عرب کانفرنس کا اسرائیل سے مقبوضہ علاقے خالی کرنیکا مطالبہ

موجودہ سربراہ کانفرنس میں،21 بادشاہوں‘ صدور اور چوٹی کے دیگر لیڈروں نے شرکت کی

عرب رہنماؤں کی ایک اہم کانفرنس بحیرہ مردار کے تفریحی مقام پر ہوا ہے جس میں نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ فلسطین اور اسرائیل تنازعہ کے حل کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ واضح رہے ایک روزہ سربراہ کانفرنس میں عرب حکمرانوں نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ فلسطینیوں کے تعلقات معمول پر لانے کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں عربوں کے جن علاقوں پر زبردستی قبضہ کر لیا تھا وہ علاقے اصل مالکوں کو واپس کر دیے جائیں تا کہ انھیں مستقبل کی فلسطینی ریاست میں شامل کیا جا سکے۔

اجلاس کے بعد جاری کیے جانے والے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ قیام امن عرب ریاستوں کے لیے تزویراتی متبادل (اسٹرٹیجک آپشن) ہے۔ اردن کے وزیرخارجہ ایمان صفاضی نے کہا ہے کہ سربراہ کانفرنس امن کے پیغام کے ساتھ انجام کو پہنچی۔ واضح رہے کہ عرب امن منصوبہ 2002ء میں پیش کیا گیا تھا جس کی موجودہ سربراہ کانفرنس میں توثیق کرتے ہوئے اسرائیل کو فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ فلسطینیوں کی طرف سے آزاد ریاست کے قیام کے مطالبہ سے عرب ممالک کو بھی باہمی اتحاد میں مدد ملے گی جب کہ گزشتہ چھ سال سے جاری رہنے والی شام کی تباہ کن خانہ جنگی نے عرب اتحاد کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔


موجودہ سربراہ کانفرنس میں،21 بادشاہوں' صدور اور چوٹی کے دیگر لیڈروں نے شرکت کی۔ اس مقام کے عین مقابل اسرائیل کا وہ علاقہ تھا جس پر اس نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ اس کانفرنس میں شرکت کرنے والے لیڈروں میں تمام مرد حضرات شامل تھے جو کہ زیادہ تک بڑی عمر کے تھے۔ شام کے صدر بشارالاسد نے کانفرنس میں شرکت نہیں کی گو کہ 22 رکنی عرب لیگ کی طرف سے انھیں بھی رسمی طور پر دعوت دی گئی تھی۔ واضح رہے یہ سربراہ کانفرنس وہائٹ ہاؤس میں ہونے والے اس اجلاس سے چند ہفتے پیشتر منعقد ہوئی ہے جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تین عرب لیڈروں کو دعوت دی گئی ہے۔

عرب لیڈروں میں اردن کے بادشاہ عبداللہ دوئم مصری صدر عبدالفتح السیسی اور فلسطینی صدر محمود عباس شامل ہونگے۔ صدر ٹرمپ نے ابھی تک فلسطین کے بارے میں امریکی پالیسی کی تشکیل مکمل نہیں کی۔ بہرحال عرب رہنماؤں کا یہ اجلاس انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس سے امریکی صدر کو بھی یہ پیغام دیا گیا ہے کہ فلسطین کے حوالے سے عرب ممالک کیا چاہتے ہیں۔
Load Next Story