تاریخی لانگ مارچ آج شروع ہوگا اب ہر بات پارلیمنٹ کے سامنے ہوگی طاہر القادری

انتخابات آرٹیکل 62،63 اور 218 اورعوامی نمائندگی ایکٹ 1976 کے سیکشن77تا 82کے تحت ہوں، طاہرالقادری کی شرائط

اسلام آباد:لانگ مارچ روکنے کے لیے شاہراہ دستور کو مختلف قسم کی رکاوٹوں کے ذریعے آمدورفت کے لیے بند کردیا گیا ہے۔ فوٹو: آن لائن

انتخابی اصلاحات کے مطالبے پر عملدرآمد کرانے کیلیے تحریک منہاج القرآن کا لانگ مارچ آج لاہور سے روانہ ہوگا۔

جبکہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے موجودہ الیکشن کمیشن کو دو جماعتوں کے درمیان مک مکا کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے اسے تحلیل کرنے اور آئین و قانون کے مطابق اس کی ازسرنو غیرجانبدارانہ اور غیر سیاسی تشکیل اور ایک طاقتور الیکشن کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہفتہ کو پریس کانفرنس میں انھوں نے لانگ مارچ کیلیے7 نکاتی ایجنڈے میں سے میڈیا کو انتخابی اصلاحات سے متعلق3 نکات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ 4 نکات میکانزم سے متعلق ہیں جن کا اعلان اسلام آباد میں کیا جائے گا ۔انھوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنرکی دیانتداری پر ہمیں کوئی شک و شبہ نہیں لیکن 86 سال کا ضعیف العمر چیف الیکشن کمشنر مکمل طور پر بے اختیار ہے ۔

برسراقتدار جماعتوں کے ہوتے ہوئے غیر جانبدار حکومت قائم نہیں ہوسکتی۔ انھوں نے دوسرے مطالبے میں کہاکہ انتخابات آئین کے آرٹیکل 62،63 اور 218کے تحت ہوں ورنہ عوام انھیں قبول نہیں کرینگے جبکہ تیسرے مطالبے میں طاہرالقادری نے کہاکہ انتخابات عوامی نمائندگی ایکٹ 1976 کے سیکشن77تا 82کے تحت ہوںگے ورنہ عوام انتخابات کا راستہ روک دینگے۔ انھوں نے کہا کہ آج مارچ کے آغاز کے بعد فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہوگا۔ لانگ مارچ کسی ایک فون کال کا محتاج ہے نہ یہ گوجرانوالہ یا اسلام آباد سے واپس آئیگا بلکہ مطالبات پورے ہونے تک ہم اسلام آباد میں موجود رہیں گے۔

مجھے آرمی چیف کی کوئی کال موصول ہوئی ہے نہ انھیں مجھے فون کرنا چاہیے بلکہ انھیں اپنے کردارکے مطابق سیاست سے ماورا رہ کرکردار ادا کرنا چاہیے۔ پولیس عیاشوں کے غیرآئینی احکام پر عمل نہ کرے اور مجھے امید ہے کہ پاک افواج کے جوان اپنی مائوں، بہنوں ، بچوں، بوڑھوں اور جوانوں پر گولی نہیں چلائیں گے، اگر ایسا کرنا ہے تو سب سے پہلے میرے سینے میں گولی اتاریں۔ انھوں نے کہا کہ وہ لانگ مارچ کا آغاز آج صبح9 بجے حضرت داتا گنج بخش ؒ کے مزار سے کرینگے اور اختتام حضرت امام بری سرکار ؒ پر ہوگا۔ اس کے بعد پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے ڈی اسکوائر اسلام آباد میں جمع ہونگے۔




 

کئی شہروں سے قافلوں کی روانگی جمعے سے شروع ہوچکی ہے اور بہت سے قافلے ہفتے کو اسلام آباد کی طرف روانہ ہوگئے جبکہ لاہور سے مرکزی قافلہ آج صبح 9 بجے داتا صاحب سے نکلے گا ۔ ہمارا مارچ نہ صرف تاریخی ہوگا بلکہ یہ مارچ مائوزے تنگ کے لانگ مارچ کی طرح اقوام عالم کی تاریخ کا بڑا مارچ ہوگا۔ پریس کانفرنس کے دوران وزیر داخلہ رحمن ملک کی پریس کانفرنس کی فوٹیج بھی دکھائی گئی جس پر ڈاکٹر طاہرالقادری نے رحمٰن ملک کے بیان پر چیف جسٹس آف پاکستان سے از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ رحمن ملک کے بقول میرے اوپر حملے ہوسکتا نہیں بلکہ ہوگا، اس لیے اس شخص کو فوری گرفتارکیا جائے اور تحقیقات کرکے پاکستان میں موجود دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑا جائے ۔

رحمٰن ملک نے مجھے براہ راست دھمکی دی ہے لیکن میں بتانا چاہتا ہوں کہ میں صرف اﷲ تعالیٰ کی ذات سے ڈرنے والا ہوں اور اس طرح کی دھمکیاں مجھے میرے مشن سے پیچھے ہٹاسکتیں، مجھے بلوچستان سے پیپلز پارٹی کے رہنما حاجی سینیٹر میر لشکری رئیسانی نے فون کر کے کہا ہے کہ بلوچستان میں ڈیڑھ سو لوگوں کی میتیں سڑکوں پر پڑی ہیں لیکن وہاں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں۔ انھوں نے تحریک انصاف کی قیادت اورکارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ تو تبدیلی کی بات کرتے ہیں اور اس سے بڑھ کرکوئی اور موقع نہیں آئیگا ۔ اگر انتخابات سے پہلے اصلاحات نہ ہوسکیں تو پھر جھرلو پارلیمنٹ آئے گی اور تبدیلی کے خواہشمند خون کے آنسو روئیں گے ۔ ہم غرور میں اکڑی گردنیں اﷲ کی مدد سے جھکائیں گے۔

طاہر القادری کا کہنا تھا کہ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ لانگ مارچ والوں کا راستہ نہ روکا جائے ورنہ عوام کے غیض وغضب کا سامنا کرنا پڑیگا اور مارچ روکنے والوں کو کہیں سر چھپانے کو جگہ نہیں ملے گی ۔ آئی این پی کے مطابق تحریک منہاج القرآن کے سربراہ نے کہا کہ موجودہ الیکشن کمیشن کو آزاد اور خودمختار کہنے والے جھوٹ بولنے سے پہلے شرم سے ڈوب مریں ، فوج نے اپنا صحیح کردار ادا کیا ہے، وہ کبھی عوام کے سمندر کے سامنے نہیں آئے گی، عوام کی لاشیں نہیں گرائے گی۔فوج کا لاتعلق رہنا ان کے منصب کا تقاضا ہے۔ بی بی سی کو انٹرویو میں طاہرالقادری نے کہا کہ حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ، سیکیورٹی وارننگ دینے والوں کے اپنے انتہاپسندوں کے ساتھ رابطے ہیں۔ مارچ کیلیے تحریری اجازت مانگی تھی جو حکومت نے نہیں دی۔ حکومت دھاندلی، دھونس اور 'دہشت گردی' پر یقین رکھتی ہے مذاکرات پر نہیں۔

Recommended Stories

Load Next Story