سیکریٹری دفاع پی آئی اے کاچیئرمین نہیں ہوسکتاچیف جسٹس

غلط کام ہوتارہاتودرست کرناچاہیے،تقرریوں کامعاملہ الگ کرنیکی استدعامسترد

فوٹو: آن لائن/ فائل

سپریم کورٹ نے پی آئی اے کے چیئرمین اور ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے نوٹیفکیشن طلب کرتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ سیکریٹری دفاع پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو نہیں ہوسکتے۔

پیر کو پی آئی اے میں بے ضابطگیوں اورکرپشن کے مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ سیکریٹری دفاع کو پی آئی اے کے چیئرمین کا اضافی چارج دیا گیا ہے جس پر عدالت نے حیرت کا اظہارکیا ۔چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کے مطابق سیکریٹری دفاع چیئر مین نہیں ہو سکتے۔


عدالت نے سیکریٹری دفاع آصف یاسین کو طلب کیا۔سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل عرفان قادر نے عدالت کو بتایا کہ ماضی میں بھی ایساہوتارہا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ اگر ماضی میں ایک غلط کام ہوتا رہا ہے تواس کو درست کرنا چاہیے۔



قومی مفاد میں یہ بات ہے کہ پی آئی اے کوکل وقتی افسران چلائیں،سیکریٹری دفاع آتے جاتے ہیں جبکہ چیئرمین کا عہدہ کل وقتی ہے۔عدالت نے پی آئی اے میں بے ضابطگیوں کے معاملے کو تقرریوںکے معاملے سے الگ کرنے کی اٹارنی جنرل کی استدعا مسترد کردی، چیف جسٹس نے کہا کہ ادارے کو یہی افسر چلاتے ہیں اس لیے انکی تقرری انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا وہ1957سے پی آئی اے میں سفرکررہے ہیں لیکن ادارے کی جوصورتحال اب ہے پہلے کبھی نہ تھی۔اٹارنی جنرل نے درخواست کی کہ ذاتی مشاہدے پراس کیس کونہ دیکھا جائے،مزید سماعت 24جنوری کو ہوگی۔
Load Next Story