فوج کو جارحانہ کارروائی کا حکم دیدیا بھارتی آرمی چیف فلیگ میٹنگ کے بعد بھی بھارتی گولہ باری
امن عمل جاری رہنا چاہیے لیکن حملے برداشت نہیں، ہمارے فوجی کا سر واپس کیا جائے، جنرل بکرم سنگھ،نئی دہلی میں گفتگو
عسکری حکام کی بات چیت میں کشیدگی کم اور سیزفائرکی پابندی پراتفاق ، پاک فوج نے بھارتی الزامات مسترد کردیے، بھارتی فوج کی کنٹرول لائن پردوبارہ فائرنگ سے ایک شہری زخمی فوٹو: رائٹرز
REDMOND, WA, US:
بھارتی آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ نے کہا ہے کہ ہم پاکستان سے بدلہ لینے کاحق محفوظ رکھتے ہیں۔
اگراب سیزفائرکی خلاف ورزی ہوئی توجارحانہ طریقے سے جواب دیا جائیگا۔ دوسری جانب پاک بھارت فلیگ میٹنگ کے چند گھنٹوں بعدہی بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول پرشہری آبادی پربلا اشتعال فائرنگ کی ہے جس سے ایک نوجوان زخمی ہوگیا، پاکستان نے سیزفائرکی خلاف ورزی کابھارتی الزام مستردکرتے ہوئے بھارت سے مطالبہ کیاکہ وہ ایل اوسی پر سیز فائرمعائدے کی پاسداری کرے ، اطلاعات کے مطابق پیرکو فلیگ میٹنگ کے چندگھنٹوں بعدہی بھارتی فوج نے درہ شیرخان سیکٹر پرفائرنگ کردی جس سے محمدابرارولد عبدالرشید زخمی ہوگیا، بھارت کی مسلسل جارحیت کی وجہ سے سرحدی علاقوں میں عوام کی زندگیاںمفلوج ہوکررہ گئی ہیں اور شدید خوف وہراس پھیل گیا۔ بریگیڈیئر کی سطح کی فلیگ میٹنگ میں سیزفائرکے ضابطہ اخلاق پرعملدرآمد پر اتفاق ہوا۔
دونوں جانب سے کشیدگی کم کرنے کیلیے سیزفائرکی پابندی پراتفاق کیاگیا۔ آئی ایس پی آرکے جاری کردہ بیان میں کہاگیا ہے کہ فلیگ میٹنگ پونچھ سیکٹرکے علاقے چھکن داباغ میںہوئی جس میں سیزفائرکی صورتحال پرتبادلہ خیال کیاگیا، عسکری ترجمان کے مطابق فلیگ میٹنگ میں بھارت کی طرف سے کنٹرول لائن پرسیز فائر کی خلاف ورزی کامعاملہ اٹھایاگیا اوربھارتی حکام کواس بات سے بھی اگاہ کیاگیا، بھارت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ہرصورت سیزفائرکی پابندی کو یقینی بنائے، ذرائع نے بتایاکہ پاکستان نے بھارتی فوج کے اس الزام کوبھی یکسرمستردکردیاجس میںکہاگیا تھا کہ پاکستانی فوج نے سیزفائر کی خلاف ورزی کی ہے۔ پاکستان نے بھارتی فوج کی مسلسل سرحدی خلاف ورزی پرشدید احتجاج کیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھارتی آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ نے پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ جارحیت کے ثبوت تسلیم کرنے سے انکارکرتے ہوئے سیزفائرکی خلاف ورزی سے بھارت کوبری الذمہ قراردیا اورالزام عائدکیاکہ پاکستان نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت فائرنگ کی، میں نے اپنے فوجیوں کو واضح ہدایات دے دی ہیں، اب اگرکوئی بھی حملہ ہوا تو اسی طرح جواب دیا جائے گا، بھارتی آرمی چیف پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کے دوران 6جنوری کوبھارتی فوجیوں کی کسی بھی کارروائی سے بھی مکرگئے بلکہ انھوں نے کہا کہ دو فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بھارتی افواج میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انھوں نے کہاکہ 6 جنوری کوبھارتی سیکیورٹی فورسزکی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
بکرم سنگھ نے پاکستان پر جارحیت کا الزام لگاتے ہوئے یہ بھی کہاکہ گذشتہ ہفتے بھارتی فوجیوں کے ساتھ کیا جانے والا سلوک قابل معافی نہیں تاہم ان واقعات سے امن مذاکرات متاثر نہیں ہونا چاہیے، ہم چاہتے ہیں کہ امن عمل آگے بڑھے لیکن ہم پر حملے رکنے چاہییں، انھوں نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ بھارتی فوجی کا سر ہمارے حوالے کیا جائے، دوسری جانب پاک فوج کے افسران نے بھارتی فوجی کا سر کاٹنے کے کسی بھی واقعے کی تردید کی ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی آرمی چیف بکرم سنگھ نے اپنی فورسزکوحکم دیدیاکہ وہ پاکستان کی جانب سے کسی بھی حملے کی صورت میںبھرپورجواب دیں، ہم یکطرفہ طورپرسیزفائربرقرارنہیں رکھ سکتے۔
آرمی چیف نے چونڈاکے علاقے میں فوجی چوکیاں بنائے جانے کی تردیدکی اورکہا کہ یہ محض ایک الزام ہے، نمائندہ ایکسپریس کے مطابق بھارتی افواج کی جانب سے کی جانے والی جارحیت کیخلاف آزاد کشمیر بھرمیں یوم مزاحمت منایاگیا، مظفر آباد ،میرپور ، باغ ، بھمبر ،کوٹلی اور راولاکوٹ میںاحتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں،دارالحکومت میں وزیراعظم چوہدری عبدالمجیداورآل جموں وکشمیرمسلم کانفرنس کے صدرسردارعتیق احمدخان کی قیادت میںاولڈ سیکریٹریٹ سے اقوام متحدہ کے فوج مبصرمشن کے دفتر تک احتجاجی ریلی نکالی گئی جہاں بھارتی جارحیت کے حوالے سے احتجاجی یادداشت اقوام متحدہ کے فوجی مبصرمشن کے حوالے کی گئی۔ اے ایف پی کے مطابق دونوں ملکوں کے فوجی حکام میں تقریبا! آدھا گھنٹے ملاقات ہوئی۔
بھارتی آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ نے کہا ہے کہ ہم پاکستان سے بدلہ لینے کاحق محفوظ رکھتے ہیں۔
اگراب سیزفائرکی خلاف ورزی ہوئی توجارحانہ طریقے سے جواب دیا جائیگا۔ دوسری جانب پاک بھارت فلیگ میٹنگ کے چند گھنٹوں بعدہی بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول پرشہری آبادی پربلا اشتعال فائرنگ کی ہے جس سے ایک نوجوان زخمی ہوگیا، پاکستان نے سیزفائرکی خلاف ورزی کابھارتی الزام مستردکرتے ہوئے بھارت سے مطالبہ کیاکہ وہ ایل اوسی پر سیز فائرمعائدے کی پاسداری کرے ، اطلاعات کے مطابق پیرکو فلیگ میٹنگ کے چندگھنٹوں بعدہی بھارتی فوج نے درہ شیرخان سیکٹر پرفائرنگ کردی جس سے محمدابرارولد عبدالرشید زخمی ہوگیا، بھارت کی مسلسل جارحیت کی وجہ سے سرحدی علاقوں میں عوام کی زندگیاںمفلوج ہوکررہ گئی ہیں اور شدید خوف وہراس پھیل گیا۔ بریگیڈیئر کی سطح کی فلیگ میٹنگ میں سیزفائرکے ضابطہ اخلاق پرعملدرآمد پر اتفاق ہوا۔
دونوں جانب سے کشیدگی کم کرنے کیلیے سیزفائرکی پابندی پراتفاق کیاگیا۔ آئی ایس پی آرکے جاری کردہ بیان میں کہاگیا ہے کہ فلیگ میٹنگ پونچھ سیکٹرکے علاقے چھکن داباغ میںہوئی جس میں سیزفائرکی صورتحال پرتبادلہ خیال کیاگیا، عسکری ترجمان کے مطابق فلیگ میٹنگ میں بھارت کی طرف سے کنٹرول لائن پرسیز فائر کی خلاف ورزی کامعاملہ اٹھایاگیا اوربھارتی حکام کواس بات سے بھی اگاہ کیاگیا، بھارت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ہرصورت سیزفائرکی پابندی کو یقینی بنائے، ذرائع نے بتایاکہ پاکستان نے بھارتی فوج کے اس الزام کوبھی یکسرمستردکردیاجس میںکہاگیا تھا کہ پاکستانی فوج نے سیزفائر کی خلاف ورزی کی ہے۔ پاکستان نے بھارتی فوج کی مسلسل سرحدی خلاف ورزی پرشدید احتجاج کیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھارتی آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ نے پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ جارحیت کے ثبوت تسلیم کرنے سے انکارکرتے ہوئے سیزفائرکی خلاف ورزی سے بھارت کوبری الذمہ قراردیا اورالزام عائدکیاکہ پاکستان نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت فائرنگ کی، میں نے اپنے فوجیوں کو واضح ہدایات دے دی ہیں، اب اگرکوئی بھی حملہ ہوا تو اسی طرح جواب دیا جائے گا، بھارتی آرمی چیف پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کے دوران 6جنوری کوبھارتی فوجیوں کی کسی بھی کارروائی سے بھی مکرگئے بلکہ انھوں نے کہا کہ دو فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بھارتی افواج میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انھوں نے کہاکہ 6 جنوری کوبھارتی سیکیورٹی فورسزکی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
بکرم سنگھ نے پاکستان پر جارحیت کا الزام لگاتے ہوئے یہ بھی کہاکہ گذشتہ ہفتے بھارتی فوجیوں کے ساتھ کیا جانے والا سلوک قابل معافی نہیں تاہم ان واقعات سے امن مذاکرات متاثر نہیں ہونا چاہیے، ہم چاہتے ہیں کہ امن عمل آگے بڑھے لیکن ہم پر حملے رکنے چاہییں، انھوں نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ بھارتی فوجی کا سر ہمارے حوالے کیا جائے، دوسری جانب پاک فوج کے افسران نے بھارتی فوجی کا سر کاٹنے کے کسی بھی واقعے کی تردید کی ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی آرمی چیف بکرم سنگھ نے اپنی فورسزکوحکم دیدیاکہ وہ پاکستان کی جانب سے کسی بھی حملے کی صورت میںبھرپورجواب دیں، ہم یکطرفہ طورپرسیزفائربرقرارنہیں رکھ سکتے۔
آرمی چیف نے چونڈاکے علاقے میں فوجی چوکیاں بنائے جانے کی تردیدکی اورکہا کہ یہ محض ایک الزام ہے، نمائندہ ایکسپریس کے مطابق بھارتی افواج کی جانب سے کی جانے والی جارحیت کیخلاف آزاد کشمیر بھرمیں یوم مزاحمت منایاگیا، مظفر آباد ،میرپور ، باغ ، بھمبر ،کوٹلی اور راولاکوٹ میںاحتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں،دارالحکومت میں وزیراعظم چوہدری عبدالمجیداورآل جموں وکشمیرمسلم کانفرنس کے صدرسردارعتیق احمدخان کی قیادت میںاولڈ سیکریٹریٹ سے اقوام متحدہ کے فوج مبصرمشن کے دفتر تک احتجاجی ریلی نکالی گئی جہاں بھارتی جارحیت کے حوالے سے احتجاجی یادداشت اقوام متحدہ کے فوجی مبصرمشن کے حوالے کی گئی۔ اے ایف پی کے مطابق دونوں ملکوں کے فوجی حکام میں تقریبا! آدھا گھنٹے ملاقات ہوئی۔