عدالتی امور پر محتاط رد عمل کی ضرورت

حساس عدالتی فیصلوں پر یوں بھی میڈیا میں یا سر عام رائے زنی مناسب نہیں

۔ فوٹو؛ فائل

سندھ ہائیکورٹ نے 479 ارب کی کرپشن کے 2 ریفرنسز میں سابق وفاقی وزیر اور پیپلزپارٹی کے رہنما ڈاکٹر عاصم حسین کی طبی بنیادوں پر ضمانت منظور کر لی، ریفری جج جسٹس آفتاب گورڑ نے انھیں 25، 25 لاکھ کے 2 مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے، ڈاکٹر عاصم حسین کو سندھ رینجرز نے26 اگست 2015ء کو حراست میں لیا اور وہ تقریباً 19 ماہ سے قید میں رہے۔ واضح رہے ان کی ضمانت منظور ہونے سے پہلے پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل میمن اور ایان علی کی ضمانتیں بھی ہو چکی ہیں جب کہ سابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور مقدمات سے بری ہو چکے ہیں۔


یہ تمام معاملات عدالتی پروسیس اور مقدمات کے قانونی و تکنیکی پہلوؤں سے متعلق ہیں، کسی ملزم کی ضمانت قانون و آئین کے تحت ہوتی ہے، جمہوری ملکوں کے مروجہ جوڈیشل نظام میں اس کی اجازت ہوتی ہے، چونکہ ضمانت کا مطلب بری ہونا نہیں ہوتا، اس لیے ڈاکٹر عاصم کی ضمانت ہوئی ہے وہ بری نہیں ہوئے، جب کہ حامد سعید کاظمی کو عدلیہ نے تمام الزامات سے بری کر دیا۔ پیدا شدہ سیاسی و سماجی صورتحال میں زندگی کے مصائب و مشکلات اور حکومت کے خلاف دل کی بھڑاس نکالنے پر بظاہر کوئی قدغن نہیں تاہم حساس عدالتی فیصلوں پر یوں بھی میڈیا میں یا سر عام رائے زنی مناسب نہیں جب کہ قانونی ماہرین کی نگاہوں سے مقدمات کا اصل تناظر قانونی مضمرات سے کبھی اوجھل نہیں ہوتا، اس لیے صائب مشورہ یہی ہے کہ عدالتی فیصلوں پر سیاسی حلقوں سے بھی محتاط اور ذمے دارانہ رد عمل ظاہر ہونا چاہیے۔

بلکہ حقیقت میں ہائی پروفائل کیسز کے حوالہ سے کمزور کرمنل جسٹس و پراسیکیوشن سسٹم، فرانزک، قرائنی، واقعاتی اور ٹھوس شواہد کے فقدان، استغاثہ کی خامی، گواہوں کے بدلتے بیانات اور دیگر انتظامی معاملات کی عدم شفافیت بھی کھل کر سامنے آئی ہے، عدالتی اصلاحات کی ضرورت محسوس ہوئی ہے، سیاسی ترجیحات اور مصلحتوں کے قصے بھی عام ہیں۔ کئی کیسز میں الزامات ثابت نہیں ہو سکے لہٰذا کیسز کی جارحانہ تفتیش میں مزید بہتری کی گنجائش ہے کیونکہ متعلقہ ٹھوس اور شفاف شواہد ہی کسی عدالتی فیٖصلہ کی بنیاد بنتے ہیں۔
Load Next Story