82لاشوں کیساتھ احتجاج کا تیسرا دن کوئٹہ کے بعد کراچی سمیت ملک بھر میں دھرنے

کراچی اور دیگر شہروں میں بھی شرکا کامطالبات کی منظوری تک احتجاج ختم نہ کرنیکا فیصلہ

کوئٹہ میں بم دھماکوں کے بعد شہدا کے لواحقین میتوں کے ساتھ دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

کوئٹہ میں بم دھماکوں میں جاں بحق ہونے والے82 افراد کی میتوں کے ساتھ جائے وقوع علمدار روڈ پر مظاہرین کا احتجاجی دھرنا تیسرے روز میں داخل ہوگیا جب کہ کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاہور ودیگر شہروں میں بھی کوئٹہ کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کیلیے دھرنے دیے گئے۔

بی بی سی کے مطابق علمدار روڈ پر ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد دھرنے میں شامل ہے، صبح مظاہرین نے علمدار روڈ سے آئی جی پولیس کے دفتر تک مارچ کیا اور دفتر کے سامنے دھرنا دیا۔ سیکریٹری داخلہ اکبر حسین درانی کا کہنا ہے کہ حکام کا مظاہرین سے بات چیت کا سلسلہ جمعے کی رات سے جاری ہے اور اس میں جلد کامیابی کا امکان ہے جس کے بعد لاشوں کی تدفین ہو سکے گی۔ادھر وفاقی وزیر مذہبی امور سید خورشید شاہ وزیر اعظم کی ہدایت پر ہفتے کو بذریعہ طیارہ کوئٹہ پہنچے اور ایئر پورٹ سے سیدھے دھرنا دینے والوںسے مذاکرات کیلیے علمدار روڈ گئے جہاں انھوں نے گورنر بلوچستان ذوالفقارعلی مگسی کے ہمراہ دھرنے کے شرکا سے ملاقات کی۔

اس موقع پر چیف سیکریٹری ،سیکریٹری داخلہ ، آئی جی پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے ، خورشید شاہ نے مجلس وحدت مسلمین کے رہنمائوں کو مطالبات تسلیم کرنے کی یقین دہانی کرائی تاہم مظاہرین نے عملی اقدام تک احتجاج ختم کرنے سے انکار کر دیا ،بات چیت رات گئے تک جاری رہی۔این این آئی کے مطابق خورشید شاہ اور یکجہتی کونسل و شیعہ علماء کے درمیان مذاکرات کسی حتمی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکے اور وفاقی وزیر نے یکجہتی کونسل اور علماء سے ایک دن کی مہلت مانگی ہے کہ وہ مطالبات کے بارے میںمرکزی قیادت سے بات چیت کے بعد ہی کوئی جواب دے سکیں گے۔

بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں خورشید شاہ نے کہا کہ میں نے تجویز دی ہے کہ جو مطالبات پیش کیے گئے ہیں اس کے بارے میں مرکزی قیادت کو آگاہ کروںگا اس وقت تک آپ میتیں دفنا دیں بے شک دھرنا جاری رکھیں،آئین کے مطابق جب تک وزیراعلیٰ نہیں کہتے اس وقت تک صوبے میں گورنر راج نافذ نہیں ہو سکتا،دشمن کی حکمت عملی ہوتی ہے کہ ایسے حالات پیدا کرے جس سے قوم مایوس ہو جائے اور فائدہ اٹھا سکے،اس موقع پر ایک صحافی نے گورنربلوچستان سے سوال کیا کہ اتنے لوگ مارے گئے ہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان کہاں ہیں؟ ایک نجی ٹی وی کے مطابق اس پر گورنر نے جواب دیا کہ اگر صوبے میں وزیر اعلیٰ ہوتا تو مجھے آنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ میرے اس جواب میں آپ کے لیے بہت سی باتیں پوشدہ ہیں۔




دریں اثنا اسلام آباد سے نمائندہ ایکسپریس کے مطابق سول سوسائٹی و ہزارہ برادری کے افراد نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر مظاہرہ کیا ۔ لاہورسے نمائندہ ایکسپریس کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے زیراہتمام گورنر ہاوس لاہورکے سامنے بھی ہفتے کی شام 4 بجے سے دھرنا جاری ہے جو تحریک کے رہنماؤں علامہ عبدالخالق اسدی، مظاہر شگری اور دیگر کے بقول مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔کارکنوں نے سردی اور بھوک سے بچنے کیلیے خوراک اور بستر کمبل پہنچادیے جبکہ مزید کارکن گورنر ہاؤس پہنچ رہے ہیں، مال روڈ پہلے ہی بلاک تھی جبکہ مزید روڈ بھی دھرنے کی وجہ سے بلاک ہورہے ہیں۔دھرنا دینے والے مظاہرین میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

دریں اثناء مجلس وحدت مسلمین، شیعہ علما کونسل و دیگر شیعہ تنظیموں کے تحت سانحہ کوئٹہ کیخلاف ہفتہ کو کراچی کے مختلف علاقوں پرانی نمائش، شاہراہ پاکستان ، رضویہ سوسائٹی، نیشنل ہائی وے ، انچولی سوسائٹی و دیگر مقامات پر رات گئے تک احتجاجی دھرنے جاری تھے، مجلس وحدت مسلمین کی اپیل پرملک بھر میں احتجاجی دھرنوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔اسٹاف رپورٹر کے مطابق کراچی میں شیعہ تنظیموں کے قائدین نے مطالبہ کیا ہے کہ جب تک بلوچستان حکومت کو برطرف نہیں کیا جائے گا اور کوئٹہ شہر کو فوج کے حوالے نہیں کیا جائے گا دھرنے اور احتجاج ختم نہیں ہوگا ۔

مجلس و حدت مسلمین کی اپیل پر نمائش چورنگی اورنیشنل ہائی وے پر احتجاجی دھرنے دیے گئے ۔احتجاجی دھرنوں میں بزرگ ،خواتین ،بچوں سمیت نو جوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور کوئٹہ میںدو روز سے جاری دھرنے کے شرکا سے اظہار یکجہتی اور شیعیان ِ پاکستان پر مظالم کی شدید مذمت کی اور دہشت گردوں اور نااہل حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی ۔مجلس و حدت مسلمین کے سر براہ علامہ نا صر عباس جعفری نے نمائش پر احتجاجی دھرنے سے ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے کہا کہکوئٹہ میں شیعہ افراد کے قتل میں حکومت بلوچستان ملوث ہے۔ ایک مخصوص گروپ دہشت گردی میں ملوث ہے حکمراں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ عہدیدار گذشتہ 20سال سے پاکستان میں خود ساختہ فرقہ واریت کا ڈھول پیٹ رہے ہیں ۔

بلوچستان حکومت کی برطرفی اور فوج کی طلبی سے کم کسی موقف پر بات نہیں کی جائے گی۔نیشنل ہائی وے پر احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے علامہ ناظر عباس تقوی نے کہا کہ حکومتی مشینری اور میڈیا کی توجہ ایک لانگ مارچ کو روکنے پر مرکوز ہے قوم مرتی ہے تو مرتی رہے۔ شاہراہ پاکستان پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے علامہ علی انور جعفریاوردیگر نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت نے دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے تو کوئٹہ سمیت پاکستان کے تمام شہروں کو جام کر دیا جائے گا۔ اور آنے والے تمام حالات کی ذمیہ دار حکومت اور فوج ہوگی ۔مجلس وحدت مسلمین کے کارکنان نیملک کی تمام مرکزی شاہراہیں بلاک کر دی ہیں۔

بلخصوص کراچی میںنمائش چورنگی،شاہراہ پاکستان ،نیشنل ہائی وے اورسپر ہائی پر احتجاجی دھرنے کے باعث ٹریفک معطل تھا۔این این آئی کے مطابق ہزارہ برادری کی حمایت میں شیعہ علماء کونسل حیدرآباد کی جانب سے آٹو بھان روڈ پر احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا دیا گیا۔نمائندگان ایکسپریس کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی اپیل پرملک بھر میں احتجاجی دھرنوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ، علامہ ناصر عباس جعفری نے علمدار روڈکوئٹہ پرشہداء کی لاشوں کے ہمراہ احتجاج دھرنے کے شرکا سے خطاب کے دوران اعلان کیا کہ جب تک کوئٹہ کو فوج کے حوالے نہیں کیا جاتا احتجاجی دھرنے جاری رہیں گے۔

انھوںنے مطالبہ کیاکہ بلوچستان کے نااہل وزیر اعلی اسلم رئیسانی کو بر طرف کر کے کوئٹہ کو فوج کے حوالے کیا جائے اور بلوچستان میںامن وامان کی صورتحال یقینی بنائی جائے، احتجاج مطالبات پورے ہونے تک جاری رہے گا،انھوںنے اہل تشیع سے اپیل کی کہ وہ گھروں سے باہرنکلیںاوراس بہیمانہ قتل عام کیخلاف منظم احتجاج کریں۔اسلام آباد میں مجلس وحدت مسلمین کے کارکنوں نے چوک فیض آباد میں احتجاجی دھرنا دے کر راولپنڈی اور اسلام آباد کے تمام راستے بلاک کر دیے ،مظاہرین نے حکومت بلوچستان اور دہشتگردوں کے خلاف نعرے بازی کی ۔کوہاٹ کے علاقے استرزئی میں سیکڑوں افراد نے ٹل کوہاٹ روڈ پر دھرنا دے کر روڈ بلاک کر دی۔مجلس وحدت مسلمین کی اپیل پر حیدر آباد ، لاہور، ڈیرہ غازی خان، جھنگ، سکھر، جیکب آباد، جام شورو، نواب شاہ ،بھکر، ملتان، لیہ، اٹک،ٹوبہ ٹیک سنگھ،گلگت اوراسکردوسمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوںمیں احتجاجی دھرنے دیے گئے۔

Recommended Stories

Load Next Story