تھیٹر کی بحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کا آغاز
کراچی اسٹیج کے فنکاروں کو چاہیے کہ وہ تھیٹر کو بچانے اور اسے زندہ رکھنے میںسنجیدگی سے غور کریں۔
کراچی کے عوام کو اچھے اور معیاری تھیٹر کے ذریعہ واپس لایا جاسکتا ہے، اقبال موٹلانی۔ فوٹو : فائل
تھیٹر کے حوالے پہلی کتاب تحریر کرنے والے کراچی اسٹیج ڈراموں کے معروف اداکار ہدایتکار اقبال موٹلانی نے کراچی تھیٹر کی موجودہ صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہم نے تھیٹر کے لیے بہت زیادہ قربانیاں دی ہیں۔
لیکن آج جو صورت حال ہے اسے دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کراچی اسٹیج کے لیے سب سے زیادہ جدوجہد کی انھوں نے ہر مشکل دور میں اور حالات میں اسٹیج ڈرامہ کیا ،انھوں تھیٹر کو زندہ رکھنے کے لیے کراچی میں تھیٹر آڈیٹوریم قائم کیا لیکن کسی نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ یہ بات انھوں نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے کہی،انھوں نے کہ میری شناخت تھیٹر ہے اور میں تھیٹر کی اس صورت حال سے بہت پریشان ہوں۔
میری خواہش ہے کہ کراچی میں تھیٹر تسلسل کے ساتھ ہوتا رہے،اسی بات کے پیش نظر میں نے سید فرقان حیدر کے ساتھ کچھ پروجیکٹ پر کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ جلد ہم ایک ڈرامہ اسٹیج کریں گے جس کی تیاری جاری ہے خاص طور کراچی اسٹیج کے فنکاروں کو چاہیے کہ وہ تھیٹر کو بچانے اور اسے زندہ رکھنے میںسنجیدگی سے غور کریں کیونکہ کراچی کے عوام سستی تفریح کو ترس گئے ہیں انھیں اچھے اور معیاری تھیٹر کے ذریعہ واپس لایا جاسکتا ہے ۔
لیکن آج جو صورت حال ہے اسے دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کراچی اسٹیج کے لیے سب سے زیادہ جدوجہد کی انھوں نے ہر مشکل دور میں اور حالات میں اسٹیج ڈرامہ کیا ،انھوں تھیٹر کو زندہ رکھنے کے لیے کراچی میں تھیٹر آڈیٹوریم قائم کیا لیکن کسی نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ یہ بات انھوں نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے کہی،انھوں نے کہ میری شناخت تھیٹر ہے اور میں تھیٹر کی اس صورت حال سے بہت پریشان ہوں۔
میری خواہش ہے کہ کراچی میں تھیٹر تسلسل کے ساتھ ہوتا رہے،اسی بات کے پیش نظر میں نے سید فرقان حیدر کے ساتھ کچھ پروجیکٹ پر کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ جلد ہم ایک ڈرامہ اسٹیج کریں گے جس کی تیاری جاری ہے خاص طور کراچی اسٹیج کے فنکاروں کو چاہیے کہ وہ تھیٹر کو بچانے اور اسے زندہ رکھنے میںسنجیدگی سے غور کریں کیونکہ کراچی کے عوام سستی تفریح کو ترس گئے ہیں انھیں اچھے اور معیاری تھیٹر کے ذریعہ واپس لایا جاسکتا ہے ۔