بیمار ذہن اور بیانیہ
1983میں ایم آر ڈی کی تحریک بحالئ جمہوریت میں مصروف رہیں
tauceeph@gmail.com
KARACHI:
عاصمہ جہانگیرکے خلاف نفرت آمیزمہم اور پنجاب یونیورسٹی میںکلچر ڈے منانے والے پختون طلبہ پر حملہ ایک مخصوص ذہن کی پیداوار ہے ۔اس ذہن کا تازہ کارنامہ لندن میں پارلیمنٹ کے سامنے نہتے افراد پر حملہ ہے۔ یہ ذہن کیسے تبدیل ہوگا ، اسے قومی بحث کا اہم موضوع ہونا چاہیے۔عاصمہ جہانگیرکی جدوجہد پاکستان کی تاریخ کا روشن باب ہے۔ ان کے والد ملک غلام جیلانی نے ایوب اور یحییٰ خان کی آمرانہ حکومتوں کے خلاف تاریخی جدوجہدکی تھی۔ ملک غلام جیلانی، فاطمہ جناح کی صدارتی انتخاب کی مہم میں متحرک تھے۔
جیلانی صاحب نے ایوب خان کی آمرانہ حکومت کے خلاف سابقہ مغربی پاکستان کے گورنر نواب آف کالا باغ ملک امیرمحمد خان سے ٹکر لی تھی۔ ملک غلام جیلانی کے ملک امیر محمد خان کے والد سے پرانے تعلقات تھے۔ ملک امیر محمد خان طالب علمی کے زمانے میں لاہور میں ملک غلام جیلانی کی قیام گاہ پر ٹھہرتے تھے مگرغلام جیلانی نے ایوب خان کے خلاف فاطمہ جناح کی صدارتی مہم میں حصہ لیا توگورنر مغربی پاکستان ان سے ناراض ہوئے اور اس ناراضگی کی سزا یہ ملی کہ لاہورکے مضافات میں ان کی خاندانی جائیداد پر سرکار نے قبضہ کرلیا مگر ملک غلام جیلانی کے عزم میں کوئی فرق نہیں آیا۔
جب جنرل یحییٰ خان نے 1970کے انتخابات کے نتائج کے مطابق عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمن کو اقتدار منتقل کرنے سے انکار کیا اور مارچ 1970میں شیخ مجیب الرحمن نے سول نافرمانی کی تحریک شروع کی اور جنرل یحییٰ خان نے بنگالیوں کی اس تحریک کوطاقت سے کچلا تو ملک غلام جیلانی بنگال میں فوج کے مظالم کے خلاف مہم منظم کرنے لگے۔ فوجی حکومت نے غلام جیلانی کو گرفتار کر کے مغربی پاکستان کی مختلف جیلوں میں نظربند رکھا، عاصمہ اس وقت طالبہ تھیں۔انھوں نے اپنے والدکی گرفتاری کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، یوں عاصمہ کی عرض داشت جنرل یحییٰ خان کے مارشل لاء کے قانونی جواز کے لیے چیلنج بن گئی۔
جسٹس حمود الرحمن پر مشتمل فل بینچ نے 1971 میں اس مقدمے کی سماعت شروع کی۔ اس دوران پاکستان اور بھارت میں جنگ ہوئی۔ پاکستان کو شکست ہوئی اور بنگلہ دیش معرضِ وجود میں آیا۔ پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے نئے پاکستان میں اقتدار سنبھال لیا۔ سپریم کورٹ کی فل بینچ نے 1972میں عاصمہ جیلانی بنام ریاست کے مقدمے میں جنرل یحییٰ خان کے مارشل لاء کے نفاذ کو غیر قانونی قرار دیدیا۔
عاصمہ نے شادی کے بعد ایل ایل بی کیا اور وکالت شروع کی، یہ جنرل ضیاء الحق کا دور تھا۔ لاہور اورکراچی کی باشعور خواتین نے وومن ایکشن فورم قائم کیا۔ عاصمہ ، نگار احمد، حنا جیلانی اور دیگر خواتین ان قوانین کے خلاف سینہ سپر ہوگئیں۔ لاہور کے ریگل چوک پر عاصمہ جہانگیر اور دیگر خواتین نے مظاہرہ کیا۔ شاعرِ انقلاب حبیب جالب خواتین سے یکجہتی کے لیے ریگل چوک آئے۔ پولیس نے خواتین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا۔ حبیب جالب اور کئی خواتین پولیس کے لاٹھی چارج سے زخمی ہوئیں۔عاصمہ کو زخمی حالت میں گرفتارکیا گیا، ان کے ساتھ دیگر خواتین بھی شامل تھیں۔ عاصمہ لاہور کی جیل میں نظربند رہیں۔ رہائی کے بعد خواتین کو منظم کرنے میں لگ گئیں۔
1983میں ایم آر ڈی کی تحریک بحالئ جمہوریت میں مصروف رہیں۔ عاصمہ نے جسٹس ریٹائرڈ دراب پٹیل، معروف صحافی آئی اے رحمن، زہرا یوسف اور حنا جیلانی وغیرہ کے ساتھ مل کر انسانی حقوق کی تنظیم (H.R.C.P) قائم کی۔ ایچ آر سی پی نے آئین کی بحالی، جمہوری اداروں کے استحکام اور خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ حقوق دلانے کے لیے تاریخی جدوجہد کی۔ اس جدوجہد کے دوران ان پر قاتلانہ حملے ہوئے۔ انھیں انسانی حقوق کے کئی بین الاقوامی اعزازات ملے۔ اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کا رپورٹر مقرر کیا۔ عاصمہ نے 2007 میں چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کی تحریک میں بھرپور حصہ لیا۔ وہ 12 مئی 2007 کو چیف جسٹس افتخار چوہدری کے ہمراہ کراچی ایئرپورٹ پہنچیں۔ عاصمہ کے ساتھ بیرسٹر اعتزاز احسن، منیر اے ملک اور سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے موجودہ صدر رشید اے رضوی وغیرہ شامل تھے۔
عاصمہ جسٹس افتخار چوہدری اور دیگر وکلاء کو شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی اور شام گئے انھیں کراچی بدرکردیا گیا۔ جسٹس افتخار چوہدری نے جمہوری عمل کو سبوتاژکرنا شروع کیا تو عاصمہ نے افتخار چوہدری کی ڈاکٹرائن کو چیلنج کیا اور سپریم کورٹ کی صدارت کا انتخاب لڑا۔ عاصمہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر منتخب ہوگئیں۔ اس طرح جسٹس افتخار چوہدری کی ساکھ پہلی دفعہ بکھرنا شروع ہوئی۔
عاصمہ جہانگیر نے غیر مسلم شہریوں کے تحفظ اور انھیں برابر کے حقوق دلوانے کے لیے جوجدوجہد کی اس کی جدید تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ بعض گروپوں نے عاصمہ کی کردارکشی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ ایک دفعہ پھر سوشل میڈیا پر منظم انداز میں عاصمہ جہانگیر کی کردار کشی کی مہم چلائی جارہی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں طلبہ کے دو گروہوں کے درمیان جو تصادم ہوا ، اس کی وجہ ثقافتی سرگرمیاں تھیں ۔ طلبہ کے ایک گروہ نے ثقافتی سرگرمیوں کو منفی نظر سے دیکھا ہے۔ موسیقی سے طلبہ کی رغبت پسند نہیں کی جاتی۔ ان سرگرمیوں کی بناء پر یونیورسٹیوں کا لبرل اور سیکیولرکلچر متاثر ہوا۔ حققیت یہ ہے کہ ایک مخصوص نظریات کی بنا پر عدم برداشت کا کلچر پروان چڑھتا ہے۔ یہ ذہن رجعت پسندی کو فروغ دیتا ہے اور معاشرے کو پیچھے کی طرف دھکیلنے کی آرزو رکھتا ہے۔ ریاست کا بیانیہ تبدیل ہونے سے ہی یہ ذہن تبدیل ہوسکیں گے۔
عاصمہ جہانگیرکے خلاف نفرت آمیزمہم اور پنجاب یونیورسٹی میںکلچر ڈے منانے والے پختون طلبہ پر حملہ ایک مخصوص ذہن کی پیداوار ہے ۔اس ذہن کا تازہ کارنامہ لندن میں پارلیمنٹ کے سامنے نہتے افراد پر حملہ ہے۔ یہ ذہن کیسے تبدیل ہوگا ، اسے قومی بحث کا اہم موضوع ہونا چاہیے۔عاصمہ جہانگیرکی جدوجہد پاکستان کی تاریخ کا روشن باب ہے۔ ان کے والد ملک غلام جیلانی نے ایوب اور یحییٰ خان کی آمرانہ حکومتوں کے خلاف تاریخی جدوجہدکی تھی۔ ملک غلام جیلانی، فاطمہ جناح کی صدارتی انتخاب کی مہم میں متحرک تھے۔
جیلانی صاحب نے ایوب خان کی آمرانہ حکومت کے خلاف سابقہ مغربی پاکستان کے گورنر نواب آف کالا باغ ملک امیرمحمد خان سے ٹکر لی تھی۔ ملک غلام جیلانی کے ملک امیر محمد خان کے والد سے پرانے تعلقات تھے۔ ملک امیر محمد خان طالب علمی کے زمانے میں لاہور میں ملک غلام جیلانی کی قیام گاہ پر ٹھہرتے تھے مگرغلام جیلانی نے ایوب خان کے خلاف فاطمہ جناح کی صدارتی مہم میں حصہ لیا توگورنر مغربی پاکستان ان سے ناراض ہوئے اور اس ناراضگی کی سزا یہ ملی کہ لاہورکے مضافات میں ان کی خاندانی جائیداد پر سرکار نے قبضہ کرلیا مگر ملک غلام جیلانی کے عزم میں کوئی فرق نہیں آیا۔
جب جنرل یحییٰ خان نے 1970کے انتخابات کے نتائج کے مطابق عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمن کو اقتدار منتقل کرنے سے انکار کیا اور مارچ 1970میں شیخ مجیب الرحمن نے سول نافرمانی کی تحریک شروع کی اور جنرل یحییٰ خان نے بنگالیوں کی اس تحریک کوطاقت سے کچلا تو ملک غلام جیلانی بنگال میں فوج کے مظالم کے خلاف مہم منظم کرنے لگے۔ فوجی حکومت نے غلام جیلانی کو گرفتار کر کے مغربی پاکستان کی مختلف جیلوں میں نظربند رکھا، عاصمہ اس وقت طالبہ تھیں۔انھوں نے اپنے والدکی گرفتاری کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، یوں عاصمہ کی عرض داشت جنرل یحییٰ خان کے مارشل لاء کے قانونی جواز کے لیے چیلنج بن گئی۔
جسٹس حمود الرحمن پر مشتمل فل بینچ نے 1971 میں اس مقدمے کی سماعت شروع کی۔ اس دوران پاکستان اور بھارت میں جنگ ہوئی۔ پاکستان کو شکست ہوئی اور بنگلہ دیش معرضِ وجود میں آیا۔ پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے نئے پاکستان میں اقتدار سنبھال لیا۔ سپریم کورٹ کی فل بینچ نے 1972میں عاصمہ جیلانی بنام ریاست کے مقدمے میں جنرل یحییٰ خان کے مارشل لاء کے نفاذ کو غیر قانونی قرار دیدیا۔
عاصمہ نے شادی کے بعد ایل ایل بی کیا اور وکالت شروع کی، یہ جنرل ضیاء الحق کا دور تھا۔ لاہور اورکراچی کی باشعور خواتین نے وومن ایکشن فورم قائم کیا۔ عاصمہ ، نگار احمد، حنا جیلانی اور دیگر خواتین ان قوانین کے خلاف سینہ سپر ہوگئیں۔ لاہور کے ریگل چوک پر عاصمہ جہانگیر اور دیگر خواتین نے مظاہرہ کیا۔ شاعرِ انقلاب حبیب جالب خواتین سے یکجہتی کے لیے ریگل چوک آئے۔ پولیس نے خواتین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا۔ حبیب جالب اور کئی خواتین پولیس کے لاٹھی چارج سے زخمی ہوئیں۔عاصمہ کو زخمی حالت میں گرفتارکیا گیا، ان کے ساتھ دیگر خواتین بھی شامل تھیں۔ عاصمہ لاہور کی جیل میں نظربند رہیں۔ رہائی کے بعد خواتین کو منظم کرنے میں لگ گئیں۔
1983میں ایم آر ڈی کی تحریک بحالئ جمہوریت میں مصروف رہیں۔ عاصمہ نے جسٹس ریٹائرڈ دراب پٹیل، معروف صحافی آئی اے رحمن، زہرا یوسف اور حنا جیلانی وغیرہ کے ساتھ مل کر انسانی حقوق کی تنظیم (H.R.C.P) قائم کی۔ ایچ آر سی پی نے آئین کی بحالی، جمہوری اداروں کے استحکام اور خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ حقوق دلانے کے لیے تاریخی جدوجہد کی۔ اس جدوجہد کے دوران ان پر قاتلانہ حملے ہوئے۔ انھیں انسانی حقوق کے کئی بین الاقوامی اعزازات ملے۔ اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کا رپورٹر مقرر کیا۔ عاصمہ نے 2007 میں چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کی تحریک میں بھرپور حصہ لیا۔ وہ 12 مئی 2007 کو چیف جسٹس افتخار چوہدری کے ہمراہ کراچی ایئرپورٹ پہنچیں۔ عاصمہ کے ساتھ بیرسٹر اعتزاز احسن، منیر اے ملک اور سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے موجودہ صدر رشید اے رضوی وغیرہ شامل تھے۔
عاصمہ جسٹس افتخار چوہدری اور دیگر وکلاء کو شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی اور شام گئے انھیں کراچی بدرکردیا گیا۔ جسٹس افتخار چوہدری نے جمہوری عمل کو سبوتاژکرنا شروع کیا تو عاصمہ نے افتخار چوہدری کی ڈاکٹرائن کو چیلنج کیا اور سپریم کورٹ کی صدارت کا انتخاب لڑا۔ عاصمہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر منتخب ہوگئیں۔ اس طرح جسٹس افتخار چوہدری کی ساکھ پہلی دفعہ بکھرنا شروع ہوئی۔
عاصمہ جہانگیر نے غیر مسلم شہریوں کے تحفظ اور انھیں برابر کے حقوق دلوانے کے لیے جوجدوجہد کی اس کی جدید تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ بعض گروپوں نے عاصمہ کی کردارکشی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ ایک دفعہ پھر سوشل میڈیا پر منظم انداز میں عاصمہ جہانگیر کی کردار کشی کی مہم چلائی جارہی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں طلبہ کے دو گروہوں کے درمیان جو تصادم ہوا ، اس کی وجہ ثقافتی سرگرمیاں تھیں ۔ طلبہ کے ایک گروہ نے ثقافتی سرگرمیوں کو منفی نظر سے دیکھا ہے۔ موسیقی سے طلبہ کی رغبت پسند نہیں کی جاتی۔ ان سرگرمیوں کی بناء پر یونیورسٹیوں کا لبرل اور سیکیولرکلچر متاثر ہوا۔ حققیت یہ ہے کہ ایک مخصوص نظریات کی بنا پر عدم برداشت کا کلچر پروان چڑھتا ہے۔ یہ ذہن رجعت پسندی کو فروغ دیتا ہے اور معاشرے کو پیچھے کی طرف دھکیلنے کی آرزو رکھتا ہے۔ ریاست کا بیانیہ تبدیل ہونے سے ہی یہ ذہن تبدیل ہوسکیں گے۔