مطالبات پورے ہونے تک اسلام آباد میں بیٹھیں گے قاضی فیض
چوہدری برادران جس سے ملے وہ جاں بحق ہوگیا، قادری سے ملاقاتیں اچھا شگون نہیں، مشاہداللہ
پوری کوشش ہے کہ مذاکرات کیے جائیں، مہرین راجا، ایکسپریس نیوز پر ’’تکرار‘‘ میں گفتگو فوٹو : فائل
تحریک منہاج القرآن کے ترجمان قاضی فیض نے کہا ہے کہ ہم 100 فی صد آج لانگ مارچ کیلیے نکلیں گے۔
لاہور سے لاکھوں افراد ہمارے ساتھ ہوں گے۔ تمام ساتھیوں کی سہولت کیلیے وسیع انتظامات کیے ہیں۔ ہفتہ کو ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''تکرار'' میں اینکر پرسن عمران خان سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ طاہر القادری نے کوئی بنکر نہیں بنایا، وہ اپنی بلٹ پروف گاڑی میں ہی سفر کریں گے۔کبھی بنکر بھی ٹریول کرتا ہے؟۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے مذاکرات کے راستے بند نہیں کیے لیکن مذاکرات کسی بھی صورت میں لانگ مارچ نہیں روک سکتے۔
حتمی مذاکرات اسلام آباد میں ہوں گے، بند کمروں میں کوئی بات نہیں ہوگی۔ حکومت پنجاب کی چال ہے کہ لاہور میں ہمارے کسی ورکر کو نہیں روکا گیا لیکن پنجاب کے دیگر شہروں میں ہمارے ساتھیوں کو ناصرف روکا جارہا ہے بلکہ ٹرانسپورٹروں کو ڈرایا جارہا ہے کہ اگر انھوں نے لانگ مارچ میں شرکت کی تو ان کے لائسنس منسوخ کردیے جائیںگے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کان کھول کر سن لے! ہمارے ساتھیوں کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی، اللہ نے ان کو ٹانگیںدی ہیں وہ پیدل بھی آجائیںگے اور آج نہیں تو کل پہنچ جائیںگے، لانگ مارچ لمبا ہوتاجائے گا جب تک ہمارے مطالبات نہیں مان یئے جاتے ہم وہاں سے نہیں اٹھیں گے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما مشاہد اللہ خان نے کہاکہ طاہر القادری کے مارچ کا آج پتہ چل جائیگا، لانگ مارچ کے خدوخال مثبت نہیں، دوسری بات یہ ہے کہ طاہر القادری سے شجاعت اور پرویزالٰہی ملاقاتیں کررہے ہیں۔ جب یہ اکبر بگٹی سے ملنے گئے تو وہ ہلاک ہوگئے، لال مسجدکی بچیوں سے مذاکرات کیلیے گئے تو ان پر گولیاں چل گئیں اور اب یہ طاہرالقادری سے مل رہے ہیں جو اچھا شگون نہیں ۔ لاہور کی تاریخ ہے کہ ہر کوئی اس پر دھاوا بولتا ہے، طاہرالقادری الیکشن میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔
پیپلزپارٹی کی رہنما مہرین انور راجہ نے کہا کہ جمہوری دور ہے اس لیے ان کو لانگ مارچ اور احتجاج کی اجازت دی گئی ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنے لیے تو ایک بڑا بنکر بنوا لیا ہے لیکن عوام کیا کریں گے؟۔ انھوں نے کہا کہ ہم جمہوری لوگ ہیں، ہماری پوری کوشش ہے کہ مذاکرات کیسے جائیں، میری دعا ہے کہ یہ لوگ خیریت سے جائیں اور خیریت سے آئیں، لانگ مارچ صرف جذباتی ہوکر کیا جارہاہے۔
لاہور سے لاکھوں افراد ہمارے ساتھ ہوں گے۔ تمام ساتھیوں کی سہولت کیلیے وسیع انتظامات کیے ہیں۔ ہفتہ کو ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''تکرار'' میں اینکر پرسن عمران خان سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ طاہر القادری نے کوئی بنکر نہیں بنایا، وہ اپنی بلٹ پروف گاڑی میں ہی سفر کریں گے۔کبھی بنکر بھی ٹریول کرتا ہے؟۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے مذاکرات کے راستے بند نہیں کیے لیکن مذاکرات کسی بھی صورت میں لانگ مارچ نہیں روک سکتے۔
حتمی مذاکرات اسلام آباد میں ہوں گے، بند کمروں میں کوئی بات نہیں ہوگی۔ حکومت پنجاب کی چال ہے کہ لاہور میں ہمارے کسی ورکر کو نہیں روکا گیا لیکن پنجاب کے دیگر شہروں میں ہمارے ساتھیوں کو ناصرف روکا جارہا ہے بلکہ ٹرانسپورٹروں کو ڈرایا جارہا ہے کہ اگر انھوں نے لانگ مارچ میں شرکت کی تو ان کے لائسنس منسوخ کردیے جائیںگے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کان کھول کر سن لے! ہمارے ساتھیوں کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی، اللہ نے ان کو ٹانگیںدی ہیں وہ پیدل بھی آجائیںگے اور آج نہیں تو کل پہنچ جائیںگے، لانگ مارچ لمبا ہوتاجائے گا جب تک ہمارے مطالبات نہیں مان یئے جاتے ہم وہاں سے نہیں اٹھیں گے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما مشاہد اللہ خان نے کہاکہ طاہر القادری کے مارچ کا آج پتہ چل جائیگا، لانگ مارچ کے خدوخال مثبت نہیں، دوسری بات یہ ہے کہ طاہر القادری سے شجاعت اور پرویزالٰہی ملاقاتیں کررہے ہیں۔ جب یہ اکبر بگٹی سے ملنے گئے تو وہ ہلاک ہوگئے، لال مسجدکی بچیوں سے مذاکرات کیلیے گئے تو ان پر گولیاں چل گئیں اور اب یہ طاہرالقادری سے مل رہے ہیں جو اچھا شگون نہیں ۔ لاہور کی تاریخ ہے کہ ہر کوئی اس پر دھاوا بولتا ہے، طاہرالقادری الیکشن میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔
پیپلزپارٹی کی رہنما مہرین انور راجہ نے کہا کہ جمہوری دور ہے اس لیے ان کو لانگ مارچ اور احتجاج کی اجازت دی گئی ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنے لیے تو ایک بڑا بنکر بنوا لیا ہے لیکن عوام کیا کریں گے؟۔ انھوں نے کہا کہ ہم جمہوری لوگ ہیں، ہماری پوری کوشش ہے کہ مذاکرات کیسے جائیں، میری دعا ہے کہ یہ لوگ خیریت سے جائیں اور خیریت سے آئیں، لانگ مارچ صرف جذباتی ہوکر کیا جارہاہے۔