جامعہ اردو وائس چانسلر کیلیے ڈاکٹر ظفر مضبوط امیدوار بن گئے
ڈاکٹر قیصر کے عہدے کی مدت میں 7 دن رہ گئے،انتظامیہ ظفراقبال کے حق میں نہیں.
ڈاکٹر قیصر کے عہدے کی مدت میں 7 دن رہ گئے،انتظامیہ ظفراقبال کے حق میں نہیں۔ فوٹو: فائل
MAKKAH:
وفاقی اردو یونیورسٹی کے سربراہ ڈاکٹرمحمد قیصر کی بحیثیت وائس چانسلرعہدے کی مدت ختم ہونے میں صرف7روز باقی رہ گئے ہیں۔
تاہم سینیٹ کے سفارش کردہ ناموں کے باوجود تاحال یونیورسٹی میں نئے وائس چانسلرکی تقرری عمل میں نہیںآسکی جس کے سبب امکان ہے کہ ڈاکٹرمحمد قیصر20 جنوری کو اپنے عہدے کی مدت پوری ہونے کے بعد بھی اس عہدے پرکام کرتے رہیں گے ،واضح رہے کہ اردو یونیورسٹی کی سینیٹ 29 دسمبرکومنعقدہ اجلاس میں نئے وائس چانسلرکے لیے پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال، پروفیسر ڈاکٹر شمس الدین اور پروفیسر ڈاکٹر قمرالحق کے ناموں کی سفارش کرچکی ہے۔
ذرائع کاکہناہے کہ ان میں سے ابتدائی دو ناموں پر غورکیا جارہا ہے تاہم انتہائی مضبوط امیدوارہونے کے باوجود یونیورسٹی کی موجودہ انتظامیہ پروفیسرڈاکٹرظفراقبال کووائس چانسلر بنائے جانے کے حق میں نہیں اورموجودہ وائس چانسلرکی پالیسیزکے تسلسل کے لیے ڈاکٹرشمس الدین کے نام پر زوردیا جارہا ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام ترکوششوں کے باوجود ڈاکٹر ظفراقبال کانام مجوزہ ناموں میں تاحال سب سے مضبوط امیدوارکے طورپرزیرغورہے۔
وفاقی اردو یونیورسٹی کے سربراہ ڈاکٹرمحمد قیصر کی بحیثیت وائس چانسلرعہدے کی مدت ختم ہونے میں صرف7روز باقی رہ گئے ہیں۔
تاہم سینیٹ کے سفارش کردہ ناموں کے باوجود تاحال یونیورسٹی میں نئے وائس چانسلرکی تقرری عمل میں نہیںآسکی جس کے سبب امکان ہے کہ ڈاکٹرمحمد قیصر20 جنوری کو اپنے عہدے کی مدت پوری ہونے کے بعد بھی اس عہدے پرکام کرتے رہیں گے ،واضح رہے کہ اردو یونیورسٹی کی سینیٹ 29 دسمبرکومنعقدہ اجلاس میں نئے وائس چانسلرکے لیے پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال، پروفیسر ڈاکٹر شمس الدین اور پروفیسر ڈاکٹر قمرالحق کے ناموں کی سفارش کرچکی ہے۔
ذرائع کاکہناہے کہ ان میں سے ابتدائی دو ناموں پر غورکیا جارہا ہے تاہم انتہائی مضبوط امیدوارہونے کے باوجود یونیورسٹی کی موجودہ انتظامیہ پروفیسرڈاکٹرظفراقبال کووائس چانسلر بنائے جانے کے حق میں نہیں اورموجودہ وائس چانسلرکی پالیسیزکے تسلسل کے لیے ڈاکٹرشمس الدین کے نام پر زوردیا جارہا ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام ترکوششوں کے باوجود ڈاکٹر ظفراقبال کانام مجوزہ ناموں میں تاحال سب سے مضبوط امیدوارکے طورپرزیرغورہے۔