ویزوں کا اجرا معمہ کیا ہے
گزشتہ دور حکومت میں بھی اس معاملے نے انتشار پھیلایا تھا
فوٹو: فا
حقانی اسکینڈل اور ویزوں کے اجرا کا معاملہ سیاسی پارٹیوں کی باہمی چپقلش اور متنازعہ بیانات کے باعث مزید گنجلک اور عالمی سطح پر ملک کی جگ ہنسائی کا باعث بن رہا ہے، جس کی جانب فوری توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ صائب ہوگا کہ اس معاملے میں کسی بھی قسم کی بیان بازی سے پہلے معاملات کی حساسیت اور ملکی وقار کو درپیش خطرات کا ادراک کیا جائے۔
حقانی سکینڈل پر سیاست چمکانے سے گریز کرنا ہی دانشمندی ہوگی، لیکن معاملے سے یکسر صرف نظر بھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ قوم ویزوں کے اجرا کے معاملے پر اضطراب کا شکار ہے اور عوام کو اندھیرے میں رکھنا کسی طور درست اقدام قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس لیے معاملات کو خوش اسلوبی سے نمٹانا ہی وقت کا تقاضا ہے۔
یہ بھی مدنظر رکھا جائے کہ یہ ایشو کوئی نیا نہیں ہے، گزشتہ دور حکومت میں بھی اس معاملے نے انتشار پھیلایا تھا، جس پر بننے والے کمیشن کی رپورٹ تاہنوز سردخانے کی نذر ہے، حسین حقانی بھی کمیشن کے سامنے پیش ہوکر اپنا بیان ریکارڈ کراچکے ہیں۔ قوم کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کس نے طریقہ کار کے منافی ویزے جاری کیے اور کس طرح ایک عالمی دہشت گرد پاکستان میں اتنے طویل عرصے تک چھپا رہا۔ صائب ہوگا کہ معاملات کو خوش اسلوبی سے نمٹانے کے لیے ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ شائع کردی جائے تو اصل حقائق سامنے آسکتے ہیں۔
بجائے اس کے کہ کسی غیر ملک کے نمائندے یہ رپورٹ ''لیک'' کریں اور ملک میں ایک اور ''وکی لیکس'' کا وبال کھڑا ہوا، صائب ہوگا کہ ابہام کو دور کرنے کے لیے جلد از جلد کوئی قدم اٹھایا جائے۔ جولین اسانج تو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ انھوں نے صرف ایک فیصد ''وکی لیکس'' افشا کی ہیں، 99 فیصد تو ابھی باقی ہیں، نجانے ان لیکس میں کتنا کھٹراگ شامل ہے، ہمیں اس کے لیے بھی تیار رہنا ہوگا۔ آزاد میڈیا کے اس دور میں حقیقت پر پردہ ڈالنا ممکن نہیں۔ اس قدر حساس معاملے سے پہلوتہی بھی مجرمانہ غفلت میں شمار ہوگی۔
حقانی سکینڈل پر سیاست چمکانے سے گریز کرنا ہی دانشمندی ہوگی، لیکن معاملے سے یکسر صرف نظر بھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ قوم ویزوں کے اجرا کے معاملے پر اضطراب کا شکار ہے اور عوام کو اندھیرے میں رکھنا کسی طور درست اقدام قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس لیے معاملات کو خوش اسلوبی سے نمٹانا ہی وقت کا تقاضا ہے۔
یہ بھی مدنظر رکھا جائے کہ یہ ایشو کوئی نیا نہیں ہے، گزشتہ دور حکومت میں بھی اس معاملے نے انتشار پھیلایا تھا، جس پر بننے والے کمیشن کی رپورٹ تاہنوز سردخانے کی نذر ہے، حسین حقانی بھی کمیشن کے سامنے پیش ہوکر اپنا بیان ریکارڈ کراچکے ہیں۔ قوم کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کس نے طریقہ کار کے منافی ویزے جاری کیے اور کس طرح ایک عالمی دہشت گرد پاکستان میں اتنے طویل عرصے تک چھپا رہا۔ صائب ہوگا کہ معاملات کو خوش اسلوبی سے نمٹانے کے لیے ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ شائع کردی جائے تو اصل حقائق سامنے آسکتے ہیں۔
بجائے اس کے کہ کسی غیر ملک کے نمائندے یہ رپورٹ ''لیک'' کریں اور ملک میں ایک اور ''وکی لیکس'' کا وبال کھڑا ہوا، صائب ہوگا کہ ابہام کو دور کرنے کے لیے جلد از جلد کوئی قدم اٹھایا جائے۔ جولین اسانج تو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ انھوں نے صرف ایک فیصد ''وکی لیکس'' افشا کی ہیں، 99 فیصد تو ابھی باقی ہیں، نجانے ان لیکس میں کتنا کھٹراگ شامل ہے، ہمیں اس کے لیے بھی تیار رہنا ہوگا۔ آزاد میڈیا کے اس دور میں حقیقت پر پردہ ڈالنا ممکن نہیں۔ اس قدر حساس معاملے سے پہلوتہی بھی مجرمانہ غفلت میں شمار ہوگی۔