نوکوٹ افسران کی ملی بھگت سے ریلوے کی سیکڑوں ایکڑ اراضی پر قبضہ

ریلوے کی قیمتی اراضی کی غیر قانونی خرید و فروخت میں ریلوے کے مقامی ملازم براہ راست ملوث ہیں

متعدد افراد نے لینڈ مافیا سے ریلوے اسٹیشن نوکوٹ کی بلڈنگ کرائے پر لے لی جبکہ اسٹیشن کی بلڈنگ میں با اثر ٹھیکیداروں نے اپنے گودام اور گیراج قائم کر لیے ہیں۔ فوٹو: فائل

نوکوٹ میں لینڈ مافیا ایک بار پھر سرگرم ہوگئی ، ریلوے کی سیکڑوں ایکڑ اراضی کی غیر قانونی طریقے سے خرید و فروخت شروع کر دی ہے۔

متعدد افراد نے لینڈ مافیا سے ریلوے اسٹیشن نوکوٹ کی بلڈنگ کرائے پر لے لی جبکہ اسٹیشن کی بلڈنگ میں با اثر ٹھیکیداروں نے اپنے گودام اور گیراج قائم کر لیے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان ریلوے موجودہ حکومت اور اعلیٰ حکام کی نا اہلی کی وجہ سے بحرانوں کا شکار تو ہے ہی اور ریلوے حکام نے ضلع میرپورخاص کی میٹر گیج لائن کی ٹرینوں کے ریلوے اسٹیشنوں اور لاکھوں ایکڑ اراضی کو نظر انداز کرتے ہوئے لاوارث حالت میں چھوڑ دیا ہے جس کے باعث نوکوٹ ریلوے کے فوڈ گودام مالہی محلہ بلوچ محلہ اور ریلوے کوارٹر کے آس پاس زمینوں پر بڑے پیمانے پر لینڈ مافیا قابض ہو چکی ہے جبکہ با اثر قبضہ مافیا نے سیکڑوں ایکڑ اراضی پر ناجائز پلاٹنگ کر کے مقامی افراد کو قیمتی زمین20 سے30 ہزار روپے میں فروخت کر دی ہے جس پر پختہ تعمیر شروع کر دی گئی ہے۔




یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ریلوے کی قیمتی اراضی کی غیر قانونی خرید و فروخت میں ریلوے کے مقامی ملازم براہ راست ملوث ہیں جبکہ ریلوے کی حدود کے تعین کیلیے پول کے ذریعے نشانات بھی نصب ہیں، مگر مقامی افراد نے نشانات نظرانداز کر دیے ہیں۔ سیاسی و سماجی رہنماؤں نے چیف جسٹس پاکستان سے اپیل کی ہے کہ ریلوے اراضی پر لینڈ مافیا اور مقامی افراد کی بندر بانٹ کا نوٹس لے کر ملک کی قیمتی املاک کو بچایا جائے۔
Load Next Story