اے ڈی خواجہ کو ہٹانے کے خلاف سندھ حکومت کو توہین عدالت کا نوٹس
اے ڈی خواجہ کو عہدے سے ہٹائے جانے کا نوٹیفکیشن آج واپس نہ لیا تو ذمے داران کے خلاف سندھ ہائیکورٹ جائیں گے۔
اے ڈی خواجہ کو عہدے سے ہٹائے جانے کا نوٹیفکیشن آج واپس نہ لیا تو ذمے داران کے خلاف سندھ ہائیکورٹ جائیں گے۔ فوٹو: فائل
بیرسٹر فیصل صدیقی نے آئی جی سندھ ای ڈی خواجہ کوعہدے سے ہٹانے کیخلاف سندھ حکومت کو توہین عدالت کا لیگل نوٹس بھیج دیا ہے۔
نوٹس میں چیف سیکریٹری سندھ کو کہا گیا ہے کہ اگر انھوں نے اے ڈی خواجہ کو عہدے سے ہٹائے جانے کا نوٹیفکیشن (آج) بروز اتوار 2 اپریل 2017 کو واپس نہ لیا تو ذمے داران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لیے سندھ ہائیکورٹ جائیں گے۔
لیگل نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ عدالت عالیہ کے حکم امتناع کے باوجود اے ڈی خواجہ کو ان کے عہدے سے ہٹاکر توہین عدالت کا ارتکاب کیا گیا ہے جبکہ لیگل نوٹس میں اے ڈی خواجہ کو بھی تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر انھوں نے سندھ حکومت کے حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے عہدہ کا چھوڑا تو وہ بھی توہین عدالت کے مرتکب ہوں گے جبکہ قائم مقام آئی جی سندھ کا عارضی طور پر چارج سنھبالنے والے سردار عبدالمجید دستی کو بھی لیگل نوٹس میں فریق بناتے ہوئے ان سے کہا گیا ہے کہ وہ بھی سندھ حکومت کے حکم کو ماننے سے باز رہیں۔
نوٹس میں چیف سیکریٹری سندھ کو کہا گیا ہے کہ اگر انھوں نے اے ڈی خواجہ کو عہدے سے ہٹائے جانے کا نوٹیفکیشن (آج) بروز اتوار 2 اپریل 2017 کو واپس نہ لیا تو ذمے داران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لیے سندھ ہائیکورٹ جائیں گے۔
لیگل نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ عدالت عالیہ کے حکم امتناع کے باوجود اے ڈی خواجہ کو ان کے عہدے سے ہٹاکر توہین عدالت کا ارتکاب کیا گیا ہے جبکہ لیگل نوٹس میں اے ڈی خواجہ کو بھی تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر انھوں نے سندھ حکومت کے حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے عہدہ کا چھوڑا تو وہ بھی توہین عدالت کے مرتکب ہوں گے جبکہ قائم مقام آئی جی سندھ کا عارضی طور پر چارج سنھبالنے والے سردار عبدالمجید دستی کو بھی لیگل نوٹس میں فریق بناتے ہوئے ان سے کہا گیا ہے کہ وہ بھی سندھ حکومت کے حکم کو ماننے سے باز رہیں۔