بھارت اپنا رویہ درست کرے
انسانی حقوق سے متعلق امریکی رپورٹ میں بھارتی مظالم کا بھی تذکرہ کیا جائے
: فوٹو؛فائل
پاکستان کی ازلی مخاصمت کا شکار بھارتی رویہ کسی طور درست ہونے کا نام نہیں لے رہا، کہاں ایک طرف بھارت کے وزراء عالمی فورم پر اعلان کرتے پھرتے ہیں کہ وہ پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کے خواہاں اور مذاکرات کے حامی ہیں لیکن عملی طور پر بھارت کی منافقت واضح دکھائی دیتی ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان خطے میں امن و امان کے قیام اور عصر حاضر کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی ملک سے مخاصمت کا طالب نہیں اور خاص طور پر بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہشمند ہے تاہم اب تک بھارت کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کا کہیں کوئی اشارہ نہیں ملا جب کہ یوم پاکستان پر بھارتی وزیراعظم کا تہنیتی پیغام بھی محض معمول کا رسمی پیغام تھا جس سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت مذاکرات کے احیا میں سنجیدہ نہیں ہے۔
دوسری جانب بھارت کی جانب سے کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم بھی بدستور جاری ہیں۔ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے یوم پاکستان کی تقریبات کی کوریج کرنیوالے 7 کشمیری صحافیوں پر تشدد اور گزشتہ ہفتے 131 نوجوانوں اور 30 حریت رہنماؤں کی گرفتاری پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوم پاکستان کی تقریبات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔
وقت آگیا ہے کہ بھارت اپنا قبلہ درست کرے، اکیسویں صدی میں اب روایتی جنگوں کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ہے، راست ہوگا کہ بھارت مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی مرضی کے مطابق حل کرنے کی جانب راغب ہو۔ جہاں ایک طرف کشمیر میں بھارت کی ریشہ دوانیاں اور مظالم جاری ہیں وہیں حیرت ہوتی ہے کہ انسانی حقوق سے متعلق امریکی رپورٹ میں بھارت کے اس رویے کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے جس سے عالمی طاقت کے جانبدار ہونے کے واضح اشارے مل رہے ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے انسانی حقوق سے متعلق امریکی رپورٹ کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ میں بھارتی فورسز کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا کوئی ذکر نہیں، جس سے رپورٹ کی ساکھ پر سوالیہ نشانات اٹھنے لگے ہیں جب کہ یہ حقیقت واضح ہے کہ پاکستان میں تمام شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کو مکمل تحفظ حاصل ہے۔ پاکستان کے کردار پر انگلیاں اٹھانے والوں کو غیر جانبداری سے کام لیتے ہوئے بھارت کی عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نظر کرنی چاہیے۔
کشمیر میں حالیہ کشیدہ لہر کے بعد بھارتی فورسز کی جانب سے جس قدر مہلک ہتھیاروں اور پیلٹ گنوں کا استعمال ہورہا ہے اس کے تصویری ثبوت پوری دنیا کے سامنے آچکے ہیں۔ صائب ہوگا کہ انسانی حقوق سے متعلق امریکی رپورٹ میں بھارتی مظالم کا بھی تذکرہ کیا جائے نیز بھارت اپنی ہٹ دھرمی ختم کرکے جلد از جلد مذاکرات کی میز پر آئے تاکہ خطے کے بہتر مفاد میں تصفیہ طلب مسائل کا حل نکالا جاسکے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان خطے میں امن و امان کے قیام اور عصر حاضر کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی ملک سے مخاصمت کا طالب نہیں اور خاص طور پر بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہشمند ہے تاہم اب تک بھارت کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کا کہیں کوئی اشارہ نہیں ملا جب کہ یوم پاکستان پر بھارتی وزیراعظم کا تہنیتی پیغام بھی محض معمول کا رسمی پیغام تھا جس سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت مذاکرات کے احیا میں سنجیدہ نہیں ہے۔
دوسری جانب بھارت کی جانب سے کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم بھی بدستور جاری ہیں۔ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے یوم پاکستان کی تقریبات کی کوریج کرنیوالے 7 کشمیری صحافیوں پر تشدد اور گزشتہ ہفتے 131 نوجوانوں اور 30 حریت رہنماؤں کی گرفتاری پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوم پاکستان کی تقریبات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔
وقت آگیا ہے کہ بھارت اپنا قبلہ درست کرے، اکیسویں صدی میں اب روایتی جنگوں کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ہے، راست ہوگا کہ بھارت مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی مرضی کے مطابق حل کرنے کی جانب راغب ہو۔ جہاں ایک طرف کشمیر میں بھارت کی ریشہ دوانیاں اور مظالم جاری ہیں وہیں حیرت ہوتی ہے کہ انسانی حقوق سے متعلق امریکی رپورٹ میں بھارت کے اس رویے کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے جس سے عالمی طاقت کے جانبدار ہونے کے واضح اشارے مل رہے ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے انسانی حقوق سے متعلق امریکی رپورٹ کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ میں بھارتی فورسز کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا کوئی ذکر نہیں، جس سے رپورٹ کی ساکھ پر سوالیہ نشانات اٹھنے لگے ہیں جب کہ یہ حقیقت واضح ہے کہ پاکستان میں تمام شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کو مکمل تحفظ حاصل ہے۔ پاکستان کے کردار پر انگلیاں اٹھانے والوں کو غیر جانبداری سے کام لیتے ہوئے بھارت کی عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نظر کرنی چاہیے۔
کشمیر میں حالیہ کشیدہ لہر کے بعد بھارتی فورسز کی جانب سے جس قدر مہلک ہتھیاروں اور پیلٹ گنوں کا استعمال ہورہا ہے اس کے تصویری ثبوت پوری دنیا کے سامنے آچکے ہیں۔ صائب ہوگا کہ انسانی حقوق سے متعلق امریکی رپورٹ میں بھارتی مظالم کا بھی تذکرہ کیا جائے نیز بھارت اپنی ہٹ دھرمی ختم کرکے جلد از جلد مذاکرات کی میز پر آئے تاکہ خطے کے بہتر مفاد میں تصفیہ طلب مسائل کا حل نکالا جاسکے۔