مہنگائی میں ہوشربا اضافہ اور حکومتی اداروں کی ناقص کارکردگی
مرغی کے گوشت، ٹماٹر اور پھلوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں
فوٹو: فائل
ملک بھر میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوگیا، مرغی کے گوشت، ٹماٹر اور پھلوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، درمیانے اور نچلے طبقات مہنگائی سے پریشان ہوگئے ہیں، وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اشیائے خورونوش اور روز مرہ استعمال کی دیگر اشیا کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا نوٹس لے لیا اور انتظامیہ کو قیمتیں کم کرانے کی ہدایت کردی۔ ایک ہفتے کے اندر اندر اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں ہونے والا غیرمعمولی اضافہ سمجھ سے باہر ہے کہ آخر ایسا کیا طوفان برپا ہو گیا' نہ کوئی سیلاب آیا اور نہ عالمی سطح پر پٹرول کی قیمتیں قابو سے باہر ہوئیں جو اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتیں۔ مہنگائی مافیا کو روکنے والے انتظامی ادارے اور پرائس کنٹرول کمیٹیاں اپنا کردار ادا کیوں نہیں کر رہیں۔
مارکیٹ میکنزم پر اثر انداز ہونے والے تاجروں اور سرمایہ داروں کی گرفت کیوں نہیں کی جاتی۔کیا مہنگائی مافیا اس قدر طاقتور ہو گیا ہے کہ انتظامی ادارے اسے کنٹرول نہیں کر پا رہے۔ ٹماٹر کی قیمت جو چند روز قبل 70روپے تھی اب لاہور'کراچی' راولپنڈی' اسلام آباد اور پشاور سمیت دیگر شہروں میں100کا ہندسہ عبور کر گئی ہے' اسی طرح مرغی کا گوشت 230 سے 270 جب کہ کراچی میں اطلاعات کے مطابق ساڑھے تین سو تک جا پہنچا' پشاور میں بھی پھلوں اور سبزیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ شہری شکوہ کناں ہیں کہ حکومت نے مہنگائی کنٹرول کرنے کے لیے کوئی میکنزم نہیں بنایا' مہنگائی مافیا جب چاہتا ہے قیمتوں میں اضافہ کر دیتا ہے۔
حیرت انگیز امر ہے کہ سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کے باوجود ان کا معیار ناقص ہے۔ بعض شہری حلقوں کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ زرخیز زرعی زمینوں کو بڑی تیزی سے رہائشی کالونیوں کے نام پر ختم کیا جا رہا ہے، دوسری جانب پانی کا بحران بھی زرعی پیداوار میں اضافے کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے' اس کے علاوہ زرعی مداخل مہنگی ہونے' ناقص اور غیرمعیاری بیج اور جعلی ادویات کے باعث بھی زرعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے' اس پریشان کن صورت حال کے تناظر میں کسان حکومتی امداد اور تعاون سے مایوس ہو کر اپنے پیشے کو خیرباد کہہ کر روز گار کے دیگر ذرایع کی جانب مائل ہو رہا ہے۔
مجموعی طور پر یہ صورت حال خوش آیند نہیں اگر معاملات یونہی چلتے رہے تو خدشہ ہے کہ آیندہ چند برسوں میں غذائی بحران جنم نہ لے لے اور حکومت کو غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے اسے مہنگے داموں درآمد کرنا پڑے جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا اور روز مرہ کی اشیائے خورونوش عام آدمی کی رسائی سے دور ہوتی چلی جائے گی جس سے غربت کے ساتھ ساتھ جرائم میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔ حکومت مہنگائی مافیا کو کنٹرول کرنے کے لیے مستقل بنیادوں پر کوئی میکنزم تشکیل دے اور انتظامی اداروں کو متحرک کرے۔
مارکیٹ میکنزم پر اثر انداز ہونے والے تاجروں اور سرمایہ داروں کی گرفت کیوں نہیں کی جاتی۔کیا مہنگائی مافیا اس قدر طاقتور ہو گیا ہے کہ انتظامی ادارے اسے کنٹرول نہیں کر پا رہے۔ ٹماٹر کی قیمت جو چند روز قبل 70روپے تھی اب لاہور'کراچی' راولپنڈی' اسلام آباد اور پشاور سمیت دیگر شہروں میں100کا ہندسہ عبور کر گئی ہے' اسی طرح مرغی کا گوشت 230 سے 270 جب کہ کراچی میں اطلاعات کے مطابق ساڑھے تین سو تک جا پہنچا' پشاور میں بھی پھلوں اور سبزیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ شہری شکوہ کناں ہیں کہ حکومت نے مہنگائی کنٹرول کرنے کے لیے کوئی میکنزم نہیں بنایا' مہنگائی مافیا جب چاہتا ہے قیمتوں میں اضافہ کر دیتا ہے۔
حیرت انگیز امر ہے کہ سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کے باوجود ان کا معیار ناقص ہے۔ بعض شہری حلقوں کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ زرخیز زرعی زمینوں کو بڑی تیزی سے رہائشی کالونیوں کے نام پر ختم کیا جا رہا ہے، دوسری جانب پانی کا بحران بھی زرعی پیداوار میں اضافے کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے' اس کے علاوہ زرعی مداخل مہنگی ہونے' ناقص اور غیرمعیاری بیج اور جعلی ادویات کے باعث بھی زرعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے' اس پریشان کن صورت حال کے تناظر میں کسان حکومتی امداد اور تعاون سے مایوس ہو کر اپنے پیشے کو خیرباد کہہ کر روز گار کے دیگر ذرایع کی جانب مائل ہو رہا ہے۔
مجموعی طور پر یہ صورت حال خوش آیند نہیں اگر معاملات یونہی چلتے رہے تو خدشہ ہے کہ آیندہ چند برسوں میں غذائی بحران جنم نہ لے لے اور حکومت کو غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے اسے مہنگے داموں درآمد کرنا پڑے جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا اور روز مرہ کی اشیائے خورونوش عام آدمی کی رسائی سے دور ہوتی چلی جائے گی جس سے غربت کے ساتھ ساتھ جرائم میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔ حکومت مہنگائی مافیا کو کنٹرول کرنے کے لیے مستقل بنیادوں پر کوئی میکنزم تشکیل دے اور انتظامی اداروں کو متحرک کرے۔