کوئٹہ میں میتوں کی تدفین بلوچستان کے تمام وزرا کو کام سے روک دیا صدارتی فرمان

یکجہتی کونسل،صوبے میں ڈبل سواری اور اسلحہ کی نمائش پر پابندی، گورنر راج کا پہلا اعلامیہ جاری

کوئٹہ:علمدار روڈ دھماکے میں جاں بحق ہونے والے 86افراد کی نماز جنازہ ادا کی جارہی ہے جس میں لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔ فوٹو : ایکسپریس

بلوچستان میں صوبائی حکومت کی برطرفی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد یکجہتی کونسل نے 4 روز سے جاری دھرنا پیر کی دوپہرختم کردیا۔

علمدا رروڈ دھماکے میں جاں بحق86افراد کی تدفین بہشت زینب ہزارہ قبرستان میں کردی گئی۔ نماز جنازہ اور تدفین میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جبکہ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے بھی 3 دن سے جاری بھوک ہڑتال ختم کردی۔یکجہتی کونسل نے86لاشوں کے ہمراہ علمدار روڈ پر دھرنا گذشتہ جمعہ کی دوپہر سے دے رکھا تھا اورمطالبہ کیا تھا کہ بلوچستان حکومت کوفوری طورپر برطرف کرکے گورنر راج نافذ کیاجائے اور کوئٹہ کو فوج کے حوالے کیاجائے۔

اتوار اور پیر کی درمیانی شب وزیراعظم راجا پرویز اشرف علمدار روڈ پر دھرنے میں آئے، یکجہتی کونسل کے رہنمائوں سے مذاکرات کیے اوریکجہتی کونسل کے مطالبات تسلیم کرکے بلوچستان میں گورنر راج نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ اس اعلان کے بعد پیر کی صبح یکجہتی کونسل کے رہنمائوں کا اجلاس امام بارگاہ قندھاری میں منعقد ہوا اور باقاعدہ طورپر دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ دوسری جانبصدر آصف علی زرداری نے بلوچستان میں گورنر راج نافذ کرنے کا باقاعدہ طور پرصدارتی فرمان (نوٹیفکیشن) جاری کردیا ہے ۔

اسٹاف رپورٹر کے مطابق بلاول ہائوس کراچی میں موجود صدر زرداری نے پیر کوگورنر راج نافذ کرنے کا باقاعدہ صدارتی فرمان (نوٹیفکیشن) جاری کیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق گورنر بلوچستان نواب ذوالفقارمگسی صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہوںگے جبکہ ایف سی کو صوبے میں پولیس کے اختیارات دے دیے گئے ہیں ۔ گورنر بلوچستان صوبے کے تمام انتظامی، مالیاتی اور حکومتی اختیارات استعمال کرسکیں گے تاہم انھیںصوبائی اسمبلی کے اختیارات حاصل نہیں ہوں گے ۔ اس نوٹیفکیشن کے ذریعے گورنر بلوچستان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر بلوچستان حکومت کے امور سنبھال لیں ۔ وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی اور تمام وزراء کو کام کرنے سے روک دیا گیا ہے ۔




نمائندہ ایکسپریس کے مطابق دھرنے کے شرکاء نے69گھنٹے تک دھرنا دینے کے بعد احتجاج ختم کیا اورجاں بحق افراد کی میتوں کو مختلف امام بارگاہوں میں منتقل کردیاگیا۔ تدفین کے وقت خواتین اور بچے بھی بڑی تعداد میں موجود تھے،86میتیں قبروں میں اتارتے ہوئے رقت آمیز مناظر بھی دیکھنے میں آئے۔دھرنے کے اختتام پر کوئٹہ یکجہتی کونسل کے رہنمائوں سردار سعادت ہزارہ، حاجی عبدالقیوم چنگیزی، مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی جنرل سیکریٹری علامہ راجہ ناصر عباس نے شیعہ علماء کونسل کے رہنمائوں کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احتجاج میں ساتھ دینے والی سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اورمیڈیا کا شکریہ اداکیا اورکہاکہ ہم پرامن لوگ ہیں اور کسی قسم کی منافرت اور بدامنی نہیں چاہتے۔ انھوں نے کہاکہ وہ امید کرتے ہیں کہ گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں امن قائم کریں گے۔

یکجہتی کونسل کے دھرنے اور قبرستان میں تدفین کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین عبد الخالق ہزارہ نے وزیر اعلیٰ رئیسانی کی حکومت کے خاتمے کو ہزاروں بے گناہ شہداء کی قربانیوں ، ہزارہ قوم کے منظم اور مربوط احتجاج ، پاکستان سمیت نیویارک ، سڈنی ، لندن ، برسلز ، کینبرا ، کابل اور دنیا کے کئی ممالک میں آباد ہزارہ قوم کے تنظیموں کی جدوجہد کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ٹارگٹڈ آپریشن کے بغیر ہزارہ قوم مطمئن نہیں ہوگی۔ 72 گھنٹوں کی بھوک ہڑتال کے تیسرے روز سردار نثار علی ہزارہ نے جوس پلا کر بھوک ہڑتال کو ختم کرایا۔ تیسرے روز بھی بھوک ہڑتالی کیمپ میں ہزاروں خواتین ، بچوں ، معزز افراد نے شرکت کی اور کیمپ کے خاتمے تک موجود رہے ۔

اس دوران وکلاء اور سیاسی رہنماؤں کی آمد بھی جاری رہی۔ مجلس وحدت المسلمین کے مرکزی سیکریٹری جنرل جناب علامہ راجہ ناصر عباس ، علامہ اعجاز حسین بہشتی اور علامہ سید ہاشم موسوی نے اپنے مشترکہ بیان میں تمام اہل تشیع کوکامیاب دھرنے پر خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ایک ٹی وی رپورٹ کے مطابق گورنر راج کے نفاذ کے بعد بلوچستان میں پہلے اقدام کا اعلامیہ جاری کیا گیا جس کے تحت صوبہ بھر میں دفعہ 144 کے تحت ڈبل سواری، گاڑیوں کے کالے شیشے اور اسلحے کی نمائش پر پابندی عائد کر دی گئی، گورنر کی طرف سے کوئٹہ میں دہشت گردی میں جاں بحق افراد کے لواحقین کیلیے امدادی رقم 4سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے اور زخمیوں کیلیے ایک لاکھ سے بڑھا کر 2 لاکھ کردی گئی ہے۔

آئی این پی کے مطابق آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کو بلوچستان میں آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کے نفاذ کی 2 ماہ کے اندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے منظوری لینا ہو گی۔ پارلیمنٹ نے وفاقی حکومت کے فیصلے کی توثیق نہ کی توصوبائی حکومت اور اسمبلی فوری بحال ہو جائے گی، ماہرین کے مطابق وفاق آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کو6 ماہ تک برقرار رکھ سکتا ہے تاہم اس کے لیے ہر دو ماہ بعد پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کرمنظوری حاصل کرنا لازمی ہے۔

Recommended Stories

Load Next Story