ایٹمی جنگ کے خطرات
ہتھیاروں کی صنعت سے سرمایہ داروں کو اربوں ڈالرکا فائدہ ہو رہا ہے
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
سابق امریکی وزیردفاع ولیم جے پیرے نے کہا ہے کہ جوہری تباہی وبربادی کے بڑھتے ہوئے امکانات سے دنیا کو بچانے کے لیے عالمی برادری کی جانب سے ٹھوس کوششیں کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اپنی کتاب ''مائی جرنی ایٹ دی نیوکلیئر برنک'' کے چینی ایڈیشن پر سیمینار سے خطاب کے بعد چینی خبر رساں ایجنسی کو ایک انٹرویو میں انھوں نے جوہری سلامتی میں بہتری کے لیے بین الاقوامی کوششوں پر زور دیا۔
پیرے نے کہا کہ اس وقت سرد جنگ کے دوران کے مقابلے میں جوہری تباہی کے خطرات کا کہیں زیادہ امکان ہے۔ شکاگو میں قائم بلیٹن آف اٹامک سائنس نے جنوری میں علامتی تباہی کے دن کی گھڑی کو 64 برسوں میں اپنے قریب ترین وقت پر کر دیا ہے عالمی برادری دنیا بھرکے عوام کو بلاامتیاز جوہری تباہی اور بربادی کے خوف کے بغیر اپنی زندگیاں بسر کرنے کا موقع دینے کے لیے کام کرتی ہے۔
شمالی کوریا کے حکمرانوں نے کہا ہے کہ شمالی کوریا، امریکا کے ہر حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ شمالی کوریا کا موقف ہے کہ امریکا نے جنوبی کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس کر کے شمالی کوریا کے لیے جو خطرات پیدا کر دیے ہیں، اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہم نے بھرپور تیاری کر لی ہے۔ جنوبی کوریا سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے سرپرست امریکا کی گرفت میں ہے۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد جنگ جیتنے والی بڑی طاقتوں نے مفتوحہ علاقوں کو اپنی جاگیر سمجھ کر اس میں جس بندر بانٹ کا مظاہرہ کیا تھا، اس کے تحت شمالی کوریا کی سرپرستی روس کے حصے میں آئی تھی اور جنوبی کوریا کا باس امریکا بن گیا تھا۔ امریکا اور روس شمالی اور جنوبی کوریا کی ایک دوسرے کے خلاف پیٹھ ٹھونک رہے تھے۔ روس کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد اگرچہ امریکا اور روس یہ ذمے داری اس سرگرمی سے ادا نہیں کر رہے تھے جس طرح وہ سرد جنگ کے دوران کرتے رہے تھے لیکن اب بھی دونوں کوریا روس اور امریکا کو اپنا دوست اور اسٹریٹجک پارٹنر سمجھتے ہیں۔ جرمنی اور کوریا کی غیر فطری اور غیر اخلاقی تقسیم میں دونوں کوریاؤں کی مرضی کا دخل نہ تھا۔ یہ کریہہ کام دونوں ملکوں کے سرپرستوں نے دونوں ملکوں کے حکمرانوں کو ورغلا کر کیا تھا۔ کوریا کی طرح جرمنی کو بھی دو حصوں میں تقسیم کر کے ان انسان دشمنوں نے دیوار برلن کھڑی کر دی تھی چونکہ جرمنی کے عوام اس تقسیم کے خلاف تھے سو انھوں نے دیوار برلن کو ملیا میٹ کر کے جرمنی کو متحد کر دیا۔
شمالی اور جنوبی کوریا کا تعلق ایک ہی نسل کے لوگوں سے ہے اور اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ دونوں کوریا کے عوام جرمنی کی طرح تقسیم کی دیوار کو ڈھا کر پھر سے متحد ہونا چاہتے ہیں، لیکن بڑی طاقتیں اس اتحاد کی راہ میں فی الوقت رکاوٹ بنی ہوئی ہیں لیکن جلد یا بدیر جرمنی کی طرح کوریا بھی متحد ہو جائیں گے، جس کا منطقی نتیجہ ایٹمی ہتھیاروں کا مقابلہ نہیں بلکہ ملکی ترقی میں مقابلہ ہو گا۔ ان سارے جابرانہ اور احمقانہ فیصلوں کی بنیادی وجہ دونوں بلاکوں کا اقتصادی اور سیاسی نظام تھا اب جب کہ روسی بلاک کو توڑ دیا گیا ہے تو کوریا کی تقسیم اس لیے بے معنی ہو جاتی ہے کہ روسی بلاک نے بھی اب سرمایہ دارانہ معیشت کا چوغہ اوڑھ لیا ہے۔
لیکن جن ممالک میں اب تک کسی نہ کسی شکل میں سوشلسٹ نظام باقی ہے، ان میں شمالی کوریا شامل ہے۔ جہاں سرمایہ دارانہ برائیاں اور لوٹ کھسوٹ کا کلچر پس زنداں نظر آتا ہے، اس کے برخلاف جنوبی کوریا میں سرمایہ دارانہ نظام کی برائیاں اتنی شدید ہیں کہ جنوبی کوریا کی صدر کو کرپشن کے الزامات میں ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے اور جنوبی کوریا کے عوام اپنے صدرکی برطرفی پر خوشیاں منا رہے ہیں۔سابق امریکی وزیردفاع ولیم جے پیرے نے دنیا کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایٹمی جنگوں کے خطرے کے خلاف آواز اٹھائیں اور عالمی برادری بلاامتیاز مذہب و ملت جوہری تباہ کاریوں کے خوف کے بغیر عوام کو زندگی گزارنے کا موقع دیں۔
جوہری ہتھیاروں کی تیاری اورذخیرہ اندوزی دنیا کے ملکوں میں عدم اعتماد اور خوف کا نتیجہ ہے اس کی دوسری بڑی وجہ ہتھیاروں کی صنعت میں مقابلہ بازی ہے۔ دنیا کے ملکوں میں عدم اعتماد اور خوف کی بڑی وجہ ملک و ملت کے حوالے سے انسانوں کی تقسیم ہے۔ اس حوالے سے تقسیم ہونے والے ملکوں کی قیادت کے ہاتھوں میں سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرستوں نے ''قومی مفاد'' کا علم پکڑا دیا ہے۔ آج ساری دنیا میں جو عدم اعتماد، خوف اورجنگوں کا کلچر نظر آ رہا ہے۔ اس کے پیچھے وہ قومی مفادات کا فلسفہ ہے جس نے انسانوں اور قوموں کے اجتماعی مفادات کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ ان منصوبہ سازوں نے طاقت کے توازن کا ایک شاطرانہ تصور پیدا کر کے ہر ملک کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ ہتھیاروں کی دوڑ میں آنکھ بند کر کے شامل ہو جائے۔ قومی مفادات اور طاقت کے توازن کے نام پر دنیا کے ہر ملک کو ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل کر دیا گیا ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرست ہر ملک میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے علاقائی مسائل پیدا کرنے کے ایک منصوبہ بند پروگرام پر عمل پیرا ہیں تا کہ ہر ملک دوسرے ملک سے خوفزدہ رہے اور ہتھیاروں کے انبار میں اضافے کی کوشش کرے۔ ہتھیاروں کی صنعت سے سرمایہ داروں کو اربوں ڈالرکا فائدہ ہو رہا ہے۔ علاقائی تنازعات کی وجہ سے پسماندہ ترین ممالک بھی ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہو رہے ہیں۔ بھارت اور پاکستان جیسے غریب ترین ملک بھی ایٹمی طاقت بن گئے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر کے مسئلے کی وجہ سے تین جنگیں ہو چکی ہیں۔
اب چونکہ یہ دونوں غریب ملک ایٹمی ملک بن چکے ہیں لہٰذا ان کے درمیان اگر کوئی جنگ ہو گی تو اس میں ایٹمی ہتھیار استعمال ہو سکتے ہیں۔ امریکا کے سابق وزیردفاع اگر دنیا کو ایٹمی جنگ سے بچانے میں مخلص ہیں تو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری پر پابندی اور بلاامتیاز ایٹمی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے لیے رائے عامہ کو بیدار اور ہموارکریں خاص طور پر ترقی یافتہ ملکوں کے عوام کو ایٹمی ہتھیار تلف کرنے کے لیے آواز اٹھانے کے لیے تیار رہیں۔
پیرے نے کہا کہ اس وقت سرد جنگ کے دوران کے مقابلے میں جوہری تباہی کے خطرات کا کہیں زیادہ امکان ہے۔ شکاگو میں قائم بلیٹن آف اٹامک سائنس نے جنوری میں علامتی تباہی کے دن کی گھڑی کو 64 برسوں میں اپنے قریب ترین وقت پر کر دیا ہے عالمی برادری دنیا بھرکے عوام کو بلاامتیاز جوہری تباہی اور بربادی کے خوف کے بغیر اپنی زندگیاں بسر کرنے کا موقع دینے کے لیے کام کرتی ہے۔
شمالی کوریا کے حکمرانوں نے کہا ہے کہ شمالی کوریا، امریکا کے ہر حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ شمالی کوریا کا موقف ہے کہ امریکا نے جنوبی کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس کر کے شمالی کوریا کے لیے جو خطرات پیدا کر دیے ہیں، اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہم نے بھرپور تیاری کر لی ہے۔ جنوبی کوریا سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے سرپرست امریکا کی گرفت میں ہے۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد جنگ جیتنے والی بڑی طاقتوں نے مفتوحہ علاقوں کو اپنی جاگیر سمجھ کر اس میں جس بندر بانٹ کا مظاہرہ کیا تھا، اس کے تحت شمالی کوریا کی سرپرستی روس کے حصے میں آئی تھی اور جنوبی کوریا کا باس امریکا بن گیا تھا۔ امریکا اور روس شمالی اور جنوبی کوریا کی ایک دوسرے کے خلاف پیٹھ ٹھونک رہے تھے۔ روس کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد اگرچہ امریکا اور روس یہ ذمے داری اس سرگرمی سے ادا نہیں کر رہے تھے جس طرح وہ سرد جنگ کے دوران کرتے رہے تھے لیکن اب بھی دونوں کوریا روس اور امریکا کو اپنا دوست اور اسٹریٹجک پارٹنر سمجھتے ہیں۔ جرمنی اور کوریا کی غیر فطری اور غیر اخلاقی تقسیم میں دونوں کوریاؤں کی مرضی کا دخل نہ تھا۔ یہ کریہہ کام دونوں ملکوں کے سرپرستوں نے دونوں ملکوں کے حکمرانوں کو ورغلا کر کیا تھا۔ کوریا کی طرح جرمنی کو بھی دو حصوں میں تقسیم کر کے ان انسان دشمنوں نے دیوار برلن کھڑی کر دی تھی چونکہ جرمنی کے عوام اس تقسیم کے خلاف تھے سو انھوں نے دیوار برلن کو ملیا میٹ کر کے جرمنی کو متحد کر دیا۔
شمالی اور جنوبی کوریا کا تعلق ایک ہی نسل کے لوگوں سے ہے اور اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ دونوں کوریا کے عوام جرمنی کی طرح تقسیم کی دیوار کو ڈھا کر پھر سے متحد ہونا چاہتے ہیں، لیکن بڑی طاقتیں اس اتحاد کی راہ میں فی الوقت رکاوٹ بنی ہوئی ہیں لیکن جلد یا بدیر جرمنی کی طرح کوریا بھی متحد ہو جائیں گے، جس کا منطقی نتیجہ ایٹمی ہتھیاروں کا مقابلہ نہیں بلکہ ملکی ترقی میں مقابلہ ہو گا۔ ان سارے جابرانہ اور احمقانہ فیصلوں کی بنیادی وجہ دونوں بلاکوں کا اقتصادی اور سیاسی نظام تھا اب جب کہ روسی بلاک کو توڑ دیا گیا ہے تو کوریا کی تقسیم اس لیے بے معنی ہو جاتی ہے کہ روسی بلاک نے بھی اب سرمایہ دارانہ معیشت کا چوغہ اوڑھ لیا ہے۔
لیکن جن ممالک میں اب تک کسی نہ کسی شکل میں سوشلسٹ نظام باقی ہے، ان میں شمالی کوریا شامل ہے۔ جہاں سرمایہ دارانہ برائیاں اور لوٹ کھسوٹ کا کلچر پس زنداں نظر آتا ہے، اس کے برخلاف جنوبی کوریا میں سرمایہ دارانہ نظام کی برائیاں اتنی شدید ہیں کہ جنوبی کوریا کی صدر کو کرپشن کے الزامات میں ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے اور جنوبی کوریا کے عوام اپنے صدرکی برطرفی پر خوشیاں منا رہے ہیں۔سابق امریکی وزیردفاع ولیم جے پیرے نے دنیا کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایٹمی جنگوں کے خطرے کے خلاف آواز اٹھائیں اور عالمی برادری بلاامتیاز مذہب و ملت جوہری تباہ کاریوں کے خوف کے بغیر عوام کو زندگی گزارنے کا موقع دیں۔
جوہری ہتھیاروں کی تیاری اورذخیرہ اندوزی دنیا کے ملکوں میں عدم اعتماد اور خوف کا نتیجہ ہے اس کی دوسری بڑی وجہ ہتھیاروں کی صنعت میں مقابلہ بازی ہے۔ دنیا کے ملکوں میں عدم اعتماد اور خوف کی بڑی وجہ ملک و ملت کے حوالے سے انسانوں کی تقسیم ہے۔ اس حوالے سے تقسیم ہونے والے ملکوں کی قیادت کے ہاتھوں میں سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرستوں نے ''قومی مفاد'' کا علم پکڑا دیا ہے۔ آج ساری دنیا میں جو عدم اعتماد، خوف اورجنگوں کا کلچر نظر آ رہا ہے۔ اس کے پیچھے وہ قومی مفادات کا فلسفہ ہے جس نے انسانوں اور قوموں کے اجتماعی مفادات کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ ان منصوبہ سازوں نے طاقت کے توازن کا ایک شاطرانہ تصور پیدا کر کے ہر ملک کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ ہتھیاروں کی دوڑ میں آنکھ بند کر کے شامل ہو جائے۔ قومی مفادات اور طاقت کے توازن کے نام پر دنیا کے ہر ملک کو ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل کر دیا گیا ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرست ہر ملک میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے علاقائی مسائل پیدا کرنے کے ایک منصوبہ بند پروگرام پر عمل پیرا ہیں تا کہ ہر ملک دوسرے ملک سے خوفزدہ رہے اور ہتھیاروں کے انبار میں اضافے کی کوشش کرے۔ ہتھیاروں کی صنعت سے سرمایہ داروں کو اربوں ڈالرکا فائدہ ہو رہا ہے۔ علاقائی تنازعات کی وجہ سے پسماندہ ترین ممالک بھی ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہو رہے ہیں۔ بھارت اور پاکستان جیسے غریب ترین ملک بھی ایٹمی طاقت بن گئے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر کے مسئلے کی وجہ سے تین جنگیں ہو چکی ہیں۔
اب چونکہ یہ دونوں غریب ملک ایٹمی ملک بن چکے ہیں لہٰذا ان کے درمیان اگر کوئی جنگ ہو گی تو اس میں ایٹمی ہتھیار استعمال ہو سکتے ہیں۔ امریکا کے سابق وزیردفاع اگر دنیا کو ایٹمی جنگ سے بچانے میں مخلص ہیں تو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری پر پابندی اور بلاامتیاز ایٹمی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے لیے رائے عامہ کو بیدار اور ہموارکریں خاص طور پر ترقی یافتہ ملکوں کے عوام کو ایٹمی ہتھیار تلف کرنے کے لیے آواز اٹھانے کے لیے تیار رہیں۔