پاک بھارت تجارت 8 ارب ڈالر کی جاسکتی ہے ہارویسٹ ٹریڈنگ

یہ تاثر غلط ہے کہ پسندیدہ ملک قرار دینے سے تجارتی توازن بھارت کے حق میں ہوگا،احمد جواد

احمد جواد نے بتایا کہ پاک بھارت دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ہورہا ہے۔ فوٹو: فائل

ہارویسٹ ٹریڈنگ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد جواد نے کہاہے کہ پاک بھارت دوطرفہ تجارت 2.5 ارب ڈالر کے قریب ہے جس کو آئندہ دو سال کے دوران8 ارب ڈالر تک بڑھایا جاسکتا ہے۔


بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے سے ملکی برآمد کنندگان کو بھی مساوی مواقع دستیاب ہوں گے، پاکستان کی تاجر برادری بھارت کو پسندیدہ ملک کا درجہ دلوانے کیلیے بڑی سرگرم تھی لیکن اب یہ اس حوالے سے تقسیم ہوتی نظر آرہی ہے۔ اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ باہمی تجارت کا توازن بھارت کے حق میں ہوگا۔ بھارت بہت بڑا ملک ہے اور پاکستانی برآمد کنندگان بڑی منڈی سے استفادہ کرسکیں گے۔ یو ایس ایڈ نے عالمی بینک کے اعدادوشمار سے تجزیہ کیا ہے کہ بھارت ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت پر پابندیاں لگانے کے حوالے سے دنیا کا بڑا ملک ہے اور یہ ہمسایہ ممالک سے درآمدات کی حوصلہ شکنی کیلیے ٹیرف اور نان ٹیرف کی پابندیاں متعارف کرواتا رہتا ہے۔

احمد جواد نے بتایا کہ پاک بھارت دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ہورہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کی بڑی ریٹیل منڈی سے استفادہ کے ساتھ ساتھ سستی چیزیں درآمد کرکے بھی فائدہ حاصل کرسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت سے چائے، مصالحہ جات، آٹو پارٹس ، ہلکی انجینئرنگ مصنوعات، ٹائر، ٹرانسپورٹ آلات، تفریح، ہیلتھ کیئر، انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت مختلف مصنوعات درآمد کی جاسکتی ہیں جس سے پاکستان ایک ارب ڈالر تک کی بچت کرسکے گا۔
Load Next Story