عالمی بینک کا پاکستان میں غذائیت کی کمی پر پروگرام
پاکستان خصوصاً سندھ میں غذائیت کی کمی کے معاملے پر عالمی بینک کا کردار قابل تعریف ہے
فوٹو: فائل
پاکستان کے بعض علاقوں میں غذائیت کی کمی پر متوشش عالمی بینک نے اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے پروگرام شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس سلسلے میں شنید ہے کہ عالمی بینک کے اشتراک سے سندھ کے دو اضلاع عمرکوٹ اور تھرپارکر میں ماں اور بچوں میں غذائیت کی کمی کے خاتمے کے لیے پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا جائے گا، مذکورہ پروجیکٹ میں حاملہ خواتین اور بچوں کی پیدائش کے دو سال تک خواتین کی مدد و معاونت کی جائے گی جب کہ دوسرے مرحلے میں پروجیکٹ کو مزید دو اضلاع میں وسعت دی جائے گی۔
پاکستان خصوصاً سندھ میں غذائیت کی کمی کے معاملے پر عالمی بینک کا کردار قابل تعریف ہے، امید ہے کہ مستقبل میں بھی یہ معاونت جاری رکھی جائے گی۔ دوسری جانب یونیسیف اور حکومت سندھ کے سروے میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ سندھ میں 5 سال سے کم عمر بچے غذائیت کی کمی کا شکار ہیں۔ مذکورہ سروے میں بچوں میں وزن اور غذائیت کی کمی کی کئی وجوہات میں قبل از وقت پیدائش کی شرح کا بہت زیادہ ہونا، چھوٹی عمر میں شادیوں کے نتیجے میں بچوں کی پیدائش، وقفہ نہ ہونا، زیادہ بچے، جب کہ صاف پانی، صفائی، باتھ روم نہ ہونا اور مختلف بیماریوں سمیت دیگر وجوہ شامل ہیں۔
یہ امر بھی لائق تشویش ہے کہ صوبے میں 29 فیصد بچوں کو 6 ماہ کی عمر تک مائیں اپنا دودھ نہیں پلاتیں، صرف 21 فیصد بچوں کو مائیں پیدائش کے فوراً بعد اپنا دودھ پلاتی ہیں جب کہ 30 فیصد نومولود بچوں کا وزن پیدائش کے وقت مقررہ حد سے کم ہوتا ہے جسے پورا کرنے کے لیے حکومتی اداروں کی جانب سے اقدامات کی ضرورت ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے 9 اضلاع میں جو نیوٹریشن سپورٹ پروگرام چلایا جارہا ہے اس کے تحت اب تک 4 لاکھ 51 ہزار 138بچوں کی اسکریننگ کی گئی ہے جن میں سے 6 ہزار بچوں میں غذائیت کی شدید کمی پائی گئی۔ غذائیت کی کمی کے باعث بچوں میں بہت سے جسمانی عوارض پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔
دوسری جانب صحت کی سہولتوں کے فقدان کے باعث یہ بچے عمر بھر معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ غذائیت کی کمی کا مسئلہ آج کا نہیں یہ گزشتہ کئی دہائیوں سے چلا آ رہا ہے، افسوسناک امر یہ ہے کہ ترقی اور خوشحالی کے دعویدار حکمرانوں نے اس جانب توجہ نہیں دی۔ملک کی ترقی کے لیے صحت مند قوم کا ہونا لازم ہے، نسل نو کی صحت کا خیال رکھ کر ہی ایک مستحکم ملک اور صحت مند مستقبل کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو غذائیت کی کمی کے اس سنگین مسئلے کی جانب فوری اپنی توجہ مبذول کرنا ہوگی، جاری پروجیکٹس کے ساتھ موثر اور فوری لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کے مستقبل کو محفوظ کیا جاسکے۔ صحت و تعلیم کی فراہمی ریاست کی اولین ذمے داری اور عوام کا حق ہے، اس جانب کوئی کوتاہی نہ برتی جائے۔
پاکستان خصوصاً سندھ میں غذائیت کی کمی کے معاملے پر عالمی بینک کا کردار قابل تعریف ہے، امید ہے کہ مستقبل میں بھی یہ معاونت جاری رکھی جائے گی۔ دوسری جانب یونیسیف اور حکومت سندھ کے سروے میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ سندھ میں 5 سال سے کم عمر بچے غذائیت کی کمی کا شکار ہیں۔ مذکورہ سروے میں بچوں میں وزن اور غذائیت کی کمی کی کئی وجوہات میں قبل از وقت پیدائش کی شرح کا بہت زیادہ ہونا، چھوٹی عمر میں شادیوں کے نتیجے میں بچوں کی پیدائش، وقفہ نہ ہونا، زیادہ بچے، جب کہ صاف پانی، صفائی، باتھ روم نہ ہونا اور مختلف بیماریوں سمیت دیگر وجوہ شامل ہیں۔
یہ امر بھی لائق تشویش ہے کہ صوبے میں 29 فیصد بچوں کو 6 ماہ کی عمر تک مائیں اپنا دودھ نہیں پلاتیں، صرف 21 فیصد بچوں کو مائیں پیدائش کے فوراً بعد اپنا دودھ پلاتی ہیں جب کہ 30 فیصد نومولود بچوں کا وزن پیدائش کے وقت مقررہ حد سے کم ہوتا ہے جسے پورا کرنے کے لیے حکومتی اداروں کی جانب سے اقدامات کی ضرورت ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے 9 اضلاع میں جو نیوٹریشن سپورٹ پروگرام چلایا جارہا ہے اس کے تحت اب تک 4 لاکھ 51 ہزار 138بچوں کی اسکریننگ کی گئی ہے جن میں سے 6 ہزار بچوں میں غذائیت کی شدید کمی پائی گئی۔ غذائیت کی کمی کے باعث بچوں میں بہت سے جسمانی عوارض پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔
دوسری جانب صحت کی سہولتوں کے فقدان کے باعث یہ بچے عمر بھر معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ غذائیت کی کمی کا مسئلہ آج کا نہیں یہ گزشتہ کئی دہائیوں سے چلا آ رہا ہے، افسوسناک امر یہ ہے کہ ترقی اور خوشحالی کے دعویدار حکمرانوں نے اس جانب توجہ نہیں دی۔ملک کی ترقی کے لیے صحت مند قوم کا ہونا لازم ہے، نسل نو کی صحت کا خیال رکھ کر ہی ایک مستحکم ملک اور صحت مند مستقبل کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو غذائیت کی کمی کے اس سنگین مسئلے کی جانب فوری اپنی توجہ مبذول کرنا ہوگی، جاری پروجیکٹس کے ساتھ موثر اور فوری لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کے مستقبل کو محفوظ کیا جاسکے۔ صحت و تعلیم کی فراہمی ریاست کی اولین ذمے داری اور عوام کا حق ہے، اس جانب کوئی کوتاہی نہ برتی جائے۔