بلوچستان میں گورنر راج فوج بلانے کے حق میں نہیںفضل الرحمن

ان ہائوس تبدیلی پر غور ہونا چاہیے تھا، سانحات پر قوم غمزدہ ہے،لاشوں کی بے حرمتی ہورہی ہے

ان ہائوس تبدیلی پر غور ہونا چاہیے تھا، سانحات پر قوم غمزدہ ہے،لاشوں کی بے حرمتی ہورہی ہے۔ فوٹو: آئی این پی/ فائل

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ ہم بلوچستان میں فوج بلانے، ایمرجنسی لگانے اور گورنر راج لگانے کے حق میں نہیں، ان ہائوس تبدیلی لائی جائے تو اس پر غور کیا جا سکتا ہے، یہ حل کا راستہ ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن نے خصوصی گفتگو میں کہا کہ کوئٹہ کی موجودہ صورتحال کا حل نکالنا ہو گا، اسلام میت کی جلد تدفین کا حکم دیتا ہے، دھرنے میں رکھنے سے انسانی لاشوں کی بے حرمتی ہو رہی ہے، انھیں شریعت کے تقاضوں کے مطابق دفن کیا جائے، اگر بالفرض بلوچستان میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگایا جاتا ہے تو کیا ضمانت ہے کہ اس سے صوبہ میں امن وامان کی صورتحال درست ہو جائے گی اور لوگوں کو مارنے کا سلسلہ بند ہو جائے گا۔




این این آئی کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے کراچی میں پارٹی عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ کوئٹہ اور سوات پر پوری قوم غمزدہ ہے، حکومت قاتلوں کو گرفتار کرے اور احتجاج میں بیٹھے لوگوں کے جائز مطالبات کو پورا کرتے ہوئے ملک کو خانہ جنگی سے بچائے۔ انھوں نے کہا کہ بم دھماکوں اور ڈرون حملوں سے نڈھال اور بے حال عوام ملک میں جلد انتخابات کے ذریعہ تبدیلی چاہتے ہیں۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ملک کی موجودہ نازک اور پریشان کن صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس نہ لیا تو پھر قوم حکمراں طبقہ کو معاف نہیں کریگی۔

Recommended Stories

Load Next Story