ریلوے کے پاس چند گھنٹوں کا ڈیزل رہ گیا ٹرینیں بند ہونے کا خدشہ
تیزگام کا انجن لیاقت پور،پاکستان ایکسپریس سانگلہ ہل کے قریب خراب، مسافروں کا احتجاج
تیزگام کا انجن لیاقت پور،پاکستان ایکسپریس سانگلہ ہل کے قریب خراب، مسافروں کا احتجاج. فائل فوٹو
پاکستان ریلوے کو ڈیزل کی قلت کے بدترین بحران کا سامنا ہے، ریلوے حکام کے مطابق مارکیٹ میں لوکل پرچیز کے لیے بھی ڈیزل دستیاب نہیں، ریلوے لاہور ڈویژن اور دیگر ڈویژنز میں چند گھنٹوں کا ڈیزل رہ گیا ہے۔ ریلوے حکام کے مطابق ڈیزل نہ ملا تو باقی مسافر ٹرینیں بھی آج سے بند ہو جائیں گی ۔
ریلوے حکام کے مطابق کراچی سے چلنے والی ڈیزل ٹرین آج رات لاہور پہنچے گی ۔ نجی ٹی وی کے مطابق ریلوے حکام کا مزید کہنا تھا کہ لوڈشیڈنگ کے دوران بجلی فراہم کرنے والے ریلوے پاور ہائوس کے لیے بھی ڈیزل دستیاب نہیں ، آج پاور ہائوس نہ چلے تو انجن شیڈ، ریلوے اسٹیشن اور ریلوے اسپتال میں لوڈشیڈنگ کے دوران بجلی نہیں ہوگی۔ ذرائع نے بتایا کہ ریلوے کے پاس اسٹاک میں کم از کم 37دن کا ڈیزل ہونا چاہیے لیکن مالی بحران کے باعث ریلوے کے پاس ڈیزل کا اسٹاک قواعدوضوابط کے مطابق نہیں رہتا ،گزشتہ کئی سال سے ریلوے میں سات دن کا ڈیزل اسٹاک میں رکھنا معمول بن گیا ہے لیکن اب یہ بحران شدت اختیار کرگیا ہے ۔
ریلوے لاہور ڈویژن کے پاس ایک دن کا ڈیزل ہے، اتوار کو صرف 25 ہزار لیٹر ڈیزل اسٹاک میں تھا جس کی مدد سے برانچ اور مین لائن پر چلنے والی ٹرینیں چلائی گئیں ۔ ذرائع نے بتایا کہ پی ایس او کی جانب سے لاہور ڈویژن ریلوے کو 90ہزار لیٹر ڈیزل دیا گیا جو آج کراچی سے لاہور پہنچ جائے گا ۔ اگر کسی وجہ سے یہ ڈیزل مقررہ وقت پر لاہور نہ پہنچ پایا تو ریلوے کے پاس جو 25ہزار لیٹر ڈیزل ہے وہ دوپہر تک چل پائے گا اور بعد ازاں ڈیزل کی قلت پیدا ہوجائے گی اور ریلوے انتظامیہ کو مجبوراً برانچ لائن چلنے والی ٹرینوں کی آمدورفت کو عارضی طور پر روکنا پڑے گا ۔
دریں اثنائلاہور سے کراچی جانے والی تیزگام کا انجن لیاقت پور اسٹیشن پر فیل ہو گیا ۔ مشتعل مسافروں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ریلوے حکام کے خلاف سخت نعرے لگائے،انجن پر پتھرائو کیا اور انجن کے ڈرائیور کو بھی زدوکوب کرنے کی کوشش کی ۔آئی این پی کے مطابق کراچی سے راولپنڈی آنے والی پاکستان ایکسپریس کا انجن سانگلہ ہل کے نزدیک خراب ہوگیا، دس گھنٹے گزرنے کے بعد بھی دوسرا نجن نہ مل سکا ، دو روز سے گاڑی میں سوار کراچی سے راولپنڈی جانے والے سیکڑوں مسافروں کو افطاری اور سحری بھی ٹرین میں کرنا پڑی ۔
ریلوے حکام کے مطابق کراچی سے چلنے والی ڈیزل ٹرین آج رات لاہور پہنچے گی ۔ نجی ٹی وی کے مطابق ریلوے حکام کا مزید کہنا تھا کہ لوڈشیڈنگ کے دوران بجلی فراہم کرنے والے ریلوے پاور ہائوس کے لیے بھی ڈیزل دستیاب نہیں ، آج پاور ہائوس نہ چلے تو انجن شیڈ، ریلوے اسٹیشن اور ریلوے اسپتال میں لوڈشیڈنگ کے دوران بجلی نہیں ہوگی۔ ذرائع نے بتایا کہ ریلوے کے پاس اسٹاک میں کم از کم 37دن کا ڈیزل ہونا چاہیے لیکن مالی بحران کے باعث ریلوے کے پاس ڈیزل کا اسٹاک قواعدوضوابط کے مطابق نہیں رہتا ،گزشتہ کئی سال سے ریلوے میں سات دن کا ڈیزل اسٹاک میں رکھنا معمول بن گیا ہے لیکن اب یہ بحران شدت اختیار کرگیا ہے ۔
ریلوے لاہور ڈویژن کے پاس ایک دن کا ڈیزل ہے، اتوار کو صرف 25 ہزار لیٹر ڈیزل اسٹاک میں تھا جس کی مدد سے برانچ اور مین لائن پر چلنے والی ٹرینیں چلائی گئیں ۔ ذرائع نے بتایا کہ پی ایس او کی جانب سے لاہور ڈویژن ریلوے کو 90ہزار لیٹر ڈیزل دیا گیا جو آج کراچی سے لاہور پہنچ جائے گا ۔ اگر کسی وجہ سے یہ ڈیزل مقررہ وقت پر لاہور نہ پہنچ پایا تو ریلوے کے پاس جو 25ہزار لیٹر ڈیزل ہے وہ دوپہر تک چل پائے گا اور بعد ازاں ڈیزل کی قلت پیدا ہوجائے گی اور ریلوے انتظامیہ کو مجبوراً برانچ لائن چلنے والی ٹرینوں کی آمدورفت کو عارضی طور پر روکنا پڑے گا ۔
دریں اثنائلاہور سے کراچی جانے والی تیزگام کا انجن لیاقت پور اسٹیشن پر فیل ہو گیا ۔ مشتعل مسافروں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ریلوے حکام کے خلاف سخت نعرے لگائے،انجن پر پتھرائو کیا اور انجن کے ڈرائیور کو بھی زدوکوب کرنے کی کوشش کی ۔آئی این پی کے مطابق کراچی سے راولپنڈی آنے والی پاکستان ایکسپریس کا انجن سانگلہ ہل کے نزدیک خراب ہوگیا، دس گھنٹے گزرنے کے بعد بھی دوسرا نجن نہ مل سکا ، دو روز سے گاڑی میں سوار کراچی سے راولپنڈی جانے والے سیکڑوں مسافروں کو افطاری اور سحری بھی ٹرین میں کرنا پڑی ۔