مقبوضہ کشمیر انتخابات کے بائیکاٹ کی مہم شروع درجنوں کشمیری گرفتار
حریت رہنماؤں نے سرینگر میں انتخابات مخالف پوسٹر و پمفلٹ تقسیم کیے، لوگوں سے بائیکاٹ کی اپیل
عالمی تنظیموں سے اقدامات کا مطالبہ،کشمیریوں کیلیے ہردن یوم پاکستان ہے، شبیراحمد شاہ کی مبارکباد۔ فوٹو : فائل
ISLAMABAD:
مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی پولیس نے بھارت کے آئندہ نام نہاد پارلیمانی انتخابات سے قبل سرینگر، اسلام آباد، پلوامہ، کولگام اور بانڈی پورہ کے اضلاع میں گھروں پر چھاپوں کے دوران لڑکوں اور معمر افراد سمیت 3 درجن سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کرلیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گرفتار کیے جانے والوں میں ساتویں، آٹھویں اوردسویں جماعت کے طالبعلم ، 65سالہ معمر معذور محمد افضل پرے بھی شامل ہیں۔ سیکڑوں لوگوںنے ضلع کولگام کے علاقوں چولگام اور بڈرو میں گرفتاریوں کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اورسڑک بلاک کر دی۔
نام نہاد ضمنی انتخابی پولنگ9 اور 12اپریل کو سرینگر اور اسلام آباد کے حلقوں میں کرائی جائے گی تاہم میر واعظ عمر فاروق کی سربراہی میں قائم حریت فورم ، تحریک حریت جموںوکشمیر اور کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما نعیم احمد خان نے سرینگر میں جاری اپنے بیانات میں کٹھ پتلی انتظامیہ کی طرف سے جاری گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے۔ انھوں نے افسوس ظاہر کیا کہ انتظامیہ نے مقبوضہ علاقے میں اظہار رائے کی آزادی پر قدغن عائد کر رکھی ہے، حریت رہنماؤں الطاف احمد شاہ ، غلام نبی ذکی، شیخ عبدالرشید اور عمر عادل ڈار نے سرینگر میں نام نہاد پارلیمانی انتخابات کے بائیکاٹ کی مہم شروع کی۔ انھوں نے لوگوں میں انتخابات مخالف پوسٹر اور پمفلٹ تقسیم کیے اور ان سے انتخابی ڈھونگ سے دور رہنے کی اپیل کی۔
دوسری جانب کل جماعتی حریت کانفرنس نے ایک بیان میں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور عالمی ریڈ کراس کمیٹی سمیت انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر زوردیا کہ وہ بھارت کی مختلف جیلوں میں نظربند کشمیری سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے عملی اقدامات کریں۔
ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے چیئرمین شبیر احمد شاہ نے پاکستان کو اس کے قومی دن پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا 1940 میں لاہور میں پاس ہونے والی قرارداد پاکستان کشمیری عوام کیلیے باعث تقویت اور مشعل راہ ہے، کشمیریوں کیلیے ہردن یوم پاکستان ہے کیونکہ وہ اس ملک سے گہری محبت کرتے ہیں۔
علاوہ ازیں آل پارٹیز سکھ کوآرڈی نیشن کمیٹی کے چیئرمین جگموہن سنگھ رعنا نے سرینگر میں ایک بیان میں کٹھ پتلی انتظامیہ پر زوردیا کہ وہ 20 مارچ 2000 کو ضلع اسلام آباد کے علاقے چھٹی سنگھ پورہ میں سکھ برادری کے 35افراد کو قتل کرنے والے مجرموں کو گرفتارکرے۔ بھارتی فوجیوں نے اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن کے دورہ بھارت کے موقع پران سکھوں کو قتل کیا تھا۔
مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی پولیس نے بھارت کے آئندہ نام نہاد پارلیمانی انتخابات سے قبل سرینگر، اسلام آباد، پلوامہ، کولگام اور بانڈی پورہ کے اضلاع میں گھروں پر چھاپوں کے دوران لڑکوں اور معمر افراد سمیت 3 درجن سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کرلیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گرفتار کیے جانے والوں میں ساتویں، آٹھویں اوردسویں جماعت کے طالبعلم ، 65سالہ معمر معذور محمد افضل پرے بھی شامل ہیں۔ سیکڑوں لوگوںنے ضلع کولگام کے علاقوں چولگام اور بڈرو میں گرفتاریوں کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اورسڑک بلاک کر دی۔
نام نہاد ضمنی انتخابی پولنگ9 اور 12اپریل کو سرینگر اور اسلام آباد کے حلقوں میں کرائی جائے گی تاہم میر واعظ عمر فاروق کی سربراہی میں قائم حریت فورم ، تحریک حریت جموںوکشمیر اور کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما نعیم احمد خان نے سرینگر میں جاری اپنے بیانات میں کٹھ پتلی انتظامیہ کی طرف سے جاری گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے۔ انھوں نے افسوس ظاہر کیا کہ انتظامیہ نے مقبوضہ علاقے میں اظہار رائے کی آزادی پر قدغن عائد کر رکھی ہے، حریت رہنماؤں الطاف احمد شاہ ، غلام نبی ذکی، شیخ عبدالرشید اور عمر عادل ڈار نے سرینگر میں نام نہاد پارلیمانی انتخابات کے بائیکاٹ کی مہم شروع کی۔ انھوں نے لوگوں میں انتخابات مخالف پوسٹر اور پمفلٹ تقسیم کیے اور ان سے انتخابی ڈھونگ سے دور رہنے کی اپیل کی۔
دوسری جانب کل جماعتی حریت کانفرنس نے ایک بیان میں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور عالمی ریڈ کراس کمیٹی سمیت انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر زوردیا کہ وہ بھارت کی مختلف جیلوں میں نظربند کشمیری سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے عملی اقدامات کریں۔
ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے چیئرمین شبیر احمد شاہ نے پاکستان کو اس کے قومی دن پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا 1940 میں لاہور میں پاس ہونے والی قرارداد پاکستان کشمیری عوام کیلیے باعث تقویت اور مشعل راہ ہے، کشمیریوں کیلیے ہردن یوم پاکستان ہے کیونکہ وہ اس ملک سے گہری محبت کرتے ہیں۔
علاوہ ازیں آل پارٹیز سکھ کوآرڈی نیشن کمیٹی کے چیئرمین جگموہن سنگھ رعنا نے سرینگر میں ایک بیان میں کٹھ پتلی انتظامیہ پر زوردیا کہ وہ 20 مارچ 2000 کو ضلع اسلام آباد کے علاقے چھٹی سنگھ پورہ میں سکھ برادری کے 35افراد کو قتل کرنے والے مجرموں کو گرفتارکرے۔ بھارتی فوجیوں نے اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن کے دورہ بھارت کے موقع پران سکھوں کو قتل کیا تھا۔