بھارت میں پاکستانی کھلاڑیوں کو کوئی خطرہ نہیں باجوہ
بھارت میں موجود پاکستانی کھلاڑی خوش اور لیگ میں شاندار کارکردگی کیلیے تیاریاں جاری رکھے ہوئے ہیں
پاک بھارت ہاکی تعلقات نے نیا خوشگوار موڑ لیا ہے، آصف باجوہ۔ فوٹو: فائل
GILGIT:
سیکریٹری پی ایچ ایف محمد آصف باجوہ کا کہنا ہے کہ بھارت میں پاکستانی کھلاڑیوں کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔
سب مزے میں ہیں اور ان کی توجہ انڈین ہاکی لیگ میں شاندار کارکردگی دکھانے پر مرکوز ہے۔''ایکسپریس'' سے بات چیت میں انھوں نے کہا کہ کسی بھی ٹورنامنٹ کے دوران مہمان کھلاڑیوں کی سیکیورٹی میزبان ملک کی انتظامیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے، بھارتی آرگنائزرز کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہے اور وہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر سے آئے ہوئے کھلاڑیوں کی بہتر انداز میں حفاظت کر رہے ہیں۔
محمد آصف باجوہ نے کہا کہ میری بھارت میں موجود پاکستانی کھلاڑیوں سے بات ہوئی ہے، وہ وہاں خوش اور لیگ میں شاندار کارکردگی کیلیے تیاریاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ایک اور سوال پر سیکریٹری پی ایچ ایف نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہاکی تعلقات نے نیا خوشگوار موڑ لیا ہے، رواں برس شیڈول دو طرفہ سیریز سے جہاں دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری آئے گی وہاں عوام بھی مزید ایک دوسرے کے قریب آئیں گے۔ انھوں نے کہا کہ کھلاڑی ملک کے سفیر ہوتے ہیں،کھیلوں کا پر امن انعقاد بہتر مستقبل کیلیے راہیں ہموار کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے، ہمارے پلیئرز بھی لیگ میں شاندار کھیل سے پاکستان کا مثبت تاثر اجاگر کریں گے۔
سیکریٹری پی ایچ ایف محمد آصف باجوہ کا کہنا ہے کہ بھارت میں پاکستانی کھلاڑیوں کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔
سب مزے میں ہیں اور ان کی توجہ انڈین ہاکی لیگ میں شاندار کارکردگی دکھانے پر مرکوز ہے۔''ایکسپریس'' سے بات چیت میں انھوں نے کہا کہ کسی بھی ٹورنامنٹ کے دوران مہمان کھلاڑیوں کی سیکیورٹی میزبان ملک کی انتظامیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے، بھارتی آرگنائزرز کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہے اور وہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر سے آئے ہوئے کھلاڑیوں کی بہتر انداز میں حفاظت کر رہے ہیں۔
محمد آصف باجوہ نے کہا کہ میری بھارت میں موجود پاکستانی کھلاڑیوں سے بات ہوئی ہے، وہ وہاں خوش اور لیگ میں شاندار کارکردگی کیلیے تیاریاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ایک اور سوال پر سیکریٹری پی ایچ ایف نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہاکی تعلقات نے نیا خوشگوار موڑ لیا ہے، رواں برس شیڈول دو طرفہ سیریز سے جہاں دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری آئے گی وہاں عوام بھی مزید ایک دوسرے کے قریب آئیں گے۔ انھوں نے کہا کہ کھلاڑی ملک کے سفیر ہوتے ہیں،کھیلوں کا پر امن انعقاد بہتر مستقبل کیلیے راہیں ہموار کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے، ہمارے پلیئرز بھی لیگ میں شاندار کھیل سے پاکستان کا مثبت تاثر اجاگر کریں گے۔