6 سال بعد

کویت مشرقی وسطیٰ کے ان ممالک میں شامل ہے جو پسماندہ ملکوں کے عوام کو روزگارکے مواقعے فراہم کرتا ہے

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

کویت مشرقی وسطیٰ کے ان ممالک میں شامل ہے جو پسماندہ ملکوں کے عوام کو روزگارکے مواقعے فراہم کرتا ہے۔ بیرون ملک خصوصاً مشرق وسطیٰ میں معمولی روزگار کے لیے پاکستان سے لیبر فورس کے جانے کا سلسلہ بھٹوکے دور سے شروع ہوا۔ بھٹو ایک ذہین سیاسی رہنما تھے اگرچہ کہ ان کا تعلق ایک جاگیردار گھرانے سے تھا لیکن وہ حسب توفیق عوام کے مسائل کے حل کے لیے کوشاںرہتے لیکن ان کی بود باش، رہن سہن سب جاگیردارانہ تھا کیونکہ وہ صحیح معنوں میں اپنے آپ کو ڈی کلاس نہیں کرسکے تھے جب ہم ایسے عوام دوست جاگیرداروں کی بات کرتے ہیں تو ہماری نظروں میں حسن ناصرشہید کا چہرہ گھوم جاتا ہے، حسن ناصر کا تعلق بھی حیدرآباد دکن کے ایک بڑے جاگیردار گھرانے سے تھا وہ جب پاکستان آئے تو ان کی ملاقاتیں ترقی پسند دوستوں سے ہوئیں اور بہت جلد وہ صحیح معنوں میں عوام دوست جاگیردار گھرانے کے فرد بن گئے۔لانڈھی اورسائٹ میں مزدور بستیوں میں مزدوروں کے ساتھ رہنے لگے کیونکہ انھوں نے حقیقی معنوں میں اپنے آپ کو ڈی کلاس کرلیا تھا، وہ فیشنی ڈی کلاس نہیں تھے کہ اندر سے کچھ اور ہوں اور باہر سے کچھ اور۔

بات چلی تھی کویت سے کہا جارہا ہے کہ کویت کے حکمرانوں نے 6 سال بعد پاکستانیوں کے لیے ویزے کے اجرا کا فیصلہ کیا ہے۔ بلاشبہ اس فیصلے کو ہم ایک مثبت قدم کہہ سکتے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 6 سال قبل پاکستانیوں کے لیے ویزا پر پابندی کیوں لگائی گئی تھی؟کیا پاکستان کے ان محنت کشوں نے کوئی غلطی کی تھی، جس کی پاداش میں ان پرکویت میں ملازمتوں کے دروازے بند کیے گئے تھے؟ اگر ایسا نہیں تھا تو پھر پاکستان کے ان غریب لوگوں پرکویت میں ملازمتوں پر 6 سال تک پابندی کیوں لگائی گئی؟ اگر حکومتوں کی سطح پرکوئی اختلافات یا ناراضگیاں پیدا ہوئی تھیں تو اس کی سزا غریب محنت کشوں کوکیوں دی گئی تھی؟

بھٹوکے دور سے بیرون ملک محنت کشوں کے لیے روزگارکی جو سہولتیں فراہم کی گئیں اگرچہ روایت کے مطابق اس میں بھی بدعنوانیوں اور امتیازات کے پہلو موجود تھے لیکن یہ پہلا موقعہ تھا کہ بیرون ملک کام کرنے والے غریب طبقات کے خاندانوں نے بھی آسودہ زندگی کا مزہ چکھا، ورنہ اس سے قبل کوئی غریب آسودہ زندگی سے واقف ہی نہیں تھا۔ بھٹوکے بعد بیرون ملک ملازمتوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ تو شروع ہوا لیکن پاکستان کی 20 کروڑ آبادی میں بیرون ملک کام کرنے والوں کی تعداد آٹے میں نمک سے بھی کم ہے۔ ہماری حکمران ایلیٹ اس قسم کے کارنامے انجام دے کراس کا بھاری کریڈٹ تولیتی ہے، لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں کام کرنے والے ساڑھے چارکروڑ مزدوروں اور دیہی آبادی کا 60 فیصد حصہ کسانوں کی صدیوں پر پھیلی ہوئی غربت اور ناداری کویت کے ویزے کے کھلنے سے دورہوجائے گی؟ کیا کروڑوں کی تعداد میں غربت بھوک کے مارے عوام کویت جاسکیں گے؟ اس کا سوال یقینا نفی ہی میں آئے گا۔


اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کے 20 کروڑ عوام کی زندگیوں میں خوشحالی کس طرح آئے گی، 20 کروڑ عوام غربت مہنگائی بیماری اور بے روزگاری سے کس طرح نجات حاصل کرسکیں گے؟ کیا پاکستان میں اجناس کی کمی ہے کہ لوگ دووقت کی روٹی سے محروم ہیں؟ کیا پاکستان میں دولت کی کمی ہے کہ پاکستان کی آبادی کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ ضروریات زندگی خریدنے سے محروم ہے؟ کیا پاکستان میں علاج معالجے کی سہولتیں ناپید ہیں کہ غریب اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈ کے فرش پر جان سے جارہے ہیں؟ جی نہیں پاکستان میں اتنا اناج ہے کہ پاکستان کا ہر شہری تین وقت پیٹ بھر روٹی کھا سکتا ہے، پاکستان میں اس قدر دولت ہے کہ اگر دولت کی منصفانہ تقسیم ہو تو ہر پاکستانی خوشحال زندگی گزارسکتا ہے۔ پاکستان میں علاج معالجے کی اس قدرسہولتیں ہیں کہ ہر مریض کا علاج ممکن ہے لیکن ان محرومیوں کی وجہ یہ ہے کہ 80 فیصد قومی دولت پر مٹھی بھر ایلیٹ اورگنے چنے خاندان قابض ہیں اور یہ سلسلہ نیا نہیں 69 سال پرانا ہے اس 'اسٹیٹس کو' کو توڑے بغیر پاکستان کے 20 کروڑ عوام غربت و افلاس کی دلدل سے باہر نہیں آسکتے۔

کویت میں ملازمتوں پر سے پابندی ہٹنا ایک اچھا اقدام ہے لیکن بیرون ملک ملازمتیں کرنے والے پاکستانیوں کا پہلا مسئلہ یہ ہے کہ ان ملکوں میں ملازمتیں حاصل کرنا نہ آسان ہے نہ حکومت اس حوالے سے آج تک کوئی ایسی منصوبہ بندی کرسکی ہے کہ غریب عوام کو بیرون ملک ملازمتیں خریدنے کے لیے لاکھوں کا قرض لینا نہ پڑے غریب کو بیرون ملک ملازمتیں حاصل کرنے کے لیے اپنی زمینیں اور گھر نہ بیچنا پڑے۔ یہ سب اس لیے ہورہا ہے کہ ہمارے سر سے لے کر پیر تک کرپٹ معاشرے میں ہر چیزخریدی اور بیچی جاتی ہے۔ بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کو جن مسائل کا سامنا ہے کیا ہماری حکومت انھیں حل کرنے کے لیے کوئی جامع منصوبہ بندی کرسکی ہے؟

جن ملکوں میں پاکستانی روزگارکے لیے جاتے ہیں وہ ان ملکوں کے قاعدے قوانین سے ناواقف ہوتے ہیں جن مالکان کے پاس وہ کام کرتے ہیں وہ مالکان لیبر لاز پر عمل نہیں کرتے۔ مشرق وسطیٰ میں کفیل کے نام پر آمروں کی ایک کھیپ پیدا کردی گئی ہے جو ملازمت کرنے والوں سے ان کے پاسپورٹ لے لیتے ہیں جس کی وجہ پاکستانی ملازمین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بعض ناپسندیدہ عناصر بھی ملازمتوں کے بہانے بیرونی ملکوں میں پہنچ جاتے ہیں جن کی سرگرمیوں سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے۔ بیرونی ملکوں کے قاعدے قانون سے ناواقفیت کی وجہ سے اکثر لوگ جیلوں میں پہنچ جاتے ہیں اور جیلیں ان کے لیے اندھے کنوئیں بن جاتی ہیں۔ یہ ایسے مسائل ہیں جن کے حل کی ذمے داری سفارت خانوں پر آنی چاہیے اورسفارت خانوں کے پاس ''تارکین وطن'' کا پورا ریکارڈ ہونا چاہیے۔
Load Next Story