جامعہ کراچی ریٹائرافسران واساتذہ کو دوبارہ بھرتی کرنےکا سلسلہ جاری

پروفیسرمنصور احمدپھر رجسٹرار تعینات ،یونیورسٹی کے کلیدی عہدوں پر حاضرسروس ملازمین کے بجائے ریٹائرافسران براجمان.

یونیورسٹی میں دوبارہ بھرتی کیے گئے افراد میں سے کسی کی بھی تقرری کی منظوری یونیورسٹی کے چانسلر گورنرسندھ سے نہیں لی گئی ہے فوٹو: فائل

جامعہ کراچی میں چانسلرسیکریٹریٹ کی منظوری کے بغیر ریٹائر ہونے والے افسران واساتذہ کو دوبارہ بھرتی کیے جانے کا سلسلہ شروع ہوگیا اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے برخلاف یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے مختصرعرصے میں ایک درجن کے قریب افسران و اساتذہ کو ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ بھرتی کرلیا گیایا پھرریٹائر افرادکی مدت ملازمت میں توسیع کردی گئی۔

یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے رجسٹرارکی اسامی سے ایک روز قبل ریٹائر ہونے والے پروفیسرڈاکٹر منصوراحمد کی مدت ملازمت میں تا حکم ثانی توسیع کردی گئی اور مدت ملازمت میں توسیع کرتے ہوئے انھیں ایک بار پھر رجسٹرارکا عہدہ دے دیاگیا ہے۔

جس کے بعد یونیورسٹی کے تمام کلیدی عہدوںکی ذمے داری حاضرسروس ملازمین کے بجائے ریٹائرافسران نے سنبھال لی جن میں خود یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹرمحمدقیصر، رجسٹرار ڈاکٹر منصوراحمد ، ڈائریکٹرفنانس قاضی ظفرعباس، شیخ الجامعہ کے ایڈوائزر پروفیسرسہیل برکاتی، پروفیسرفہیم الدین اورکوالٹی انہاسمنٹ سیل کے سربراہ پروفیسر ساجدین شامل ہیں،پروفیسرسہیل برکاتی کی مدت ملازمت میں گورنر سیکریٹریٹ کی منظوری کے بغیرگذشتہ ماہ 6مہینے کی توسیع کی گئی ہے، پروفیسرفہیم الدین کی مدت ملازمت میں بھی توسیع کی گئی ہے۔




، مزید براں ناظم امتحانات کی سفارش پر شعبہ امتحانات میں تعینات پروفیسررئیس احمد کی مدت ملازمت بھی بڑھادی گئی، ان کی مدت ملازمت میں ریٹائرمنٹ کے بعد سے کئی بار توسیع کی جا چکی ہے،ڈپٹی رجسٹرار اکیڈمک نصیرالدین بھی ریٹائر ہیں۔

مزید براں ڈپٹی رجسٹرار کے دفتر میں غریق برکی، وامق ابدالی، اکائونٹ سیکشن میں تعینات باری، انیس ، قاضی سلیم اور ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس منہاج جیلانی کو بھی ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ بھرتی کیاگیا ہے، قابل ذکرامریہ ہے کہ دوبارہ بھرتی کیے گئے افراد میں سے کسی کی تقرری کی منظوری یونیورسٹی کے چانسلر اور گورنرسندھ سے نہیں لی گئی اور سپریم کورٹ کی واضح ہدایت کے باوجود ریٹائر افسران کی دوبارہ تعیناتی کاسلسلہ جاری ہے۔
Load Next Story