پاک بھارت آبی مذاکرات اور مستقبل کے خدشات
اگر پانی دستیاب نہ ہوا تو پاکستان کے کھیتوں،کھلیانوں میں ریت اڑتی نظرآئے گی
۔ فوٹو؛ فائل
KARACHI:
بھارت اورپاکستان ہمسایہ ممالک ہیں، دونوں نے ایک دن کے فرق سے برطانوی راج سے آزادی حاصل کی، لیکن اسے بدقسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان بہت سے حل طلب مسائل ستربرس بیت جانے کے بعد بھی جوں کے توں ہیں، جن میں مسئلہ کشمیر سرفہرست ہے ۔ جب کہ اس وقت بھارت اپنی طاقت کے بل بوتے پر پاکستان کی طرف آنے والے دریاؤں کا پانی اپنے علاقے میں ڈیمزبناکر روک رہا ہے، نہ تو ان ڈیمز بنانے کی کوئی اطلاع پاکستان کو پہلے دی گئی اور نہ ہی ان کے ڈیزائن دکھائے گئے اور دوسرا بغیر اطلاع کے دریاؤں میں پانی چھوڑنے سے پاکستان کے اکثر علاقے سیلاب کی زد میں آجاتے ہیں ۔ یہ معاملہ انیس سو ساٹھ میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے، اس معاہدے پر صدرایوب خان اورجواہر لال نہرو نے دستخط کیے تھے۔
اسی تناظر میں قدرے امید افزاء خبر پاکستان بھارت انڈس واٹرکمیشن کے مذاکرات کے حوالے سے اخبارات کی زینت بنی ہے کہ بھارت نے دریائے چناب پرمیارہائیڈروالیکٹرک منصوبے کا ڈیزائن دوبارہ تیار کرنے جب کہ لوئرکلنئی اورپکہل دل کے منصوبوں کا بھی دوبارہ مشاہدہ کرنے پراتفاق کرلیا ہے۔ دراصل بھارت کو من مانی کا موقع پاکستان کی غفلت نے ہی فراہم کیا۔ ہمیں باہم دست وگریبان ہونے سے فرصت نہیں، ہم نئے آبی ذخائرکے منصوبے بروقت شروع نہ کرسکے، نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں توانائی کا شدید بحران پیدا ہوا اور ملکی معیشت کو شدید ترین نقصان پہنچا،جس کا ازالہ تاحال نہیں ہوسکا ہے۔مذاکرات کے بعد وزارت پانی وبجلی کے جاری اعلامیے میںکہا گیا کہ کمشنرزکے اجلاس کے دوران بھارت لوئرکلنئی کے آبیانہ اور پکہل دل کے اسپیل ویز سے متعلق پاکستان کے اعتراضات پر نظرثانی کرنے پرتیارہوگیا ہے۔
مذاکرات کے دوران پاکستان نے سیلاب کے موسم میں سیلاب کی پیشگی اطلاع کے لیے دریائے چناب پر بگلیہاراورسلال ڈیموں سے پانی کے اخراج کا ڈیٹا فراہم کرنے کا مطالبہ کیا، جسے بھارت نے قبول کرلیا۔اجلاس کی تفصیلات کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے، لیکن ارباب اختیار کو اپنی کوتاہیوں اور خامیوں پربھی نظر ڈالنی چاہیے۔اگر پانی دستیاب نہ ہوا تو پاکستان کے کھیتوں،کھلیانوں میں ریت اڑتی نظرآئے گی ۔ سندھ کے وزیراعلیٰ مرادعلی شاہ نے کہا ہے کہ صوبے میں پانی کا شدید بحران پیدا ہونے والا ہے۔یہ ایک الارمنگ صورتحال ہے، آنے والے وقت کا ادراک کیا جائے، خطے میں پانی کا بحران انتہائی شدید ہوگا۔ دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کو اس ضمن میں سرجوڑ کر بیٹھنا چاہیے، نہ کہ وقت گزاری کے لیے مذاکرات ، مذاکرات کا طویل سیاسی کھیل کھیلا جائے۔ یہ خطے کے ڈیڑھ ارب انسانوں کی بقا کا مسئلہ ہے۔
بھارت اورپاکستان ہمسایہ ممالک ہیں، دونوں نے ایک دن کے فرق سے برطانوی راج سے آزادی حاصل کی، لیکن اسے بدقسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان بہت سے حل طلب مسائل ستربرس بیت جانے کے بعد بھی جوں کے توں ہیں، جن میں مسئلہ کشمیر سرفہرست ہے ۔ جب کہ اس وقت بھارت اپنی طاقت کے بل بوتے پر پاکستان کی طرف آنے والے دریاؤں کا پانی اپنے علاقے میں ڈیمزبناکر روک رہا ہے، نہ تو ان ڈیمز بنانے کی کوئی اطلاع پاکستان کو پہلے دی گئی اور نہ ہی ان کے ڈیزائن دکھائے گئے اور دوسرا بغیر اطلاع کے دریاؤں میں پانی چھوڑنے سے پاکستان کے اکثر علاقے سیلاب کی زد میں آجاتے ہیں ۔ یہ معاملہ انیس سو ساٹھ میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے، اس معاہدے پر صدرایوب خان اورجواہر لال نہرو نے دستخط کیے تھے۔
اسی تناظر میں قدرے امید افزاء خبر پاکستان بھارت انڈس واٹرکمیشن کے مذاکرات کے حوالے سے اخبارات کی زینت بنی ہے کہ بھارت نے دریائے چناب پرمیارہائیڈروالیکٹرک منصوبے کا ڈیزائن دوبارہ تیار کرنے جب کہ لوئرکلنئی اورپکہل دل کے منصوبوں کا بھی دوبارہ مشاہدہ کرنے پراتفاق کرلیا ہے۔ دراصل بھارت کو من مانی کا موقع پاکستان کی غفلت نے ہی فراہم کیا۔ ہمیں باہم دست وگریبان ہونے سے فرصت نہیں، ہم نئے آبی ذخائرکے منصوبے بروقت شروع نہ کرسکے، نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں توانائی کا شدید بحران پیدا ہوا اور ملکی معیشت کو شدید ترین نقصان پہنچا،جس کا ازالہ تاحال نہیں ہوسکا ہے۔مذاکرات کے بعد وزارت پانی وبجلی کے جاری اعلامیے میںکہا گیا کہ کمشنرزکے اجلاس کے دوران بھارت لوئرکلنئی کے آبیانہ اور پکہل دل کے اسپیل ویز سے متعلق پاکستان کے اعتراضات پر نظرثانی کرنے پرتیارہوگیا ہے۔
مذاکرات کے دوران پاکستان نے سیلاب کے موسم میں سیلاب کی پیشگی اطلاع کے لیے دریائے چناب پر بگلیہاراورسلال ڈیموں سے پانی کے اخراج کا ڈیٹا فراہم کرنے کا مطالبہ کیا، جسے بھارت نے قبول کرلیا۔اجلاس کی تفصیلات کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے، لیکن ارباب اختیار کو اپنی کوتاہیوں اور خامیوں پربھی نظر ڈالنی چاہیے۔اگر پانی دستیاب نہ ہوا تو پاکستان کے کھیتوں،کھلیانوں میں ریت اڑتی نظرآئے گی ۔ سندھ کے وزیراعلیٰ مرادعلی شاہ نے کہا ہے کہ صوبے میں پانی کا شدید بحران پیدا ہونے والا ہے۔یہ ایک الارمنگ صورتحال ہے، آنے والے وقت کا ادراک کیا جائے، خطے میں پانی کا بحران انتہائی شدید ہوگا۔ دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کو اس ضمن میں سرجوڑ کر بیٹھنا چاہیے، نہ کہ وقت گزاری کے لیے مذاکرات ، مذاکرات کا طویل سیاسی کھیل کھیلا جائے۔ یہ خطے کے ڈیڑھ ارب انسانوں کی بقا کا مسئلہ ہے۔