سیاسی ہلچل اور عالمی حقائق

ملکی سیاست اور اس سے وابستہ سیاست دانوں کے لیے پاناما کیس ایک ٹیسٹ کیس ثابت ہونے جارہا ہے،

، فوٹو؛ فائل

معروضی عالمی حقیقت اور امریکا کے حالیہ انتخابی نتائج کے سیاق وسباق میں سیاست کی حرکیات تبدیل ہوتی جارہی ہیں ، نہ صرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سیاست میں تلاطم برپا کردیا ہے بلکہ دنیائے سیاست میں بھونچال کی سی کیفیت ہے، کہیں بڑے برج الٹے جارہے ہیں، بین الریاستی تضادات کے باعث دشمنیاںچکانے کی دھمکیوں سے شور کی آلودگی بے انتہا ہے کہیں داخلی عدم استحکام سے دوچار ملکوں کو نئی نوآبادیاتی اور سامراجی غلامیوں کے اندیشوں نے ہلکان کررکھا ہیں ، عالمی سیاست کا لب و لہجہ بدلتا ہوا محسوس ہوتا ہے، شکوک اور خفیہ وارداتوں کے فسانے امریکا و روس کے درمیان سرد جنگ کے بعد جاسوسی و ہیکنگ کے الزامات کی شکل میں ایک اعصابی جنگ میں ڈھل چکے ہیں۔

عالمی ذرایع ابلاغ کے پاس خبروں اور تجزیوں کا اتنا بڑا خزانہ ہے کہ رات دن اخبارات اور ٹی وی چینلز اطلاعات و انکشافات کے دریا بہا رہے ہیں، کہیں یورپ ،افریقہ ، مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں میں جمہوریت سمیت ہمہ اقسام کے طرز ہائے حکومت کو ایک سے بڑھ کر ایک چیلنجوں کا سامنا ہے ، لیکن اس صورتحال میں دو نکات ایسے ہیں جن پر تمام سیاسیات عالم کی تقدیر ایک مشترکہ چیلنج سے جڑی نظر آتی ہے ، وہ دو نکتے یہ ہیں ، دہشتگردی سے نمٹنے کی جستجو اور حکومتوں کو درپیش کرپشن کا ناسور ۔

لہٰذا اس عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کی سیاسی صورتحال بھی مسلمہ سیاسی اصطلاح میں دنیا سے الگ تھلگ کسی جزیرہ کی کہانی نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ گلوبل ولیج کے عملی تصور نے سب کچھ ہتھیلی پر رکھ دیا ہے، مارشل میکلوہن کا قول ہے کہ ماضی کی ٹیکنالوجی اور عہد حاضر کے ذرایع ابلاغ کے درمیان فرق یہ ہے کہ کل خبر چل کر بڑی دیر میں کسی کے پاس پہنچتی تھی مگر آج عمل اور رد عمل ایک ساتھ ظہور پذیر ہوتے ہیں، ادھر خبر آئی ادھر اس کا رد عمل۔ یوں مبصرین کا کہنا درست ثابت ہوجاتا ہے کہ عالمی سیاسی ، عسکری ، تزویراتی اور اقتصادی بلکہ بین الاقوامی سیاست کو اکیسویں صدی کی نئی کیمسٹری کی داغ بیل ڈالنی ہوگی، کیونکہ طے شدہ ریاستی ڈھانچوں اور حکومتی اقدامات کے خلاف ردعمل جگہ جگہ دیکھا جارہا ہے،ادارہ جاتی شکست وریخت کی گڑگڑاہٹ کا شور سیاسی شعور سے آراستہ ہر شہری کو سنائی دے رہا ہے۔اس لیے مشتری ہشیار باش کا انتباہ بلا جواز نہیں ہوگا۔

اب اس تمہید کے تناظر میں ذرا ملکی سیاست کے نئے موسم کا حال سنتے ہیں تو تبدیلیوں کی گونج بھی سنائی دیتی ہے اور پاناما کیس کے فیصلے کے منتظر سیاسی رہنماؤں کے خدشات، امیدوں اور مایوسیوں کا بھی ایک منفرد منظر نامہ آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے مگر یہ سب جمہوریت کے کرشمے ، روادارانہ ملکی سیاست کے نئے اور خوش آیند تجربات ہیں جن سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ، بظاہر ان سے سیاسی نعرہ بازی ، محاذ آرائی ، دشنام طرازی اور بلیم گیم کا نقشہ ابھرتا ہے لیکن غور کیا جائے تو ملکی سیاست نئے زمینی حقائق اور غیر معمولی انکشافات سے لرز نے لگی ہے۔


لیجیے کچھ سیاسی رہنماؤں کے بیانات کی جھلک دیکھ لیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے صدر آصف علی زرداری سے یہ بیان منسوب ہے کہ پیپلزپارٹی نے کبھی شکست نہیں کھائی، 2013ء کا الیکشن آر اوز کیوجہ سے ضرور ہارے، پچھلے الیکشن میں ہمارے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیں اب وہ اتر چکی ہیں، آیندہ آر اوز کے الیکشن کو نہیں مانیں گے، الیکشن کو صاف شفاف بنانے کے لیے تمام پارٹیوں سے رابطے کرینگے، زرداری کا کہنا تھا کہ بیرونی قرضہ جات کی شرح خطرناک حد کو چھو رہی ہے۔ غیرملکی قرضے بلند ترین شرح سود پر لیے جا رہے ہیں، حکومت کی ناقص پالیسیوں کا خمیازہ کسان اور تاجر بھگت رہے ہیں جب کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ پاکستان کا حصہ ہے، وزیراعظم میاں نواز شریف جب چاہیں سندھ آسکتے ہیں،شاہ صاحب نے کہا کہ ایم کیو ایم میں جو بھی لوگ قانون توڑنے والے ہوںگے ان کے ساتھ رعایت نہیں برتی جائے گی، مرادعلی شاہ نے مزید کہا کہ کراچی بلدیہ کے پاس کچرا اٹھانے والی گاڑیاں اوراچھا خاصا بجٹ موجود ہے لیکن ان گاڑیوں کو تباہ کیا گیا ،جو کام بلدیاتی نمایندے نہیں کرسکتے ہیں وہ ہم کرینگے۔

دریں اثنا پیپلزپارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن کی دبئی سے واپسی ، گرفتاری و فوری رہائی بھی دلچسپ خبروں کا حصہ بنی، گزشتہ روز حیدرآباد میں وہ جلسہ میں شریک ہوئے، ان کی انتخابی حلقے میں آمد کے موقع پر تاج پوشی کی گئی، ان کا کہنا ہے کہ وہ مقدمات کا سامنا کریں گے، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کو اسلامی اتحادی فوج کی سربراہی کے لیے این او سی دینے پر اعتراض اور اسے پارلیمنٹ میں زیر بحث لانے کا اعلان کیا ہے، وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ جو لوگ الطاف حسین کے نظریے کی حمایت کرتے ہیں ان کی پاکستان میں کوئی جگہ نہیں، وزیراعظم کے ترجمان ڈاکٹر مصدق ملک کے مطابق ن لیگ نے سیاست میں برداشت کا کلچر متعارف کرایا ہے، ہم الزام تراشیوں کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے ۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ شریف خاندان میں سرد جنگ اقتدارکے لیے لڑی جارہی ہے۔

انھوں نے کہا پاناما کیس میں5 ججز کا فیصلہ ہمارے خلاف بھی آیا تو افسوس نہیں ہوگا جب کہ دوسری جانب فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی نے بھی پیپلز پارٹی کو آڑے ہاتھوں لیا، مسلم لیگ (ن) کے سینیٹرز نہال ہاشمی، سلیم ضیاء و صوبائی نائب صدر شاہ محمد شاہ نے کہا ہے نواز شریف کے دورہ سندھ سے ان لوگوں کو ہی تکلیف ہو رہی ہے جو نہیں چاہتے کہ سندھی عوام کے مسائل حل ہو سکیں، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ پاناما اسکینڈل میں ملوث سیاست دان خود اپنی سیاسی موت مر چکے ہیں۔ آیندہ مرکز سمیت چاروں صوبوں میں پی ٹی آئی کی حکومتیں قائم ہوں گی۔ جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے احتساب نہ کیا تو عوام کی عدالت لگائیں گے۔

بہر حال یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ملکی سیاست اور اس سے وابستہ سیاست دانوں کے لیے پاناما کیس ایک ٹیسٹ کیس ثابت ہونے جارہا ہے، عدالت عظمیٰ کے فیصلے کا پوری قوم کو انتظار ہے تاہم سیاسی بالغ نظری ، ہوش مندی اور جمہوری اسپرٹ کا تقاضا ہے کہ جمہوریت کی بقا کے لیے جنہوں نے قربانیاں دی ہیں وہ آج بھی رواداری ، صبرو تحمل، سنجیدہ پارلیمانی بحث ومباحثہ، آزادانہ مکالمہ ، افہام و تفہیم اورخندہ پیشانی سے اختلاف رائے کا احترام کرنے کی روایتوں کو استحکام بخشیں۔ عوام کے حق اور ملک و قوم کی سلامتی کے لیے بلند ہونے والی آواز جمہوریت کے حق میں جانی چاہیے۔ میدان میں اترنے کا عزم سیاسی استعارہ ہے اسے تشدد سے کوئی سرکار نہیں ہونا چاہیے، ملک کو چیلنجز درپیش ہیں ،کرپشن کا خاتمہ سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اس لیے سیاستدانوں سے قوم بجا طور پر یہی توقع رکھتی ہے کہ وہ قومی وملکی مفاد کو ہر شے پر ترجیح دیں گے۔
Load Next Story