سیاسی قیادت لیٹ مگر امتحان دے رہی ہے

سیاستدانوں کی پھرتیوں اور تیزیوں نے ماحول کو گرما دیا ہے

msuherwardy@gmail.com

سیاستدانوں کی پھرتیوں اور تیزیوں نے ماحول کو گرما دیا ہے۔ بہر حال یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ سیاستدانوں نے انتخابات کی تیاری میں ماحول کو گرما دیا ہے یا پانامہ کے فیصلے کی تیاری میں ماحول کو گرما یا جا رہا ہے۔ لیکن گرم ماحول مزیدار ہے کیونکہ سب کو عوام کی یاد آگئی ہے اور ایک مرتبہ پھر سب سے پہلے عوام اور عوام ہی سیاستدانوں کی توجہ کا محور نظر آرہے ہیں۔

تا ہم میرے ایک دوست کا یہ نقطہ قابل توجہ ہے کہ سیاستدانوں کے پاس اتنا فالتو ٹائم کیوں ہو تا ہے کہ وہ بیکار کاموں پر وقت ضایع کرتے رہتے ہیں۔ میں نے اس سے اس کی اس بات کی وضاحت مانگی تو اس کا کہنا تھا کہ کیا تم زرداری کو اتنا بھولا سمجھتے ہو کہ وہ یہ سمجھے کہ لاہور کے دوروں سے وہ پنجاب اور لاہور کی سیاست میں پیپلزپارٹی کی کوئی جگہ بنا لیں گے۔ میں نے کہا کیوں نہیں سیاسی جماعتیں عوام سے مسلسل رابطے اور عوام سے ڈائیلاگ سے ہی عوام کے دل و دماغ میں اپنے لیے جگہ بناتی ہیں۔ اس لیے زرداری اس وقت پنجاب اور بالخصوص لاہور کے عوام کے ساتھ ڈائیلاگ کر رہے ہیں تا کہ ان کو پیپلزپارٹی کے موقف پر قائل کیا جا سکے۔وہ اپنے نارض کارکنوں کو منا رہے ہیں۔ لیکن میرے دوست نے میری بات سننے کے بعد کہا کہ یہ فلسفہ جھاڑ کر تم میرا بھی ٹائم ضایع کر رہے ہو۔ میں نے کہا کہ پھر تم بتا دو ٹھیک بات کیا ہے۔

میرے دوست نے کہا دیکھو زرداری کو پتہ ہے کہ اس کے پاس لاہور اور وسطیٰ پنجاب میں کچھ نہیں پھر بھی وہ لاہور وسطیٰ پنجاب میں ٹائم ضایع کر رہا ہے۔ اسی طرح عمران خان کو بھی اب پتہ ہے کہ سندھ اور کراچی میں اس کے پاس کچھ نہیں پھر بھی وہ بار بار کراچی جا کر ٹائم ضایع کر ہا ہے۔ میاں نواز شریف کو بھی پتہ ہے کہ ان کے پاس اب سندھ میں کچھ نہیں انھوں نے بھی زرداری کی طرح ٹائم ضایع کر دیا ہے لیکن وہ بھی اب بار بار سندھ جا کر ٹائم ضایع کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ کہا جاتا ہے کہ سیاستدان کی پہچان ہی یہ ہے کہ اس کا ہاتھ عوام کی نبض پر ہوتا ہے تو پھر یہ کیوں بار بار غلط نبض پکڑ رہے ہیں۔ جہاں کی عوام ان کے ساتھ ہیں وہاں جا کر اس کی خدمت کیوں نہیں کرتے۔

لیکن میرے اس دوست کا تجزیہ جتنا بھی حقائق کے قریب ہو لیکن میں سمجھتا ہوں کہ زرداری کا پنجاب میں آنا اور میاں نواز شریف کا سندھ میں آنا خوش آیند ہے۔ یہ پاکستان کے ہر شہری کا حق ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اپنا اپنا منشور اور ایجنڈا اس کے سامنے پیش کریں اس کے بعد وہ وہ فیصلہ کرے کہ ملک اور اس کے لیے کونسی جماعت اور قیادت بہتر ہے۔

یہ درست ہے کہ سیاسی طور پر اس وقت ملک شدید انتشار کا شکار ہے۔ پنجاب میں میاں نواز شریف کی حاکمیت نظر آرہی ہے تو سندھ میں پیپلزپارٹی کی مکمل حاکمیت نظر آرہی ہے۔لیکن پنجاب کے حوالہ سے بھی تقسیم نظر آرہی ہے پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب سے کچھ حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔ لیکن توجہ لاہور پر دی ہوئی ہے۔ کے پی کے میں یہ درست ہے کہ عمران خان مشکل میں ہیں اور ان کی کے پی کے میں وہ پوزیشن نہیں ہے جو سندھ میں پیپلزپارٹی کی ہے۔ لیکن پھر بھی کے پی کے میں اگر عمران خان کی کشتی نے ہچکولے کھائے تب بھی پیپلزپارٹی اور ن لیگ نہیں آگے آئیں گے۔ یہ کہا جارہا ہے کہ کے پی کے میں اے این پی کی تیزی سے بحالی ہو رہی ہے۔اور مولانا فضل الرحمٰن بھی گیم میں آرہے ہیں۔ ایسے میں زرداری اور میاں نواز شریف کی گیم نہیں ہے۔ بلوچستان کی سیاسی صورتحال تو اسٹبلشمنٹ نے کبھی واضع ہی نہیں ہو نے دی۔کراچی میں ایم کیو ایم کی دھڑوں میں تقسیم نے ابہام پیدا کر دئے ہیں۔ کہ کس دھڑے کو عوام کی قبولیت حاصل ہو گی۔


تا ہم یہ منظر نامہ تو ہر پاکستانی کو علم ہے۔ میرے لیے خوش آیند بات یہ ہے کہ سیاستدان اس منظر نامہ کو تبدیل کرنے کی جہدو جہد کر رہے ہیں ۔ انھوں نے اس منظر نامہ کے سامنے سرنڈر نہیں کیا ہے۔ یہی جمہوریت کا حسن ہے۔ ویسے تو عوام کی رائے کے سامنے سرنگوں کرنا ہی جمہوریت ہے۔ لیکن جمہوریت میں اصل قیادت وہ ہے جو عوامی رائے عامہ کے سامنے سرنگوں کے بجائے عوامی رائے عامہ کو تبدیل کرنے کی بھی اہلیت رکھتی ہو۔ لیڈر وہی ہے جو عوام کو اپنی بات سمجھا سکتا ہوں۔ عوام کی رائے کو تبدیل کرنے کی اہلیت ہی لیڈر کی پہچان ہے۔ اگر آپ عوام کو اپنی بات اور اپنے فلسفہ پر قائل نہیں کر سکتے تو آپ میںکوئی قائدانہ صلاحیتیں نہیں ہیں۔

اس تناظر میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت ملک کی سیاسی قیادت اپنی اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا امتحان دے رہی ہے۔ آصف زرداری پنجاب اور بالخصوص لاہور میں امتحان دے رہے ہیں۔ میاں نواز شریف سندھ میں دستک دے کر اپنا امتحان دے رہے ہیں ۔ عمران خان نے تو ایک نئی جماعت کھڑی کر اس میدان میں اپنا لوہا منوا یا ہے کہ وہ عوام کو نہ صرف اپنی بات سمجھا سکتے ہیں بلکہ ان کی رائے تبدیل بھی کر سکتے ہیں۔ اس امتحان کا نتیجہ کچھ بھی ہو لیکن یہ ملک کی جمہوریت کے لیے خوش آیند ہے۔

یہ درست ہے کہ جس طرح زرداری پنجاب میں لیٹ آئے ہیں اسی طرح میاں نواز شریف بھی سندھ لیٹ گئے ہیں۔ دونوں کے پاس وقت کم ہے اور اتنے کم وقت میں متوقع نتائج ممکن نہیں ہیں۔ عوامی رائے کو تبدیل کرنے اور رائے عامہ کو اپنے حق میں کرنے کے لیے یہ نہائت کم وقت ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کی رائے میں اگر گزشتہ انتخاب کے فورا ً بعد اسی قوت اور تسلسل سے وہ پنجاب اور لاہور آجاتے تو نتائج مل سکتے تھے لیکن انتخابات کے آخری سال میں عوام بھی کافی حد تک ذہن بنا چکے ہوتے ہیں۔ اسی طرح میاں نواز شریف نے بھی چار سال بعد سندھ کا رخ کیا ہے۔ جس کوئی جواز نہیں۔ اس لیے انھوں نے بھی بہت دیر کر دی ہے۔ دوسری طرف عمران خان بھی دھاندلی اور پانامہ کے معاملات میں اس قدر مصروف رہے ہیں کہ انھوں نے بھی سندھ پر کوئی توجہ نہیں دی ہے بلکہ کراچی کو بھی کھو دیا ہے۔

سوال یہ بھی ہے کہ کیا آیندہ انتخابات میں کسی سرپرائز کی کوئی جگہ ہے۔ کیا کوئی غیر متوقع نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ لیکن سرپرائز کیا ہو سکتا ہے۔ ایک سرپرائز تو یہ ہو سکتا ہے کہ پیپلزپارٹی سندھ میں ہار جائے جس کے فی الحال کوئی امکانات نظر نہیں آرہے۔ کیا پنجاب سے میاں نواز شریف کو شکست فاش ہو سکتی ہے۔ سرپرائز تو یہی ہے کہ میاں نواز شریف لاہور اور پنجاب کے بڑے شہروں سے ہار جائیں۔ سرپرائز تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عمران خان کی تحریک انصاف پورے ملک میں کلین سویپ کر دے ۔ تا ہم عمران خان کا کے پی کے ہارنا یا دوبارہ جیتنا کوئی سرپرائز نہیں ہو گا۔ کیونکہ دونوں امکانات ہیں۔ گیم ففٹی ففٹی ہے۔ لیکن ان تمام سرپرائز کے لیے ابھی ماحول سازگار نظر نہیں آرہا تا ہم سرپرائز کی خصوصیت ہی یہی ہے کہ سازگار ماحول کے بغیر رونما ہو جاتا ہے۔ کیا آپ ایسے کسی سرپرائز کی توقع کر رہے ہیں۔

مجھے تو مشکل نظر آرہا ہے۔
Load Next Story