بلوچستان حکومت کے اسطرح خاتمے کی خواہش نہیں تھی چیف جسٹس

عوام کی آواز سنیں، لوگ اب آرمی کو بلانے کی بات کر رہے ہیں، افتخار چوہدری

بھوتانی برطرفی اور بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت میں ریمارکس، کوئٹہ میں فوج بلائی جائے، صرف گورنر راج سے امن نہیں ہو سکتا، درخواست دائر فوٹو: فائل

چیف جسٹس آف پاکستان افتخارمحمد چوہدری نے کہا ہے کہ عدالت نے یہ ہرگزنہیں کہا کہ بلوچستان حکومت ختم کردی جائے۔

صرف یہ واضح کیا تھا کہ صوبائی حکومت بنیادی حقوق فراہم کرنے میں ناکام ہوئی۔ یہ خواہش نہیں تھی کہ اس طرح حکومت ختم ہو۔ پیر کو چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے3 رکنی بنچ نے بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر اسلم بھوتانی کی برطرفی کیس اور بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے یہ ہر گز نہیں کہا کہ صوبائی حکومت ختم کر دی جائے یا حکومت کام روک دے، صرف یہ واضح کیا تھا حکومت بنیادی حقوق فراہم کرنے میں ناکام ہوئی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں حکومت اس طرح سے ختم کرنے کا عدالت کو اختیار نہیں۔

اسلم بھوتانی کے وکیل منیر ملک سے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آئین کی کسی شق کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو بتائیں؟، منیر اے ملک نے کہا کہ فیصلے میں کہا گیا تھا کہ بلوچستان حکومت آئینی جواز کھو چکی، وزیراعلیٰ بلوچستان کا اجلاس بلانا غیر آئینی تھا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اسمبلی کا اجلاس بلانے سے کبھی منع نہیں کیا، ہم کوئی خلا پیدا نہیں کرنا چاہتے تھے۔ مزید سماعت22 جنوری تک ملتوی کردی گئی۔ آن لائن کے مطابق سپریم کورٹ نے بلوچستان میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا نو ٹیفکیشن طلب کرتے ہوئے امن و امان کے بارے میں رپورٹ بھی طلب کر لی۔


چیف جسٹس افتخار چوہدری نے کہا ہے کہ لوگوں کے دلوں کی اواز سنیں، لوگ اب آرمی کو بلانے کی بات کر رہے ہیں۔ پیر کو چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ کا نو ٹیفکیشن بھی طلب کرلیا۔ ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان امان اللہ کنرانی نے عدالت کوبتایا کہ مجھے ابھی گورنر راج کے نفاذ کا نوٹیفکیشن نہیں ملا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم پہلے دن سے بلوچستان میں بنیادی حقوق کی بات کر رہے ہیں لیکن کسی کے جان و مال کو تحفظ نہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ایک دوسرے پرذمے داری ڈال رہے ہیں۔



لیکن حالات جوں کے توں ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کوئٹہ اور مستونگ کے واقعات کے ملزمان کو کیوں گرفتار نہیں کیا گیا؟۔ انھوں نے ایڈووکیٹ جنرل کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے کہ چند لوگ ایسا کر رہے ہیں جنھیں آپ گرفتار نہیں کرنا چاہتے۔ آئی این پی کے مطابق کوئٹہ میں امن وامان کی صورتحال کے پیش نظر فوج بلانے کیلیے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی گئی۔ پیر کو ایڈووکیٹ طارق اسد کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیارکیا گیا ہے کہ بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ سے امن قائم نہیں ہو سکتا۔

وزیراعظم کوہدایت کی جائے کہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت کوئٹہ کو فوج کے حوالے کیا جائے۔ان کا کہنا ہے کہ جب تک کوئٹہ میں حالات معمول پرنہیں آجاتے، امن وامان کی ذمے داری فوج کوسونپی جائے۔ درخواست میں وفاقی حکومت، وزیراعظم، وزارت داخلہ اور بلوچستان حکومت کوفریق بنایا گیا ہے۔

Recommended Stories

Load Next Story