریر پاکستان کے قیام کے مقاصدکے اعتبار سے اہم ترین دستاویز ہے۔ قائد اعظم محمدعلی جناح نے آئین سازاسمبلی کے پہلے اجلاس کے دوسرے دن 11 اگست 1947ء کو اپنی پالیسی سازتقریر میں واضح کیا تھا کہ ریاست کا شہریوں کے مذہبی معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہوگا اور ہر شہری کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا حق ہوگا مگر سول بیوروکریسی میں ایک گروہ جس کی قیادت چوہدری محمدعلی کررہے تھے۔ جناح کے جمہوری ریاست کے نظریہ کے مخالف تھا۔

چوہدری محمد علی نے محمدعلی جناح کی اس تقریرکو اخبارات میں شایع ہونے سے روکنے کے لیے پریس ایڈوائس کا سہارا لیا تھا اور اس وقت کے پرنسپل انفارمیشن آفیسرکرنل مجید ملک نے اخبارات کے ایڈیٹروں کو پریس ایڈوائس ٹیلیفون کے ذریعے بھیجی تھی کہ بانی پاکستان کی تقریرکا ایک حصہ شایع نہ کیا جائے مگر اس وقت کے مسلم لیگ کے ترجمان اخبار روزنامہ ڈان کے ایڈیٹر الطاف حسین کی مزاحمت پر یہ پریس ایڈوائس واپس لے لی گئی تھی ۔ اس کے بعد بھی پاکستان کو ایک حقیقی جمہوری ریاست بنانے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔

وزیراعظم لیاقت علی خان نے اپنی کمزور حکومت کو سہارا دینے کے لیے علماء سے قراردادِ مقاصد تیار کرائی۔اس قرارداد کی بناء پر پاکستان کے غیر مسلم شہری امتیازکا شکار ہوئے۔ 1973ء کے آئین میں قراردادِ مقاصدکوآئین کے دیباچے Preamble میں شامل کیا گیا مگر جنرل ضیاء الحق نے اس کو آئین کا حصہ بنایا اور قراردادِ مقاصد میں سے اقلیتوں کے ساتھ یکساں سلوک کے الفاظ ہذف کردیے۔ جنرل ضیاء الحق نے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے افغان پروجیکٹ میں شمولیت اختیار کی۔

سی آئی اے نے افغانستان میں کامریڈ نورمحمد ترکئی کی انقلابی حکومت کے خاتمے اور سوویت یونین کو تحلیل کرنے کے لیے یہ پروجیکٹ شروع کیا تھا۔اس پروجیکٹ کے تحت جہاد کو بطورہتھیار استعمال کیا گیا۔ دنیا بھر سے مذہبی انتہاپسندوں کو پاکستان اور پھر افغانستان میں جمع کیا گیا۔ چین اوروسطی ایشیائی ممالک میں مذہبی کتابیں اسمگل کی گئیں۔ ملک بھر میں ایک مخصوص نکتہ نظر کے حامل مدرسوں کا جال پھیلایا گیا۔

اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب میں نفرت آمیزمواد شامل کیا گیا۔ تاریخ اورمذہبی مضامین میں حقائق کو مسخ کیا گیا کہ سائنسی ذہن کا ارتقاء رک جائے۔اس نصاب میں دیگر مذاہب کے خلاف ہتک آمیزمواد شامل کرنے سے غیر مسلم شہریوں کی دل آزاری کی گئی۔ ایک مخصوص ذہن تیارکرکے نوجوانوں کو پہلے افغانستان میں جہاد کے لیے برآمد کیا گیا پھر ان نوجوانوں کو لائن آف کنٹرول عبورکرکے بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں بھیجا جانے لگا۔ ان نوجوانوں نے واپسی پر مخالف فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو قتل کرنا شروع کردیا۔


90ء کی دہائی کے آخری عشرے میں پورے ملک میں مخالف فرقوں سے تعلق رکھنے والے بہت سے ڈاکٹر، انجنیئر، شاعر، سول بیوروکریٹس اور غیر ملکی سفارتکار جاں بحق ہوئے۔ دوسری طرف جہادی ٹریننگ کیمپوں سے تربیت یافتہ غیر ملکی باشندوں نے انڈونیشیا، مصر،الجزائر اورسعودی عرب وغیرہ میں دہشت گردی کی وارداتیں کیں، یوں پاکستان کا نام دنیا بھر میں بدنام ہوا۔ وزیر اعظم بے نظیر بھٹوکے حکم پر مصری دہشت گردوں کے ایک گروپ کو مصرکے حوالے کیا گیا تو انھیں سخت دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

سینئر صحافی مظہر عباس کا کہنا ہے کہ 27 دسمبر 2007ء کو لیاقت باغ میں بے نظیر بھٹوکو قتل کرنے کا فیصلہ بھی طالبان نے اسی بناء پرکیا تھا۔ نائن الیون کی دہشت گردی کے بعد مذہبی انتہاپسندی کو مزید تقویت مل گئی۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی ناقص پالیسیوں کے نتیجے میں دہشت گردی کی جنگ نیویارک سے کابل منتقل ہونے کے بعد قبائلی علاقوں سے کوئٹہ اور پشاور سے گزرکرکراچی تک پہنچ گئی۔

مذہبی انتہاپسندوں نے عبادت گاہوں پر خودکش حملے کیے اور مذہبی جلسے جلوسوں کو نشانہ بنایا گیا۔ جب پولیس، فوج، رینجرز اورخفیہ عسکری اور سول ایجنسیوں نے ان انتہاپسندوں کی کمین گاہوں کے خاتمے کے لیے مربوط آپریشن کیے تو فوجی تنصیبات اور سول ایجنسیوں کے دفاتر حتیٰ کہ راولپنڈی میں قائم جنرل ہیڈکوارٹر (G.H.Q) اور پریڈ گراؤنڈ راولپنڈی کی جامع مسجد پرخودکش حملہ آوروں نے حملے کیے۔ خاص طور پر سندھ میں ہندو برادری نے اپنی لڑکیوں کے اغواء اورانھیں جبراً مسلمان بنانے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر احتجاج شروع کیا۔

اس صورتحال کی بناء پر اندرونِ سندھ سے کئی ہندوخاندان سیاسی پناہ لینے کے لیے بھارت ہجرت کرگئے۔ ان واقعات کا بین الاقوامی ذرایع ابلاغ پرخوب چرچا ہوا۔ پاکستان ان ممالک کی فہرست کے آخری نمبر پرفائز ہے جہاں مذہبی عدم برداشت عروج پر ہے۔ موجودہ حکومت نے مدرسوں کی اصلاحات، جدید تعلیمی اداروں کے نصاب کی تبدیلی اور ہندو لڑکیوں کو جبراً مسلمان بنانے کے واقعات کو روکنے کے لیے پالیسی تیارکرنے کا اعلان کیا مگر حکمران طبقے کا ایک حصہ ان اصلاحات میں رکاوٹ بن گیا۔ یہی وجہ تھی کہ عملی صورتحال بدتر رہی۔

پنجاب میں 2008ء کے بعد مذہبی انتہاپسندوں نے خودکش دھماکے کیے مگر پھر پنجاب میں امن ہوگیا۔ بعض صحافیوں نے پنجاب کے امن کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا کہ حکمرانوں اور شدت پسندوں کے درمیان بیک چینل مفاہمت ہوئی، جس کی بناء پر مذہبی انتہاپسندوں نے اپنی سرگرمیاں محدود کردی ہیں مگر پھر لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں دہشت گردی کی کارروائیاں ہو گئیں ، خاص طور پر لاہور مذہبی انتہاپسندوں کی سرگرمیوں کا براہِ راست نشانہ بن گیا۔

اگرچہ پنجاب نے خواتین کے تحفظ کا قانون نافذ کیا جو ملک کا بہترین قانون ہے مگر مولانا فضل الرحمن کے دباؤ پر اس قانون کا اعلامیہ معطل کردیا۔ پنجاب کابینہ کے ایک وزیر نے یہ تجویز پیش کی کہ حجاب پہننے والی طالبات کو اضافی 5 نمبر دیے جائیں ۔ اس طرح ایک دفعہ پھر رجعت پسندانہ سوچ کو تقویت دی گئی اورمیرٹ کے بجائے لباس پرنمبر دینے کی راویت سے نہ صرف تعلیمی معیار پر فرق پڑے گا بلکہ انتہاپسندانہ ذہنیت کو بھی تقویت ملے گی۔

میاں نواز شریف کا سیاست کا جائزہ لینے والے ابلاغ عامہ کے استاد پروفیسر سعیدعثمانی کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف نے ملک کو درپیش تضادات اور بین الاقوامی حالات سے یہ سیکھا ہے کہ تمام شہریوں کو بغیر کسی امتیاز کے تحفظ دینے سے اورانھیں ریاست کے معاملات میں ''شرکت کے بیانیہ ''سے ملک کو درپیش بحرانوں سے نکالا جاسکتا ہے جس کی بناء پر ترقی کا عمل تیزہوسکتا ہے اورغربت کے خط کے نیچے زندگی گزارنے والی آبادی کی تعداد گھٹ سکتی ہے۔خوش قسمتی سے یہ محمدعلی جناح کا وژن ہے۔
Load Next Story