بائیں بازو کا ماضی اور حال
ملکی سیاست 69 سال سے یکسانیت بلکہ جمود کا شکار ہے
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
NEW YORK:
ملکی سیاست 69 سال سے یکسانیت بلکہ جمود کا شکار ہے، وہی چند خاندان ہیں جو چہرے بدل بدل کر اقتدار میں آتے ہیں اور اپنا وقت پورا کرکے اگلی باری کا انتظار کرتے ہیں، چونکہ ان حکمرانوں کا کوئی وژن نہیں ہوتا، کوئی ترقی پسندانہ اور حالات سے مطابقت رکھنے والا منشور نہیں ہوتا، لہٰذا ملک کسی بھی میدان میں کوئی پیش رفت نہیں کرسکتا، قیام پاکستان کے بعد دو دہائیوں تک ملکی سیاست میں ایک تنوع اس لیے نظر آتا تھا کہ اس دور میں بایاں بازو فعال تھا، مزدوروں، کسانوں، طلبا، وکلا، ڈاکٹروں اور زندگی کے دوسرے شعبوں میں ترقی پسند طاقتیں فعال تھیں جن کے پاس ایک عوامی ایجنڈا تھا اور انھیں اس حقیقت کا ادراک تھا کہ جب تک ملک کو قبائلی اور جاگیردارانہ نظام سے نجات نہیں دلائی جاتی ملک ترقی کی سمت پیش قدمی نہیں کرسکتا۔
مشرقی پاکستان میں مولانا بھاشانی، شیخ مجیب الرحمن جیسے عوامی رہنما سیاست میں فعال تھے۔ مغربی پاکستان میں ولی خان، میر غوث بخش بزنجو، جی ایم سید، میجر اسحاق جیسے ترقی پسند رہنما سیاست میں فعال تھے، ٹریڈ یونین میں حسن ناصر شہید، مرزا ابراہیم پیش پیش تھے، کسانوں میں حیدر بخش جتوئی، چوہدری فتح محمد طلبا میں ڈاکٹر شیر افضل سراج محمد خان، رشید حسن خاں، امیر احمد کاظمی جیسے مخلص اور جرأت مند نوجوان سرگرم تھے۔
ڈاکٹروں کی تنظیموں میں ڈاکٹر ہارون احمد، ڈاکٹر رحمان علی ہاشمی، ڈاکٹر منظور احمد، ڈاکٹر رحمان، ڈاکٹر عزیز جیسے روشن خیال لوگ پیش پیش تھے۔ یوں زندگی کے ہر شعبے میں عوامی سیاست کا بول بالا تھا۔ 1963 اور 1972 جیسی یادگار مزدور تحریکیں تھیں اور کسانوں میں ہاری تنظیم حیدر بخش جتوئی کی قیادت میں سرگرم عمل تھی۔
سیاست نہ ڈرائنگ روموں میں محدود تھی نہ چند خاندانوں کے محور پر گردش کناں تھی سیاست دان عوام میں رہتے تھے۔ عوامی مسائل پر سیاست کرتے تھے جلسے جلوسوں میں دیہاڑی دار عوام شریک ہوتے تھے نہ عوام کو ٹرانسپورٹ فراہم کی جاتی تھی، عوام اپنی خوشی سے اپنے خرچ پر جلسوں جلوسوں میں آتے تھے اور پرجوش ہوتے تھے۔
یہاں میںایک جلسے کا ذکر کرنا چاہوںگا یہ 1968 کی بات ہے مولانا بھاشانی کراچی آئے تھے۔ اس دور میں کراچی میں دو مزدور تنظیمیں پورے کراچی کے مزدوروں کی نمایندگی کرتی تھیں ایک متحدہ مزدور فیڈریشن دوسرے لیبر آرگنائزنگ کمیٹی، متحدہ مزدور فیڈریشن سائٹ میں فعال تھی، لیبر آرگنائزنگ کمیٹی لانڈھی کورنگی انڈسٹریل ایریا کے مزدوروں کی مقبول تنظیم تھی۔ مولانا بھاشانی مسیح الرحمن عرف جادو بھائی کے گھر پر ٹھہرے ہوئے تھے۔
ہم لوگ سیاست حاضرہ پر گفتگو کررہے تھے کہ اچانک بھاشانی صاحب نے مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔ بابا کیا کل لانڈھی میں مزدوروں کا جلسہ کراسکتے ہو؟ میں گھبراگیا کیونکہ اس وقت تک لانڈھی کے صنعتی علاقے میں ہماری کوئی تنظیم نہیں تھی صرف سائٹ ایریا میں ہم کام کررہے تھے لیکن چونکہ لانڈھی میں مزدوروں کا جلسہ مولانا بھاشانی کی خواہش تھی سو ہم انکار نہ کرسکے۔ حامی بھرلی۔
اس دور میں نیشنل عوامی پارٹی میں عبدالوحید صدیقی، کنیز فاطمہ،علاؤ الدین عباسی اور ہم کام کررہے تھے، سو طے یہ ہوا کہ صبح 7 بجے ہم سب داؤد مل کے گیٹ پر پہنچ گئے، وہاں گیٹ میٹنگ کرکے مزدوروں کو ساتھ لیںگے اور ہر مل اور فیکٹری کے گیٹ پر میٹنگ کرکے مزدوروں کو ساتھ لیتے رہیںگے یوں دو بجے تک ساری ملوں اور کارخانوں کے 50 ہزار سے زیادہ مزدوروں کا جلوس جلسہ گاہ کی طرف روانہ ہوا، جلسہ گاہ میں تِل دھرنے کی جگہ نہ تھی جون ایلیا، سعید رضا سعید جیسے معروف شعرا اپنے انقلابی قدم سے مزدوروں میں جوش و خروش پیدا کررہے تھے۔
مولانا بھاشانی بہت خوش ہوئے اس دور میں پرنٹ میڈیا کے نمایندے بائیں بازو کے جلسوں جلوسوں کی کوریج کے لیے موجود ہوتے تھے، الیکٹرانک میڈیا صرف سرکاری ٹی وی تک محدود تھا ، سو ایوب خان اور ان کی حکومت کی کارکردگی سے عوام کو روشناس کرانا اس کی ڈیوٹی تھی لیکن پرنٹ میڈیا بائیں بازو کی سرگرمیوں کی بھرپور کوریج کرتا تھا۔
پیپلزپارٹی کے قیام کے بعد بھٹو کے انقلابی نعروں اور بھٹو کی طلسماتی شخصیت کے سحر نے بکھرتی ٹکڑوں میں بٹتی اور غیر فعال سیاست کو مفلوج کردیا اور بائیں بازو کے ہزاروں کارکن پی پی پی میں چلے گئے۔ معراج محمد خان جیسے پختہ کار طالب علم رہنما بھی پیپلزپارٹی میں چلے گئے یوں بایاں بازو مکمل طور پر غیر فعال ہوکر رہ گیا، اگرچہ بہت جلد پیپلزپارٹی عوامی پارٹی سے وڈیروں کی پارٹی میں بدل گئی اور دوسری جماعتوں سے آنے والے کارکن مایوسی کا شکار ہوگئے، پیپلزپارٹی کے فاؤنڈر معراج محمد خاں، جے اے رحیم وغیرہ پیپلزپارٹی سے نکل گئے لیکن بایاں بازو انتشار کا شکار ہوتا چلا گیا۔
اب صورت حال یہ ہے کہ روایتی سیاسی جماعتوں سے عوام سخت مایوس ہیں۔ 1988 سے دائیں بازو کی سیاست ملک میں جاری ہے دو پارٹیاں باری باری اقتدار میں آرہی ہیں لیکن عوام مسائل میں کمی کے بجائے مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ عوام پرانے چہروں اور لوٹ مار کی سیاست سے سخت بیزار ہیں وہ 69 سالہ خاندانی سیاست میں تبدیلی چاہتے ہیں، پاناما سمیت کرپشن کے بے شمار چھوٹے بڑے اسکینڈلز سے عوام سخت متنفر ہوگئے ہیں، قومی ادارے تباہ ہوکر رہ گئے ہیں ہر ادارے میں اربوں کی کرپشن کے اسکینڈلز سامنے آرہے ہیں۔ ایسے میں ملک کو ایسی سیاسی جماعتوں کی ضرورت ہے جن کے دامن داغدار نہ ہوں اور جو جدید سیاست کے اسرار و رموز سے آگہی رکھتی ہوں اہم قومی مسائل کا جنھیں ادراک ہو اور عوام کے مسائل جن کے ایجنڈے میں سر فہرست ہوں۔
ایسی جماعتیں موجود تو ہیں جن میں عوامی ورکرز پارٹی زیادہ فعال نظر آتی ہے، پینوراما سینٹرصدر میں اس نے ایک بہت بڑا آفس بھی لے لیا ہے اور اس کے رہنما عوامی مسائل کے ساتھ سیاست میں فعال ہونے کی تیاری کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اب یہ میڈیا کا فرض ہے کہ وہ 69 سالہ اسٹیٹس کو کو توڑنے کے لیے ان تمام گمنام جماعتوں کی بھرپور کوریج کرے جس کی قیادت ایماندار عوام سے مخلص اور قومی اور بین الاقوامی مسائل سے آگاہ ہو اور اسٹیٹس کو کو توڑنا چاہتی ہوں۔
ملکی سیاست 69 سال سے یکسانیت بلکہ جمود کا شکار ہے، وہی چند خاندان ہیں جو چہرے بدل بدل کر اقتدار میں آتے ہیں اور اپنا وقت پورا کرکے اگلی باری کا انتظار کرتے ہیں، چونکہ ان حکمرانوں کا کوئی وژن نہیں ہوتا، کوئی ترقی پسندانہ اور حالات سے مطابقت رکھنے والا منشور نہیں ہوتا، لہٰذا ملک کسی بھی میدان میں کوئی پیش رفت نہیں کرسکتا، قیام پاکستان کے بعد دو دہائیوں تک ملکی سیاست میں ایک تنوع اس لیے نظر آتا تھا کہ اس دور میں بایاں بازو فعال تھا، مزدوروں، کسانوں، طلبا، وکلا، ڈاکٹروں اور زندگی کے دوسرے شعبوں میں ترقی پسند طاقتیں فعال تھیں جن کے پاس ایک عوامی ایجنڈا تھا اور انھیں اس حقیقت کا ادراک تھا کہ جب تک ملک کو قبائلی اور جاگیردارانہ نظام سے نجات نہیں دلائی جاتی ملک ترقی کی سمت پیش قدمی نہیں کرسکتا۔
مشرقی پاکستان میں مولانا بھاشانی، شیخ مجیب الرحمن جیسے عوامی رہنما سیاست میں فعال تھے۔ مغربی پاکستان میں ولی خان، میر غوث بخش بزنجو، جی ایم سید، میجر اسحاق جیسے ترقی پسند رہنما سیاست میں فعال تھے، ٹریڈ یونین میں حسن ناصر شہید، مرزا ابراہیم پیش پیش تھے، کسانوں میں حیدر بخش جتوئی، چوہدری فتح محمد طلبا میں ڈاکٹر شیر افضل سراج محمد خان، رشید حسن خاں، امیر احمد کاظمی جیسے مخلص اور جرأت مند نوجوان سرگرم تھے۔
ڈاکٹروں کی تنظیموں میں ڈاکٹر ہارون احمد، ڈاکٹر رحمان علی ہاشمی، ڈاکٹر منظور احمد، ڈاکٹر رحمان، ڈاکٹر عزیز جیسے روشن خیال لوگ پیش پیش تھے۔ یوں زندگی کے ہر شعبے میں عوامی سیاست کا بول بالا تھا۔ 1963 اور 1972 جیسی یادگار مزدور تحریکیں تھیں اور کسانوں میں ہاری تنظیم حیدر بخش جتوئی کی قیادت میں سرگرم عمل تھی۔
سیاست نہ ڈرائنگ روموں میں محدود تھی نہ چند خاندانوں کے محور پر گردش کناں تھی سیاست دان عوام میں رہتے تھے۔ عوامی مسائل پر سیاست کرتے تھے جلسے جلوسوں میں دیہاڑی دار عوام شریک ہوتے تھے نہ عوام کو ٹرانسپورٹ فراہم کی جاتی تھی، عوام اپنی خوشی سے اپنے خرچ پر جلسوں جلوسوں میں آتے تھے اور پرجوش ہوتے تھے۔
یہاں میںایک جلسے کا ذکر کرنا چاہوںگا یہ 1968 کی بات ہے مولانا بھاشانی کراچی آئے تھے۔ اس دور میں کراچی میں دو مزدور تنظیمیں پورے کراچی کے مزدوروں کی نمایندگی کرتی تھیں ایک متحدہ مزدور فیڈریشن دوسرے لیبر آرگنائزنگ کمیٹی، متحدہ مزدور فیڈریشن سائٹ میں فعال تھی، لیبر آرگنائزنگ کمیٹی لانڈھی کورنگی انڈسٹریل ایریا کے مزدوروں کی مقبول تنظیم تھی۔ مولانا بھاشانی مسیح الرحمن عرف جادو بھائی کے گھر پر ٹھہرے ہوئے تھے۔
ہم لوگ سیاست حاضرہ پر گفتگو کررہے تھے کہ اچانک بھاشانی صاحب نے مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔ بابا کیا کل لانڈھی میں مزدوروں کا جلسہ کراسکتے ہو؟ میں گھبراگیا کیونکہ اس وقت تک لانڈھی کے صنعتی علاقے میں ہماری کوئی تنظیم نہیں تھی صرف سائٹ ایریا میں ہم کام کررہے تھے لیکن چونکہ لانڈھی میں مزدوروں کا جلسہ مولانا بھاشانی کی خواہش تھی سو ہم انکار نہ کرسکے۔ حامی بھرلی۔
اس دور میں نیشنل عوامی پارٹی میں عبدالوحید صدیقی، کنیز فاطمہ،علاؤ الدین عباسی اور ہم کام کررہے تھے، سو طے یہ ہوا کہ صبح 7 بجے ہم سب داؤد مل کے گیٹ پر پہنچ گئے، وہاں گیٹ میٹنگ کرکے مزدوروں کو ساتھ لیںگے اور ہر مل اور فیکٹری کے گیٹ پر میٹنگ کرکے مزدوروں کو ساتھ لیتے رہیںگے یوں دو بجے تک ساری ملوں اور کارخانوں کے 50 ہزار سے زیادہ مزدوروں کا جلوس جلسہ گاہ کی طرف روانہ ہوا، جلسہ گاہ میں تِل دھرنے کی جگہ نہ تھی جون ایلیا، سعید رضا سعید جیسے معروف شعرا اپنے انقلابی قدم سے مزدوروں میں جوش و خروش پیدا کررہے تھے۔
مولانا بھاشانی بہت خوش ہوئے اس دور میں پرنٹ میڈیا کے نمایندے بائیں بازو کے جلسوں جلوسوں کی کوریج کے لیے موجود ہوتے تھے، الیکٹرانک میڈیا صرف سرکاری ٹی وی تک محدود تھا ، سو ایوب خان اور ان کی حکومت کی کارکردگی سے عوام کو روشناس کرانا اس کی ڈیوٹی تھی لیکن پرنٹ میڈیا بائیں بازو کی سرگرمیوں کی بھرپور کوریج کرتا تھا۔
پیپلزپارٹی کے قیام کے بعد بھٹو کے انقلابی نعروں اور بھٹو کی طلسماتی شخصیت کے سحر نے بکھرتی ٹکڑوں میں بٹتی اور غیر فعال سیاست کو مفلوج کردیا اور بائیں بازو کے ہزاروں کارکن پی پی پی میں چلے گئے۔ معراج محمد خان جیسے پختہ کار طالب علم رہنما بھی پیپلزپارٹی میں چلے گئے یوں بایاں بازو مکمل طور پر غیر فعال ہوکر رہ گیا، اگرچہ بہت جلد پیپلزپارٹی عوامی پارٹی سے وڈیروں کی پارٹی میں بدل گئی اور دوسری جماعتوں سے آنے والے کارکن مایوسی کا شکار ہوگئے، پیپلزپارٹی کے فاؤنڈر معراج محمد خاں، جے اے رحیم وغیرہ پیپلزپارٹی سے نکل گئے لیکن بایاں بازو انتشار کا شکار ہوتا چلا گیا۔
اب صورت حال یہ ہے کہ روایتی سیاسی جماعتوں سے عوام سخت مایوس ہیں۔ 1988 سے دائیں بازو کی سیاست ملک میں جاری ہے دو پارٹیاں باری باری اقتدار میں آرہی ہیں لیکن عوام مسائل میں کمی کے بجائے مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ عوام پرانے چہروں اور لوٹ مار کی سیاست سے سخت بیزار ہیں وہ 69 سالہ خاندانی سیاست میں تبدیلی چاہتے ہیں، پاناما سمیت کرپشن کے بے شمار چھوٹے بڑے اسکینڈلز سے عوام سخت متنفر ہوگئے ہیں، قومی ادارے تباہ ہوکر رہ گئے ہیں ہر ادارے میں اربوں کی کرپشن کے اسکینڈلز سامنے آرہے ہیں۔ ایسے میں ملک کو ایسی سیاسی جماعتوں کی ضرورت ہے جن کے دامن داغدار نہ ہوں اور جو جدید سیاست کے اسرار و رموز سے آگہی رکھتی ہوں اہم قومی مسائل کا جنھیں ادراک ہو اور عوام کے مسائل جن کے ایجنڈے میں سر فہرست ہوں۔
ایسی جماعتیں موجود تو ہیں جن میں عوامی ورکرز پارٹی زیادہ فعال نظر آتی ہے، پینوراما سینٹرصدر میں اس نے ایک بہت بڑا آفس بھی لے لیا ہے اور اس کے رہنما عوامی مسائل کے ساتھ سیاست میں فعال ہونے کی تیاری کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اب یہ میڈیا کا فرض ہے کہ وہ 69 سالہ اسٹیٹس کو کو توڑنے کے لیے ان تمام گمنام جماعتوں کی بھرپور کوریج کرے جس کی قیادت ایماندار عوام سے مخلص اور قومی اور بین الاقوامی مسائل سے آگاہ ہو اور اسٹیٹس کو کو توڑنا چاہتی ہوں۔