شاہ زیب قتل کیس مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی نے دبئی میں گرفتاری دیدی

سکندر جتوئی کے بنگلوں اور فیکٹریوں کی سیل توڑ دی گئی، ملازمین نے جائیدادوں کا کنٹرول سنبھال لیا، پولیس کا اظہار لاعلمی

آئی جی سندھ نے گرفتاری کی تصدیق کردی، قانونی کارروائی مکمل کی جارہی ہے، ملزم کو لے کر آج کراچی پہنچ جائیں گے، نیاز کھوسو۔ فوٹو : فائل

شاہ زیب قتل کیس کے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی نے دبئی میں پاکستان کے قونصل خانہ میں گرفتاری پیش کردی ہے۔

آئی جی سندھ فیاض لغاری نے شاہ رخ جتوئی کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملزم قانونی کارروائی کی تکمیل کے بعد منگل تک پاکستان پہنچ جائے گا۔ دوسری جانب پولیس کی جانب سے سکندر جتوئی کے سیل کیے جانے والے بنگلوں اور فیکٹریوں کی سیل توڑ دی گئی ہے اور ملازمین نے ایک مرتبہ پھر جائیدادوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے لیکن پولیس نے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔


شاہ زیب قتل کیس کے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی نے دبئی میں پولیس حکام کو اپنی گرفتاری پیش کردی ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شاہ رخ جتوئی کے والد سکندر جتوئی کے مابین معاہدہ طے پاجانے کے بعد اتوار کی رات گئے سندھ پولیس کی ایک خصوصی ٹیم دبئی روانہ کی گئی تھی، پولیس کی جانب سے بے گناہی ثابت کرنے کا پورا موقع فراہم کیے جانے کی یقین دہانی کے بعد سکندر جتوئی نے اپنے بیٹے شاہ رخ جتوئی کو گرفتاری پیش کرنے پر آمادہ کرلیا تھا۔

سندھ پولیس کے سینئر افسر نیاز کھوسو نے دبئی سے بذریعہ ٹیلی فون ایکسپریسکو بتایا کہ شاہ رخ جتوئی نے ٹیلی فون پر ان سے رابطہ کیا تھا کہ وہ اپنی گرفتاری پیش کرنا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں اس نے خود پاکستانی قونصل خانے آنے کی پیشکش کی تھی انھوں نے بتایا کہ شاہ رخ جتوئی اپنی گرفتاری پیش کرچکا ہے اور اس کی پاکستان واپسی کیلیے ضروری قانونی کاغذی کارروائی مکمل کی جارہی ہے اور امکان ہے کہ منگل کو ملزم کو لے کر کراچی پہنچ جائیں گے۔

آئی جی سندھ فیاض لغاری نے بھی شاہ رخ جتوئی کی گرفتاری کی تصدیق کردی ہے ۔ گرفتاری سے قبل اسکائپ کے ذریعے ایک پیغام میں شاہ رخ جتوئی نے کہا کہ وہ اپنی گرفتاری اس لیے پیش کررہے ہیں کہ وہ بے گناہ ہیں اور وہ پاکستان آکر مقدمات کا سامنا کرکے اپنی بے گناہی ثابت کریںگے۔

Recommended Stories

Load Next Story