اداروں کا استحکام ضروری ہے
عدلیہ‘ پولیس سمیت تمام حکومتی اور سیاسی ادارے آج مختلف مسائل کا شکار ہیں
: فوٹو: فائل
چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس میاں ثاقب نثار نے جسٹس امیرہانی مسلم کے عہدے سے سبکدوش ہونے پر ہفتے کو ان کے اعزاز میں دیے گئے عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پورے یقین سے کہتا ہوں ججز بے خوف ہیں اور کسی دباؤ میں آنے والے نہیں، وکلا ہماری طاقت ہیں، ملک کی ترقی کے لیے ہمیں مل کرکام کرنا ہوگا اور جولوگ اداروں کوکمزورکرناچاہتے ہیں انھیں مل کر ڈھونڈنا ہوگا، وہ قومیں مضبوط ہوتی ہیں جن کے ادارے مضبوط ہوتے ہیں اور ملکی ترقی کے لیے عدلیہ کا مضبوط ہونا بہت ضروری ہے، ایسی بحث اور رائے جب سنتا ہوں جس کا کوئی وجود نہیں تو افسوس ہوتا ہے، کون لوگ ایسا ماحول پیدا کرتے ہیں ان کی نشاندہی کی جائے۔ وکلا بنچ کے وجود کا حصہ ہیں، بار کو وسوسے اوردوریاں زیب نہیں دیتیں۔
چیف جسٹس جسٹس میاں ثاقب نثار نے مسائل کے حل کے لیے بالکل درست نشاندہی کی کہ جب تک ادارے مضبوط نہیں ہوں گے ملک و قوم کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ آج چاروں طرف جو مسائل کے انبار دکھائی پڑتے ہیں اور قوم ان مسائل سے نکلنے کے لیے مایوسی کے عالم میں کبھی ادھر کبھی ادھر ٹامک ٹوئیاں مارتی ہے لیکن اسے کوئی راہ سجھائی نہیں دیتی۔ ہمارے ہاں ہر سیاسی جماعت کی قیادت نے قوم کو یہ ہمیشہ باور کرانے کی کوشش کی کہ ملک کے تمام مسائل کا حل اس کے پاس ہے اور جونہی اسے اقتدار ملا وہ چٹکی بجاتے ہوئے تمام مسائل حل کر دے گی لیکن ملک کی سیاسی تاریخ کا ہر ورق اس حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ ہر جماعت نے ملک اور قوم کی مشکلات میں اضافہ ہی کیا اور آنے والی حکومت کو ورثے میں مسائل کا لامتناہی سلسلہ ملا۔
اس کی ایک وجہ یہ بھی رہی کہ ہر سیاسی جماعت شخصیات کے گرد گھومتی رہی اور ملکی اداروں کو مضبوط بنانے کے بجائے سیاسی شخصیات کے امیج کو مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی جس کا نتیجہ سیاسی شخصیات اور حکمرانوں کے استحکام اور قومی اداروں کی کمزوری کی صورت میں برآمد ہوا ۔ ہر کوئی مسائل کی نشاندہی تو کر دیتا ہے لیکن اس کے حل کی جانب پہل کرنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتا' مسائل حل کرنے کی قوت رکھنے والی تمام سیاسی اور ادارہ جاتی شخصیات ایک دوسرے پر الزامات عائد کر کے خود کو ہر فرض سے بری الذمہ قرار دے دیتی ہیں۔ کسی نے بھی احتساب کے خوف سے اداروں کو مضبوط بنانے کی بھاگ دوڑ نہیں کی' ہر کوئی مصلحت اور مفاد پرستی کا شکار رہا۔
عدلیہ' پولیس سمیت تمام حکومتی اور سیاسی ادارے آج مختلف مسائل کا شکار ہیں، ان اداروں کے سربراہان اور مقتدر قوتوں کو تمام مسائل کا بخوبی ادراک ہے اور وہ وقتاً فوقتاً ان کا حل بھی پیش کرتے رہتے مگر یہ تمام امور زبانی دعوؤں تک محدود رہتے ہیں عملی طور پر کوئی بھی قدم نہیں اٹھاتا۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ادارے مستحکم ہوں گے تو ملک ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو گا مگر تمام اداروں میں کرپشن' میرٹ کی خلاف ورزی اور نااہلی کا ناسور اس قدر گہری جڑیں پکڑ چکا ہے کہ روایتی طریقوں سے اسے درست کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ حکمران اور اپوزیشن جماعتوں کو بخوبی ادراک ہے کہ تمام سرکاری ادارے کرپشن زدہ ہو چکے ہیں لیکن وہ اسے درست کرنے پر آمادہ نہیں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ ان اداروں کو کرپشن زدہ کرنے میں انھی کا ہاتھ ہے اور اگرانھیں راہ راست پر لانے کی کوشش کی گئی تو سب سے پہلے انھی کا احتساب ہو گا۔
ملک کی سیاسی تاریخ میں کہیں عدلیہ اور پارلیمنٹ ایک دوسرے کے مدمقابل اور ایک دوسرے پر اپنی برتری ثابت کرتے تو کہیں مصلحت کا شکار ہو کر ایک دوسرے سے گٹھ جوڑ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ عدلیہ نے بھی کچھ ایسے فیصلے کیے جن کی جانب آج تک انگلی اٹھائی جاتی رہی ہے۔ سیاسی جماعتوں کا رویہ بھی عدلیہ کے بارے میں بہت سے شکوک پیدا کرتا رہا' اگر ایک سیاسی جماعت کے حق میں عدلیہ کا فیصلہ آ جائے تو اسے درست سمجھا جاتا اور اگر خلاف آ جائے تو اسے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کا رویہ بھی درست نہیں رہا۔ عوام کو جن اداروں کے بارے میں شکایات ہیں ان میں عدلیہ کا نام بھی سرفہرست آتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ عدلیہ اور پارلیمنٹ مشترکہ پلیٹ فارم پر ملکی مسائل کو حل کرنے اور اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے لائحہ عمل طے کریں جس پر عملدرآمد بھی یقینی بنایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کا احتساب کیا جائے۔
چیف جسٹس جسٹس میاں ثاقب نثار نے مسائل کے حل کے لیے بالکل درست نشاندہی کی کہ جب تک ادارے مضبوط نہیں ہوں گے ملک و قوم کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ آج چاروں طرف جو مسائل کے انبار دکھائی پڑتے ہیں اور قوم ان مسائل سے نکلنے کے لیے مایوسی کے عالم میں کبھی ادھر کبھی ادھر ٹامک ٹوئیاں مارتی ہے لیکن اسے کوئی راہ سجھائی نہیں دیتی۔ ہمارے ہاں ہر سیاسی جماعت کی قیادت نے قوم کو یہ ہمیشہ باور کرانے کی کوشش کی کہ ملک کے تمام مسائل کا حل اس کے پاس ہے اور جونہی اسے اقتدار ملا وہ چٹکی بجاتے ہوئے تمام مسائل حل کر دے گی لیکن ملک کی سیاسی تاریخ کا ہر ورق اس حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ ہر جماعت نے ملک اور قوم کی مشکلات میں اضافہ ہی کیا اور آنے والی حکومت کو ورثے میں مسائل کا لامتناہی سلسلہ ملا۔
اس کی ایک وجہ یہ بھی رہی کہ ہر سیاسی جماعت شخصیات کے گرد گھومتی رہی اور ملکی اداروں کو مضبوط بنانے کے بجائے سیاسی شخصیات کے امیج کو مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی جس کا نتیجہ سیاسی شخصیات اور حکمرانوں کے استحکام اور قومی اداروں کی کمزوری کی صورت میں برآمد ہوا ۔ ہر کوئی مسائل کی نشاندہی تو کر دیتا ہے لیکن اس کے حل کی جانب پہل کرنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتا' مسائل حل کرنے کی قوت رکھنے والی تمام سیاسی اور ادارہ جاتی شخصیات ایک دوسرے پر الزامات عائد کر کے خود کو ہر فرض سے بری الذمہ قرار دے دیتی ہیں۔ کسی نے بھی احتساب کے خوف سے اداروں کو مضبوط بنانے کی بھاگ دوڑ نہیں کی' ہر کوئی مصلحت اور مفاد پرستی کا شکار رہا۔
عدلیہ' پولیس سمیت تمام حکومتی اور سیاسی ادارے آج مختلف مسائل کا شکار ہیں، ان اداروں کے سربراہان اور مقتدر قوتوں کو تمام مسائل کا بخوبی ادراک ہے اور وہ وقتاً فوقتاً ان کا حل بھی پیش کرتے رہتے مگر یہ تمام امور زبانی دعوؤں تک محدود رہتے ہیں عملی طور پر کوئی بھی قدم نہیں اٹھاتا۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ادارے مستحکم ہوں گے تو ملک ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو گا مگر تمام اداروں میں کرپشن' میرٹ کی خلاف ورزی اور نااہلی کا ناسور اس قدر گہری جڑیں پکڑ چکا ہے کہ روایتی طریقوں سے اسے درست کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ حکمران اور اپوزیشن جماعتوں کو بخوبی ادراک ہے کہ تمام سرکاری ادارے کرپشن زدہ ہو چکے ہیں لیکن وہ اسے درست کرنے پر آمادہ نہیں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ ان اداروں کو کرپشن زدہ کرنے میں انھی کا ہاتھ ہے اور اگرانھیں راہ راست پر لانے کی کوشش کی گئی تو سب سے پہلے انھی کا احتساب ہو گا۔
ملک کی سیاسی تاریخ میں کہیں عدلیہ اور پارلیمنٹ ایک دوسرے کے مدمقابل اور ایک دوسرے پر اپنی برتری ثابت کرتے تو کہیں مصلحت کا شکار ہو کر ایک دوسرے سے گٹھ جوڑ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ عدلیہ نے بھی کچھ ایسے فیصلے کیے جن کی جانب آج تک انگلی اٹھائی جاتی رہی ہے۔ سیاسی جماعتوں کا رویہ بھی عدلیہ کے بارے میں بہت سے شکوک پیدا کرتا رہا' اگر ایک سیاسی جماعت کے حق میں عدلیہ کا فیصلہ آ جائے تو اسے درست سمجھا جاتا اور اگر خلاف آ جائے تو اسے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کا رویہ بھی درست نہیں رہا۔ عوام کو جن اداروں کے بارے میں شکایات ہیں ان میں عدلیہ کا نام بھی سرفہرست آتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ عدلیہ اور پارلیمنٹ مشترکہ پلیٹ فارم پر ملکی مسائل کو حل کرنے اور اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے لائحہ عمل طے کریں جس پر عملدرآمد بھی یقینی بنایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کا احتساب کیا جائے۔