گدی نشینی کے تنازعہ کا ہولناک انجام

یہ مزار پیر محمد علی گجر کے نام سے منسوب ہے اور اسے آستانہ پیر علی محمد قلندر بھی کہا جاتا ہے

۔ فوٹو: اے ایف پی

پنجاب کے ضلع سرگودھا کے نواحی گاؤں میں واقع ایک بزرگ کی درگاہ کی گدی نشینی کے تنازعہ پر 20افراد کو قتل کر دیا گیا ہے' اطلاعات کے مطابق اس سانحہ کا مرکزی کردار درگاہ کا متولی ہے اور اس نے اپنے ساتھیوں یا عقیدت مندوں کے تعاون سے قتل کی یہ ہولناک واردات کی ہے۔ پولیس نے درگاہ کے متولی عبدالوحید اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا ہے' اطلاعات کے مطابق ملزم نے اعتراف جرم کیا ہے۔

اس سانحہ کا مقدمہ پولیس اہلکار کی مدعیت میں چار افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے یعنی جو افراد قتل ہوئے ہیں' ان کے لواحقین نے مقدمہ درج نہیں کرایا۔ مقدمے میں دہشت گردی اور قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ 20افراد کے قتل کا یہ سانحہ کیوں اور کیسے ہوا' اس کے پس پردہ اصل محرکات تو حتمی پولیس تفتیش کے بعد ہی سامنے آئیں گے لیکن میڈیا میں آنے والی اطلاعات سے یہی نظر آتا ہے کہ اس سفاکانہ واردات کی تہہ میں گدی نشینی کا تنازعہ ہی کارفرما ہے کیونکہ قتل ہونے والوں میں صاحب مزار کا بیٹا بھی شامل ہے۔ مقتول آصف پولیس ملازم ہے اور اسلام آباد میں تعینات تھا اور وہ 25اپریل تک چھٹیوں پر تھا۔

یہ مزار پیر محمد علی گجر کے نام سے منسوب ہے اور اسے آستانہ پیر علی محمد قلندر بھی کہا جاتا ہے' جو سرگودھا کے تھانہ کینٹ کی حدود میں گاؤں چک 95شمالی میں ہے۔ ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ دربار کے متولی عبدالوحید اور صاحب دربار پیر علی محمد گجر کے خاندان میں گدی نشینی کا تنازع چل رہا تھا، اسی سلسلے میں عبدالوحید نے پنچایت بلائی تھی، متولی نے اپنے مرشد پیر علی محمد گجر کے اکلوتے بیٹے آصف کوبھی اسلام آباد سے بلایا ہوا تھا۔

ملزم عبدالوحید اور آصف دونوں گدی نشینی کے خواہشمند تھے اور اس تنازع کے حل کے لیے پنچایت بلائی گئی تھی۔ جیسے جیسے لوگ آتے رہے تو انھیں دربار کے ساتھ متصل مکان میں لے جا کر نشہ آور شے پلائی گئی اور پھر قتل کیا جاتا رہا، ملزم عبدالوحید نے اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے شک تھا کہ مقتول افراد اسے زہر دینا چاہتے ہیں، اس نے تمام افراد کو پہلے نشہ آور چیز پلائی اور پھر ساتھیوں سے مل کر ڈنڈوں اور خنجروں کے وار کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔


دورانِ تفتیش ملزم نے پولیس کو بتایا کہ مریدوں کو اس شک میں قتل کیا ہے کہ وہ 2 سال پہلے انتقال کر جانے والے اس کے پیر کو زہر دینے کی سازش کا حصہ تھے اور شبہ تھا کہ اب اسے بھی زہر دینے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے، اگر میں مریدوں کو نہ مارتا تو وہ مجھے مار دیتے کیونکہ یہ لوگ مجھے درگاہ کی گدی نشینی سے ہٹا کر قتل کرنا چاہتے تھے، جیسے ہی مجھے اس بات کا علم ہوا تو میں نے ساتھیوں سے ملکر کر ان کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

سرگودھا کے ایک گاؤں کی درگاہ پر قتل و غارت کا واقعہ انتہائی افسوسناک اور دلخراش ہے' تنازعہ خواہ گدی نشینی کا ہو یا جائیداد کا' قانون کسی کو قتل کی اجازت نہیں دیتا۔ جس شخص نے 20افراد کے قتل کا منصوبہ تیار کیا اور خود بھی اس واردات میں شامل ہوا' وہ ایک سرکاری افسر بھی رہا ہے' اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ تعلیم یافتہ شخص تھا' قتل ہونے والوں کی تفصیلات سے بھی پتہ چلتا ہے کہ ان میں بعض ایسے افراد بھی تھے جو تعلیمی یافتہ تھے' یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ 20افراد ایک ایک کر کے قتل کر دیے گئے اور حجرے کے باہر یا اندر موجود افراد کو پتہ بھی نہیں چلا' کسی نے مزاحمت بھی نہیں کی' یہ اسرار ابھی تک موجود ہے۔

گدی نشینی پر تنازعات ہوتے رہتے ہیں لیکن سرگودھا میں جو کچھ ہوا یہ اپنی نوعیت کا انوکھا واقعہ ہے' اخبارات میں مقامی پولیس ذرایع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ متولی عبدالوحید نے 24گھنٹوںکے دوران صاحب مزار کے عقیدت مندوں کو دو اور تین کی تعداد میں بلایا اور اپنے ساتھیوں کی مدد سے قتل کیا' آمد کے وقت انھیں جو چیز کھلائی یا پلائی گئی' اس میں نشہ شامل کیا گیا جس کے باعث وہ ہواس میں نہیں تھے' یوں انھوں نے مزاحمت نہیں کی اور متولی کے ساتھوں نے انھیں ڈنڈوں اور خنجروں سے قتل کر دیا۔

یہ بڑی دل دہلا دینے والی تفصیلات ہیں' وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اس واردات کا نوٹس لیا ہے اور ان کی ہدایت پر صوبائی وزیر اوقاف سید زعیم حسین قادری بھی جائے وقوع پر پہنچے۔ وہاں انھوں نے کہا کہ درگاہ پیر علی محمد گجر محکمہ اوقاف کے زیرانتظام نہیں تھی' انھوں نے کہا کہ جعلی پیروں اور تعویز گنڈا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ بلاشبہ اس واردات کے ملزمان کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ مزارات اور درگاہوں کے انتظامات اور گدی نشینی کے حوالے سے محکمہ اوقاوف کو متحرک کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسی کوئی واردات نہ ہوسکے۔

 
Load Next Story