افغان جنگ میں امریکی فتح کا دعویٰ
افغانستان میں جو 33,000 اضافی فوج بھجوائی تھی، اس نے اپنا مشن مکمل کر لیا ہے، اوباما
افغانستان میں غیرملکی فورسز نے طالبان کو مضبوط ٹھکانوں سے باہر نکال پھینکا ہے، صدر اوباما۔ فوٹو: اے ایف پی
امریکی صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ آیندہ سال کے آخر تک امریکا کی افغان جنگ تمام ہو جائے گی۔ اپنے ہفتہ وار ریڈیو خطاب میں صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ایک دہائی سے زیادہ طویل عرصے کی جنگ کے بعد جس قوم کو اب تعمیر و ترقی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ خود ہماری اپنی قوم ہے۔ قبل ازیں جمعہ کے دن ایوان صدر وہائٹ ہائوس میں افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں صدر اوباما نے افغانستان سے امریکی اور دیگر بین الاقوامی فورسز کے انخلاء میں تیزی کرنے کا عندیہ دیا اور کہا کہ اب امریکی فوج افغان جنگ سے فارغ ہونے کے بعد اس موسم بہار سے اپنی ملکی تعمیر و ترقی میں تعاون کرے گی۔
ہفتہ وار ریڈیو خطاب میں امریکی صدر نے کہا: ''میں قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم اس جنگ کو کس طرح ختم کریں گے۔ ہم اپنے فوجی دستوں کو گھر واپس بلوا لیں گے اور امریکا کی تعمیر نو کا کام جاری کر دیں گے۔'' اوباما کا کہنا تھا کہ ان کی پہلی چار سالہ مدت صدارت میں امریکی فوج نے القاعدہ کو تباہ کر کے رکھ دیا اور طالبان کو ان کے مضبوط ٹھکانوں سے کھدیڑ کر نکال دیا۔ ''اب ہم جنگ شروع کرنے کے اپنے بنیادی مقصد کے قریب پہنچ چکے ہیں اور القاعدہ کو اس قابل نہیں چھوڑا کہ وہ امریکا پر پہلے جیسا کوئی اور حملہ کر سکے۔'' اوباما نے مزید بتایا کہ انھوں نے افغانستان میں جو 33,000 اضافی فوج بھجوائی تھی، اس نے اپنا مشن مکمل کر لیا ہے اور وہ گزشتہ موسم خزاں میں ہی گھر واپس لوٹ آئی تھی۔
اس مرتبہ جب افغان صدر کرزئی واشنگٹن آئے اور وہ سینئر امریکی لیڈروں کے ساتھ ملاقاتوں کے ایک سلسلے میں مصروف ہیں تو دونوں فریق (امریکا اور افغانستان) اس بات پر رضا مند ہوچکے ہیں کہ اس موسم بہار میں افغان فورسز اپنے ملک کی سیکیورٹی کی ذمے داریاں سنبھالنی شروع کر دیں گی جب کہ امریکی فورسز اب ان کے ساتھ تعاون کرنے کا فریضہ اختیار کر لیں گی، جو کہ معکوس کردار کی علامت ہے۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ ''آیندہ مہینوں میں' میں انخلاء کے اگلے مرحلے کا اعلان کر دوں گا اور آیندہ سال کے اختتام تک افغانستان میں امریکا کی جنگ ختم ہو جائے گی'' امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ اس جنگ میں پانچ لاکھ سے زائد فوجی افسروں اور سویلین امریکنوں نے افغانستان میں اپنے ملک کے لیے خدمات انجام دیں۔
اس دوران ہزاروں امریکی زخمی ہوئے اور 2000 سے زائد امریکیوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ اوباما نے انتباہ کیا کہ افغانستان بدستور ایک نہایت مشکل مشن ہے کیونکہ اب جو کام آگے ہے وہ آسان نہیں اور جو امریکی افواج وہاں تعینات ہیں وہ خطرے کی زد میں ہیں۔صدر اوباما نے وعدہ کیا کہ سیکیورٹی ذمے داریاں نیٹو افواج سے افغان سیکیورٹی کو منتقل کرنے کے کام میں تیزی پیدا کی جائے گی، اور یہ کام اس موسم بوار تک مکمل ہو جائے گا۔
2014 کے بعد افغانستان میں نیٹو افواج کا کردار انتہائی محدود رہ جائے گا۔ افغانستان میں امریکی کمانڈرز چاہتے ہیں کہ 2014ء کے بعد انھیں افغانستان میں 6000 سے 15000تک امریکی فوجیوں کی ضرورت ہو گی۔ جب کہ ایوان صدارت کا خیال ہے کہ افغانستان میں3000 سے9000تک امریکی فوجی رہنے چاہئیں۔اب یہ بات طے ہے کہ افغانستان کی صورتحال نیا رخ لینے والی ہے۔ اس کے جنوبی ایشیا، وسط ایشیا اور ایران پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔پاکستان کو اس صورتحال پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔
ہفتہ وار ریڈیو خطاب میں امریکی صدر نے کہا: ''میں قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم اس جنگ کو کس طرح ختم کریں گے۔ ہم اپنے فوجی دستوں کو گھر واپس بلوا لیں گے اور امریکا کی تعمیر نو کا کام جاری کر دیں گے۔'' اوباما کا کہنا تھا کہ ان کی پہلی چار سالہ مدت صدارت میں امریکی فوج نے القاعدہ کو تباہ کر کے رکھ دیا اور طالبان کو ان کے مضبوط ٹھکانوں سے کھدیڑ کر نکال دیا۔ ''اب ہم جنگ شروع کرنے کے اپنے بنیادی مقصد کے قریب پہنچ چکے ہیں اور القاعدہ کو اس قابل نہیں چھوڑا کہ وہ امریکا پر پہلے جیسا کوئی اور حملہ کر سکے۔'' اوباما نے مزید بتایا کہ انھوں نے افغانستان میں جو 33,000 اضافی فوج بھجوائی تھی، اس نے اپنا مشن مکمل کر لیا ہے اور وہ گزشتہ موسم خزاں میں ہی گھر واپس لوٹ آئی تھی۔
اس مرتبہ جب افغان صدر کرزئی واشنگٹن آئے اور وہ سینئر امریکی لیڈروں کے ساتھ ملاقاتوں کے ایک سلسلے میں مصروف ہیں تو دونوں فریق (امریکا اور افغانستان) اس بات پر رضا مند ہوچکے ہیں کہ اس موسم بہار میں افغان فورسز اپنے ملک کی سیکیورٹی کی ذمے داریاں سنبھالنی شروع کر دیں گی جب کہ امریکی فورسز اب ان کے ساتھ تعاون کرنے کا فریضہ اختیار کر لیں گی، جو کہ معکوس کردار کی علامت ہے۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ ''آیندہ مہینوں میں' میں انخلاء کے اگلے مرحلے کا اعلان کر دوں گا اور آیندہ سال کے اختتام تک افغانستان میں امریکا کی جنگ ختم ہو جائے گی'' امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ اس جنگ میں پانچ لاکھ سے زائد فوجی افسروں اور سویلین امریکنوں نے افغانستان میں اپنے ملک کے لیے خدمات انجام دیں۔
اس دوران ہزاروں امریکی زخمی ہوئے اور 2000 سے زائد امریکیوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ اوباما نے انتباہ کیا کہ افغانستان بدستور ایک نہایت مشکل مشن ہے کیونکہ اب جو کام آگے ہے وہ آسان نہیں اور جو امریکی افواج وہاں تعینات ہیں وہ خطرے کی زد میں ہیں۔صدر اوباما نے وعدہ کیا کہ سیکیورٹی ذمے داریاں نیٹو افواج سے افغان سیکیورٹی کو منتقل کرنے کے کام میں تیزی پیدا کی جائے گی، اور یہ کام اس موسم بوار تک مکمل ہو جائے گا۔
2014 کے بعد افغانستان میں نیٹو افواج کا کردار انتہائی محدود رہ جائے گا۔ افغانستان میں امریکی کمانڈرز چاہتے ہیں کہ 2014ء کے بعد انھیں افغانستان میں 6000 سے 15000تک امریکی فوجیوں کی ضرورت ہو گی۔ جب کہ ایوان صدارت کا خیال ہے کہ افغانستان میں3000 سے9000تک امریکی فوجی رہنے چاہئیں۔اب یہ بات طے ہے کہ افغانستان کی صورتحال نیا رخ لینے والی ہے۔ اس کے جنوبی ایشیا، وسط ایشیا اور ایران پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔پاکستان کو اس صورتحال پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔