مارچ عالمی سازش کا حصہ ہے رحمن ملک طاہر القادری بند گلی میں آگئے قمر کائرہ

طاہرالقادری 15ہزار لوگ بھی جمع نہیں کر سکے، وزیر داخلہ

مشاورت کے بعد گورنر راج نافذ کیا، طاہر القادری کے نئے مطالبات آئین اورقانون کے مطابق ہوئے تو مذاکرات کیے جاسکتے ہیں، وزیر اطلاعات فوٹو: ثناء/فائل

وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر رحمن ملک نے کہا ہے کہ 40 لاکھ افراد اکٹھے کرنے کا دعویٰ کرنے والے طاہر القادری15ہزار لوگ بھی جمع نہیں کر سکے، ان کا دعویٰ جھوٹ ثابت ہوا ہے۔

وہ اپنی شکست تسلیم کر لیں اور کینیڈا واپس چلے جائیں، لانگ مارچ ،بھارتی فوج اور افغان حکومت کی دھمکیاں پاکستان کیخلاف عالمی سازش اور ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ مارچ پر آنے والے اخراجات کی تفصیلات اکٹھی کرنے کے لئے ایف آئی اے کو احکاماجاری کر دیے ہیں۔ ہم طاہر القادری کا نام ای سی ایل میں نہیں ڈالیں گے۔ وہ پیر کو یہاں لانگ مارچ کے سیکیورٹی انتظامات کا فضائی جائزہ لینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ طاہر القادری صرف 15 سے 20 ہزار لوگ جمع کر سکے اور اتنی چھوٹی تعداد سے حکومتیں تبدیل نہیں ہوا کرتیں۔

طاہر القادری خود بتا دیں کہ ان کے پاس کروڑوں روپے کے فنڈز کہاں سے آئے ؟۔آن لائن کے مطابق وزیر داخلہ نے کہا کہ طاہرالقادری کی طرف سے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا پر چلائے جانے والے اشتہارات کے حوالے سے بھی اشتہاری کمپنیوں سے تمام اشتہاراتکے بارے میں تحقیقات کرائی جائیں گی ۔ وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ طاہرالقادری کے پاس ایسی کون سی خدائی طاقت آ گئی ہے جس سے وہ خدائی دعوے کرنے لگے ہیں، طاہر القادری کی اس پوری مہم پر ہونے والی فنڈنگ کے حوالے سے وہ بہت جلد وائیٹ پیپرز پبلک کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ طاہر القادری کی بیرون ملک پوزیشن کی معلومات طلب کر لی ہیں، لانگ مارچ ، بھارتی فوج اور افغان حکومت کی دھمکیاں ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں جس سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ مارچ عالمی سازش کا حصہ ہے۔

قادری پتلی تماشہ کر رہے ہیں، وہ شارٹ مارچ کے بجائے فاٹا کے عوام سے اظہار یکجہتی کریں۔ رحمٰن ملک نے کہا کہ بلیو ایریاکے جلسہ گاہ میں رات 12 بجے جب عوام ٹھٹھریں گے تو طاہر القادری کو عذاب عظیم ہو گا۔ دریں اثنا وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی ٹوپی اورحلیے پر تنقید پراپناموقف تبدیل کرلیا۔ پیر کو اسلام آباد میںمیڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے رحمٰن ملک نے طاہرالقادری کی ٹوپی پر کوئی بات کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہاکہ طاہرالقادری چھوٹی ٹوپی پہنیں یا بڑی، میں اس پرتبصرہ نہیں کروں گا لیکن اگر مجبورکیاگیاتوپھرضر ور بولوںگا۔

انھون نے کہا کہ لانگ مارچ کے شرکاء کو ڈنڈا اور پٹرول ساتھ لانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ شرکاء جتنا عرصہ چاہے دھرنا دے سکتے ہیں، لانگ مارچ ختم کرنے کی طاہر القادری نے ابھی تک کوئی ڈیڈ لائن نہیں دی۔ دریں اثناء لانگ مارچ کی مانیٹرنگ کیلیے وزارت داخلہ میں مرکزی سیل قائم کر دیا گیا، صدر آصف علی زرداری کووفاقی وزیر داخلہ سینیٹر رحمٰن ملک لانگ مارچ کی لمحہ بہ لمحہ صورتحال سے آگا ہ کرتے رہے۔ ذرائع کاکہنا ہے کہ صدرمملکت نے وزیرداخلہ کوسختی کے ساتھ حکم دیا ہے کہ ہر ممکن تعاون کی فضا پیداکرکے لانگ مارچ کے شرکا کومخصوص مقام سے آگے نہ جانے دیاجائے۔ مزید برآں وزیرداخلہ کی ہدایت پرمنہاج القرآن کی قیادت دباؤمیں رکھنے کیلیے ڈی جی ایف آئی اے لانگ مارچ کے اخراجات کے ذرائع بتانے کیلیے منہاج القران کی قیادت کو خط لکھیں گے۔


بعد ازاں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر الزمان کائرہ نے کہا ہے کہ گورنر راج آئین کے مطابق اور جمہوری اصول کیخلاف نہیں ہے، بلوچستان میں گورنر راج کا نفاذ تمام شراکت داروں اور سیاسی جماعتوں کی مشاورت کے بعد نافذکیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے پیر کو سرکاری ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ گورنر راج پرامن ماحول میں آئندہ دو ماہ میں عام انتخابات کے انعقاد کیلیے سازگار ماحول کی فراہمی میں مددگار ثابت ہوگا۔

کراچی میں امن وامان کی خراب صورتحال کے باعث سندھ میں گورنر راج کیلیے بعض حلقوں کے مطالبے پر انھوں نے کہا کہ کوئٹہ اور کراچی کی صورتحال میں کوئی موازنہ نہیں۔ کراچی کی صورتحال میں بہتری کیلیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ اس سوال پر کہ چیف جسٹس نے بلوچستان مسئلہ پر سوموٹو ایکشن کیوں نہیں لیا ؟وفاقی وزیر نے کہا کہ سپریم کورٹ صوبے میں امن وامان کی صورتحال کے حوالے سے مقدمے کی سماعت کر رہی ہے اور گورنر راج کے حوالے سے نوٹیفکیشن کیلئے کہا ہے، آئندہ سماعت کے دوران نوٹیفکیشن پیش کردیا جائیگا۔ قمر الزماں کائرہ نے کہا کہ ڈاکٹر طاہر القادری سیاسی قوت نہیں ہیں اور نہ ہی ان کی کوئی سیاسی جماعت ہے ، ان کا لانگ مارچ کوئی سیاسی سرگرمی نہیں۔ طاہر القادری نگراں حکومت کے لیے ماورائے آئین جانا چاہتے ہیں۔



نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہاکہ طاہر القادری کے مطابق الیکشن کمیشن ایک طاقتور ادارہ نہیں ہے اور اسے ختم کیا جانا چاہیے۔ کائرہ نے کہا کہ امیدواروں کی اہلیت اور نااہلیت کے بارے میں آئین کی شق 62 اور 63 پر عمل کیا جاتا ہے اور ان شقوں پر عمل صرف الیکشن کمیشن نے کرانا ہے۔ طاہر القادری ابھی تک یہ ایجنڈا کلیئر نہیں کر رہے اور وہ ایک بند گلی میں داخل ہو چکے ہیں۔

انھوں نے اب تک جو مطالبہ کیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ہی نگراں وزیراعظم بنایا جائے اور وہی یہ ایجنڈا نافذ کر سکتے ہیں۔ ملک ریاض کو بھجوانے کے فیصلے سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ ملک ریاض کو چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الٰہی ساتھ لے گئے مجھے اس بارے کوئی علم نہیں۔ مسلم لیگ (ق) کے اتحادی ہونے سے متعلق انھوں نے کہا کہ وہ ہمارے اتحادی ہیں لیکن میں ان کا ترجمان نہیں ہوں۔ دریں اثناہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ طاہرالقادری کے لانگ مارچ سے ہماری حکومت کوکوئی خطرہ نہیں ہے۔

پہلے ایوان صدرسازشوں کاگڑھ بنتاتھا اور ادارے ساتھ دیتے تھے اورکوئی سیاسی جماعت آلہ کار بنتی تھی مگر اب ایسی صورتحال نہیں ہے۔اگرطاہرالقادری کے نئے مطالبات آئین اورقانون کے مطابق ہوئے تو ان سے مذاکرات کیے جاسکتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ ہم سے ماورائے آئین اقدام کامطالبہ کیاجارہا ہے جب سے طاہرالقادری ملک آئے ہیں اور لاہور میں جلسہ کیا ہے ان کے مطالبات اورتقاضے بدلتے رہے ہیں۔

Recommended Stories

Load Next Story