قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری کا یوم پیدائش آج منایا جائیگا
حفیظ جالندھری شاعر اور نثر نگار تھے انکی شاعری کا محور حب الوطنی اور لوک گیت تھے.
تحریک پاکستان میں بھر پور حصہ لیا، پاکستان اور آزاد کشمیر کے قومی ترانے تخلیق کیے۔ فوٹو: فائل
پاکستان کے قومی ترانے کے خالق ،نامور شاعر حفیظ جالندھری کا113 واں یوم پیدائش آج منایا جائیگا۔
حفیظ جالندھری 14 جنوری 1900 کو بھارت کے علاقے جالندھر میں پیدا ہوئے آزادی کے بعد انھوں نے لاہور نقل مکانی کی حفیظ جالندھری معروف شاعر اور نثر نگار تھے انکی شاعری مذہبی ،حب الوطنی اور لوک گیتوں پر مشتمل تھی حفیظ جالندھری نے پاکستان کا قومی ترانہ تخلیق کیا جبکہ آزاد کشمیر کا قومی ترانہ بھی حفیظ جالندھری نے ہی لکھا ہے، حفیظ جالندھری نے اگرچہ کسی تعلیمی ادارے سے اسناد حاصل نہیں کی۔
انھوں نے صرف رسمی تعلیم حاصل کی لیکن تعلیم کی اس کمی کو انھوں نے بھر پور مطالعہ اور ریاضت سے پورا کیا اور اپنی تعلیمی استعداد بڑھائی، حفیظ جالندھری نے اپنی محنت اور لگن سے نامور شعرا میں اپنی جگہ بنائی اس سلسلے میں انھیں اعلیٰ تعلیم یافتہ فارسی کے عظیم شاعر مولانا غلام قادر بلگرامی کی سرپرستی حاصل رہی، حفیظ جالندھری کی شاعری کا محور محبت ،مذہب اور وطن دوستی ہے
حفیظ جالندھری نے تحریک آزادی میں بھی بھر پور انداز میں حصہ لیا، انھوں نے آزادی کی تحریک کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی انقلابی شاعری کو ذریعہ بنایا حفیظ جالندھری کو تمغہ حسن کارکردگی اور ہلال امتیاز سے نوازا گیاابوالاثر حفیظ جالندھری 21دسمبر 1982 کو 82 بر کی عمر میں انتقال کر گئے مگر چاہنے والوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔
حفیظ جالندھری 14 جنوری 1900 کو بھارت کے علاقے جالندھر میں پیدا ہوئے آزادی کے بعد انھوں نے لاہور نقل مکانی کی حفیظ جالندھری معروف شاعر اور نثر نگار تھے انکی شاعری مذہبی ،حب الوطنی اور لوک گیتوں پر مشتمل تھی حفیظ جالندھری نے پاکستان کا قومی ترانہ تخلیق کیا جبکہ آزاد کشمیر کا قومی ترانہ بھی حفیظ جالندھری نے ہی لکھا ہے، حفیظ جالندھری نے اگرچہ کسی تعلیمی ادارے سے اسناد حاصل نہیں کی۔
انھوں نے صرف رسمی تعلیم حاصل کی لیکن تعلیم کی اس کمی کو انھوں نے بھر پور مطالعہ اور ریاضت سے پورا کیا اور اپنی تعلیمی استعداد بڑھائی، حفیظ جالندھری نے اپنی محنت اور لگن سے نامور شعرا میں اپنی جگہ بنائی اس سلسلے میں انھیں اعلیٰ تعلیم یافتہ فارسی کے عظیم شاعر مولانا غلام قادر بلگرامی کی سرپرستی حاصل رہی، حفیظ جالندھری کی شاعری کا محور محبت ،مذہب اور وطن دوستی ہے
حفیظ جالندھری نے تحریک آزادی میں بھی بھر پور انداز میں حصہ لیا، انھوں نے آزادی کی تحریک کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی انقلابی شاعری کو ذریعہ بنایا حفیظ جالندھری کو تمغہ حسن کارکردگی اور ہلال امتیاز سے نوازا گیاابوالاثر حفیظ جالندھری 21دسمبر 1982 کو 82 بر کی عمر میں انتقال کر گئے مگر چاہنے والوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔