وفاق کابلوچستان میں گورنرراج لگانے پرسنجیدگی سے غور

تشویشناک صورتحال میں صوبائی وزراکے موبائل فون بند،وزیراعلیٰ بیرون ملک دورے پرہیں

صدرنے پارٹی عہدیداروں وماہرین سے مشورے شروع کردیے،گورنرکی تبدیلی کی بھی تجویز فوٹو: فائل

WASHINGTON:
بلوچستان میں حالیہ واقعات کے باوجودصوبائی حکومت کی بے حسی کے بعدوفاق نے بلوچستان میںگورنرراج لگانے پرسنجیدگی سے غورشروع کردیا ہے۔

بلوچستان میں انتہائی تشویشناک صورتحال ہونے کے باوجودصوبائی وزراکے موبائل فون نمبربندہیں جبکہ وزیراعلیٰ بیرون ملک ہیں،وزیراعظم کو وزیراعلیٰ کوبلوچستان کے حالات کے پیش نظروطن واپس بلانا پڑا۔سپریم کورٹ پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ مقامی حکومت صوبے کے حالات کنٹرول کرنے میں ناکام ہوچکی،آئین کے تحت آرٹیکل232 کے تحت صدرصوبے میں گورنر راج لگانے کا اختیاررکھتے ہیں۔


باخبرذرائع کے مطابق صدرنے پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے بلوچستان کے مسئلے پرطویل صلح مشورے کیے،آئینی ماہرین سے بھی مشورے کیے جارہے ہیں،بعض رہنمائوں نے تجویز دی ہے کہ بلوچستان کو حالات کو کنٹرول کرنے اور عوام کے مطالبے کوتسلیم کرنے کے لیے گورنر راج لگا دیا جائے۔ذرائع نے مزیدبتایا کہ خورشید شاہ اور قمر زمان کائرہ پرمشتمل مذاکراتی ٹیم کے کوئٹہ میں دھرنے کے شرکاسے مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں۔



دھرنے کے شرکاء نے گورنر بلوچستان ذوالفقار مگسی اور مذاکراتی ٹیم کے ارکان پر واضح کردیا ہے کہ جب تک بلوچستان حکومت کو برطرف نہیں کیا جاتا اور کوئٹہ شہر کو فوج کے حوالے نہیں کیاجاتا سانحہ کوئٹہ کے جاں بحق شہداکی تدفین نہیں کی جائے گی۔اس صورتحال میں بلوچستان کے حوالے سے اہم فیصلے جلدمتوقع ہیں۔ذرائع کاکہناہے کہ گورنربلوچستان کی تبدیلی کی امکان بھی ہے اورنئے گورنر کے لیے سردار فتح محمدحسنی کانام زیر غور ہے ۔

Recommended Stories

Load Next Story